مودی کے نام خط: روہنگیا پر ظلم بند کروائیں

روہنگیا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی انڈیا کی 50 سے زیادہ اہم شخصیات نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کی ہے کہ وہ میانمار میں روہنگیا پر ہونے والے مظالم روکنے کے لیے اثر و رسوخ استعمال کریں۔

وزیر اعظم کے نام ایک خط میں انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ملک میں مقیم ہزاروں روہنگیا پناہ گزینوں کو جبراً ملک سے نکالنا نہ صرف ملک کی انسانی روایات کے اصول کے منافی ہو گا بلکہ اس سے بین الاقوامی قوانین اور ملک کی اپنی آئینی ذمے داریوں کی خلاف ورزی ہو گی۔

یہ خط ایک ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب سپریم کورٹ ملک میں مقیم روہنگیا پناہ گزینوں کو جبراً برما بھیجنے کے سوال پر بعض پناہ گزینوں کی درخواست کی سماعت کر رہی ہے۔

'ہم روہنگیا ہیں، ہمیں مار ہی دیجیے'

’روہنگیا پناہ گزین انڈیا کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں‘

روہنگیا جائیں تو جائیں کہاں؟

خط لکھنے والوں میں سابق وزیر داخلہ پی چدامبرم، سابق داخلہ سکریٹری جی کے پلئی، سابق سفارت کار کے سی سنگھ، حقوق انسانی کے وکیل پرشانت بھوشن اور کامنی جیسوال سمیت 50 سے زیادہ سرکردہ دانشوروں، صحافیوں، ارکان پارلیمان اور کارکنوں کے نام شامل ہیں۔

حکومت نے دو ماہ قبل اعلان کیا تھا کہ وہ ملک میں مقیم 40 ہزار روہنگیا پناہ گزینوں کو زبردستی ملک سے باہر نکال دے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ روہنگیا کا تعلق شدت پسند تنطیموں سے ہے اور وہ ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ حقوق انسانی کی تنطیموں اور سول سوسائٹی نے حکومت کے اس موقف کی مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ روہنگیا پناہ گزینون کو اپنے ملک واپس لوٹنے کا حق حاصل ہے۔ لیکن وہاں کی موجودہ صورتحال ان کی واپسی کے لیے کسی طرح بھی محفوظ نہیں ہے۔

’جب تک برما میں ان کا قتل عام، اجتماعی ریپ، آتش زنی اور دوسری نوعیت کے تشدد پوری طرح ختم نہیں ہو جاتے تب تک روہنگیا پناہ گزینوں کو مسلمہ بین الاقوامی اصولوں کے تحت انڈیا میں رہنے کا حق حاصل ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

دو صفحات پر مشتمل اس خط میں مزید کہا گیا ہے کہ سول سوسائٹی اور اقوام متحدہ کے کمیشن برائے پناہ گزین نے بھی انڈیا پر زور دیا ہے کہ وہ برسوں سے مقیم روہنگیا پناہ گزینوں کو ملک سے باہر نہ نکالے۔

’ملک کے آئین کی دفعہ 21 ہر شخص کو، خواہ وہ کسی بھی قومیت کا ہو زندگی کی ضمانت دیتا ہے۔ اور حکومت ایسے غیر ملکی شہریوں کے کسی بھی گروپ کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے آئینی طور پر پابند ہے جنھیں خطرہ لاحق ہے۔'

خط میں کہا گیا ہے کہ انڈیا اس حقیقت کو تسلیم کرے کہ برما میں بڑے پیمانے پر انسانی بستیوں کو جلانے، ریپ اور سیکیورٹی فورسز کے حملوں کے سبب ہی روہنگیا اپنے ملک سے بھاگنے اور دوسرے ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔

خط میں وزیر اعظم نرینرد مودی سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ رخائن صوبے میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں روکنے، قانون کا کی بالادستی کا احترام کرنے اور روہنگیا پناہ گزینوں کی محفوظ واپسی کے لیے میانمار پر اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں