بابری مسجد کیس: انڈین سپریم کورٹ کی تاریخ کا مشکل ترین فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بابری مسجد کی زمین کی ملکیت پر تین گروپ اپنا دعوی پیش کرتے ہیں

انڈیا کی سپریم کورٹ بابری مسجد رام مندر کے مقدمے کی حتمی سماعت منگل سے شروع کر رہی ہے۔ عدالت عظمیٰ کا ایک آ‏ئینی بنچ اس پیچیدہ مقدمے کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرے گا۔ عدالت عظمیٰ کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ایودھیا کی منہدم شدہ بابری مسجد کی زمین کی ملکیت کس کی ہے۔

اس سے قبل الہ آباد ہائی کورٹ نے سنہ 2010 میں اپنے فیصلے میں متنازع زمین کو مقدمے کے ایک مسلم اور دو ہندو فریقوں کے درمیان برابر تقسیم کرنے کا حکم دیا تھا۔ تینوں فریقوں نے عدالت عالیہ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔

یہ مقدمہ کتنا پیچیدہ ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چند مہینے قبل خود سسپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے ہندو اور مسلم رہنماؤں کو پیشکش کی تھی کہ اگر وہ اس تنازعے کو عدالت سے باہر مصالحت سے حل کرنا چاہتے ہیں تو وہ ثالثی کے لیے تیار ہیں لیکن ان کی پیشکش کو مسلمانوں نے قبول نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھیں

٭ جب مسلمانوں کے پیروں سے زمین کھسگ گئی

٭ 'بابری مسجد کا تنازع عدالت سے باہر حل کیا جائے'

بابری مسجد ایودھیا میں سنہ 1528 میں تعمیر کی گئی تھی۔ ہندوؤں کا دعوی ہے کہ یہ مسجد ہندوؤں کے دیوتا بھگوان رام کی جائے پیدائش پر بنے ہوئے مندر کو توڑ کر بنائی گئی تھی۔ لیکن اب تنازع یہ ہے کہ یہ زمین اصل میں کس کی ہے۔

سنہ 1980 کے عشرے میں بی جے پی کے سینیئر رہنما لال کرشن اڈوانی کی قیادت میں مسجد کی جگہ رام مندر بنانے کی تحریک شروع کی گئی تھی جو سنہ 1992 میں پانچ سو برس پرانی بابری مسجد کے انہدام پر ختم ہوئی۔

انہدام کے بعد مسجد کے مقام پر ایک عارضی رام مندر بنا دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس وقت سے کسی اضافی تعمیر پر پابندی لگا رکھی ہے۔ مندر کی تعمیر کے لیے حتمی فیصلے کا انتظار ہے۔

بابری مسجد تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بابری مسجد کو چھ دسمبر سنہ 1992 کو ہندو تنظیم کے کار سیوکوں نے منہدم کر دیا تھا

اگر قانونی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ مقدمہ صرف زمین کے تنازعے کا ہے۔ عدالتیں ملیکت کے تعین کے لیے صرف ماضی کی دستاویزات اور مقامی محکمہ موصولات کے ریکارڈ دیکھتی ہیں۔

لیکن قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ عدالت عظمیٰ کی تاریخ کا سب سے مشکل فیصلہ ہو گا کیونکہ زمین کے اس تنازعے کا تعلق صرف ملکیت سے نہیں مذہبی عقائد سے بھی ہے اور اس سے مذہبی قوم پرستی کے جذبات بھی وابستہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

٭ ایودھیا کا تنازع زندہ کرنے کا الزام

٭ ’صرف بابری مسجد ہی نہیں بلکہ بہت کچھ ٹوٹا‘

بی جے پی، آر ایس ایس اور اس سے وابستہ ہندو تنظمیں یہ امید کر رہی ہیں کہ سنہ 2019 کے پارلیمانی انتخابات سے قبل رام مندر کی تعمیر کا کام شروع ہو جائے گا۔

اتر پردیش اور مرکز دونوں جگہ بی جے پی اپنی اکثریت سے اقتدار میں ہے۔ بی جے پی کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل ہے۔ اگر سپریم کورٹ کا فیصلہ ناموافق یا ہائی کورٹ جیسا رہا تو پارلیمنٹ میں ایک قانون بنا کر مندر کی تعمیر کا راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔

آر ایس ایس کا کہنا ہے کہ' مندر وہیں بنے گا اور جلد بنے گا۔'

اسی بارے میں