کیا کبھی معذوروں کے جذبات کا سوچا ہے؟

Image caption کسی معذور مرد یا عورت کی دنیا کے بارے میں سوچنا کتنا مشکل ہے

'کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے'، ساحر لدھیانوی کا یہ کلام سنتے ہی نہ جانے کس کس کا چہرہ آپ کے ذہن میں آتا ہوگا۔

آج ایک بار پھر اس کلام کو سن کر تصور کریں کہ وہیل چیئر پر بیٹھا ایک شخص ایک نابینا لڑکی کا ہاتھ تھام کر اسے یہ سنا رہا ہے ’یہ بدن یہ نگاہیں میری امانت ہیں۔۔۔'۔

یا پھر تصور کریں کہ اس شخص کے بازو نہیں ہیں اور جس لڑکی کے لیے وہ گا رہا ہے وہ بول نہیں سکتی۔

یہ سب سوچنے میں بہت مشکل ہو رہی ہوگی۔

کسی معذور مرد یا عورت کی دنیا کے بارے میں سوچنا کہ وہ کیا سوچتے ہیں، کیا چاہتے ہیں، ان کے درمیان پیار محبت، جسمانی چاہت یا شادی کی تصویر ہمارے ذہن میں کیوں نہیں ابھرتی۔ اگلے تین دن ہم ایسے ہی لوگوں کی زندگی میں جھانکنے کی کوشش کریں گے۔

Image caption معذور لوگوں کے جذبات اور احساسات کو محسوس کرنے کی ضرورت

میں ایک کالج جانے والی لڑکی سے ملی۔ اس کی لمبی زلفیں، تیکھے نین نقش اور دل سے کہی باتیں ذہن میں بس گئیں۔

پڑھائی اور کھیل میں اول آنے والی اس لڑکی کے زندگی کے تجربات میرے اور میری سہیلیوں کے بہت قریب تھے۔

پیار اسے بھی ہوا تھا اور ایک لڑکے کے قریب آنے کی چاہت اسے بھی تھی اور رشتہ ختم ہونے کے بعد خالی پن کا خوف بھی اسے ستاتا تھا۔ لیکن یہ سب محسوس کرنے کا اس کا تجربہ الگ تھا۔

میں نے ایک اور لڑکی کی کہانی جاننے کی کوشش کی جس کا گینگ ریپ ہوا تھا۔ اس کے پڑوسی اور اس کے دوستوں نے مل کر اس لڑکی کا ریپ کیا تھا۔ لیکن کوئی ماننے کو تیار نہیں تھا کہ ایک معذور لڑکی کا ریپ ہو سکتا ہے۔

یہاں تک کہ پولیس اور خود اس کے گھر والوں نے اس کا یقین نہیں کیا۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ ایک معذور لڑکی کا ریپ کر کے کسی کو کیا ملے گا۔

یہ اس لڑکی کے لیے ریپ سے بھی زیادہ دردناک بات تھی۔

کوئی عام انسان کسی معذور سے شادی کرے، ایسا کم ہی ہوتا ہے۔ اکثر دو معذور ہی آپس میں شادی یا رشتہ قائم کرتے ہیں لیکن ایسا بھی کم ہی ہوتا ہے کیونکہ معذور لوگوں کی شادی کو خود ان کے کھر والے اہمیت نہیں دیتے اور اسے بوجھ میں اضافہ سمجھتے ہیں۔

معذوروں کی شادی کی طرف توجہ دلانے کے لیے کئی ریاستوں میں ایک سرکاری سکیم شروع کی گئی ہے جس کے تحت مالی امداد دی جا رہی ہے۔

بہار میں ایک معذور جوڑے سے مل کر میں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ پیسے کی بنیاد پر بننے والے رشتے کی ان کے لیے کیا اہمیت ہے۔

یہاں ایک وعدہ کیجیے کہ جب آپ یہ تین کہانیاں سنیں یا پڑھیں گے تو ضرور گنگنائیں گے 'کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے'۔

متعلقہ عنوانات