آروشی تلوار کے والدین بیٹی کے قتل کے الزام سے بری

آروشی کے والدین تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس دہرے قتل کے بعد انڈیا بھر میں سنسنی پھیل گئی تھی

الہ آباد ہائی کورٹ نے نو برس قبل دلی کے نواحی علاقے نوئیڈا میں ہلاک کی جانے والی لڑکی آروشی تلوار کے والدین کو اپنی بیٹی کے قتل کے الزام سے بری کر دیا ہے۔

عدالت کا کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر راجیش تلوار اور نوپُر تلوار کو یہ کہہ کر بری کیا کہ تفتیش کار یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ انھوں نے ہی اپنی بیٹی کو قتل کیا تھا۔

٭ آروشی کیس: 'ماں باپ ہی اکلوتی بیٹی اور ملازم کے قاتل'

٭ آروشی کا قتل، نوپر تلوار کی گرفتاری

عدالت نے کہا کہ سی بی آئی نے واقعاتی شواہد کی بنیاد پر تفتیش کی تھی لیکن جو ثبوت پیش کیے گئے ان سے وہ آروشی کے قتل میں ان کے والدین کے ملوث ہونا ثابت نہیں کر سکے۔

عدالت نے کہا کہ 'محض شبہے کی بنیاد پر کسی کو مجرم نہیں قرار دیا جا سکتا'۔

راجیش اور نوپُر فیصلے کے وقت جیل میں تھے۔ جیل کے پولیس سپریٹنڈنٹ کے مطابق فیصلے پر انھوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 'آج ہمیں انصاف مل گیا۔'

یہ بھی پڑھیے

بیوی زندہ مگر شوہر قتل کے الزام میں جیل میں

انڈیا میں 'بےباک' اور نڈر خاتون صحافی قتل

انڈیا میں لڑکی کی ’قربانی‘ پر تین افراد گرفتار


دلی میں ہمارے نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق ذیلی عدالت نے 14 سالہ آروشی اور گھریلو خادم ہیمراج کے دہرے قتل کے جرم میں 2013 میں آروشی کے والدین کو مجرم قرار دیا تھا اور انھیں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

اس فیصلے کے خلاف آروشی کے والدین نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ FIZA
Image caption آروشی کی لاش ان کے کمرے سے ملی تھی (فائل فوٹو)

ہوا کیا تھا؟

16 مئی 2008 کو دلی کے نواحی شہر نوئیڈا کے ایک مکان میں آروشی کی لاش ان کے کمرے میں ملی تھی۔ تفتیش شروع ہوئی اور اگلے دن ان کے گھریلو خادم ہیمراج کی لاش مکان کی چھت پر ملی تھی۔

ابتدا میں اتر پردیش میں پولیس نے اس سنسی خیز دہرے قتل کے معاملے کو حل کرنے کا دعویٰ کیا اور ڈاکٹر راجیش تلوار کے نوکروں کو مشتبہ ٹھہرایا۔

تاہم بعد میں پولیس نے اسے غیرت کے نام پر قتل قرار دے کر کہا کہ آروشی کے والد نے ہیمراج کو آروشی کے ساتھ اس کے کمرے میں 'قابل اعتراض حالت میں پایا' اور طیش میں انھوں نے اپنی بیٹی اور ملازم دونوں کو قتل کر دیا۔

تفتیش میں زبردست پیچیدگیوں اور مشکلات کے بعد اس معاملے کو سی بی آئی کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

سی بی آئی کی تفتیش کی بنیاد پر ذیلی عدالت نے نومبر 2013 میں آروشی کے والدین کو دہرے قتل کا قصوروار قرار دیا اور انھیں عمرقید کی سزا سنائی۔

ڈاکٹر راجیش تلوار اور نوپور تلوار تمام الزامات سے انکار کرتے رہے ہیں۔

آروشی کے قتل کے واقعے سے پورے ملک میں سنسنی پیدا ہو گئی تھی اور اس پر سینکڑوں مضامین اور ایک کتاب بھی لکھی گئی۔ یہی نہیں بلکہ اس واقعے پر ایک فلم بھی بنائی گئی تھی۔

عدالت کے جمعرات کے فیصلے کے بعد ایک بار پھر یہ سوال سامنے آ گیا ہے کہ آخر یہ قتل کس نے کیے تھے؟

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں