بابری مسجد کے انہدام سے بی جے پی نے کیا کھویا کیا پایا؟

بابری مسجد تصویر کے کاپی رائٹ MANPREET ROMANA/GETTY IMAGES
Image caption ہندوستان کے تاریخی شہر ایودھیا میں سولھویں صدی کی بابری مسجد کو چھ دسمبر سنہ 1992 کو منہدم کر دیا گیا

پچیس سال قبل آج ہی کے دن یعنی چھ دسمبر سنہ 1992 کو میں نے ہندو قوم پرستوں کے ہاتھوں شمالی انڈیا کے شہر ایودھیا میں ایک تاریخی مسجد کو مسمار ہوتے دیکھا تھا۔ اس مقام کو ہندوؤں کے دیوتا رام کی جائے پیدائش کہا جاتا ہے۔

یہ ہندو قوم پرست پارٹی بی جے پی کی چھ سالہ مہم کا نتیجہ تھا۔ وہ مسجد کو توڑ کر اس جگہ رام کا مندر تعمیر کرنا چاہتا تھے۔

تقریباً 15 ہزار افراد کی بھیڑ اچانک آگے بڑھی گئی اور مسجد کے تحفظ کے لیے تعینات پولیس کے گھیرے کو توڑتے ہوئے مسجد کے گنبد پر حملہ آور ہو گئی اور پل بھر میں مسجد کو مسمار کرنے کا کام شروع ہو گيا۔

میں نے دیکھا کہ پولیس کا آخری دائرہ ٹوٹ چکا تھا اور اوپر سے آنے والے پتھروں سے بچنے کے لیے پولیس لکڑی کی ڈھال سے خود کو بچاتے ہوئے پیچھے ہٹ رہی تھی۔

ایک پولیس افسر پہلے سے ہی دوسرے پولیس اہلکاروں کو دھکا دے کر کنارے کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

پھر میں نے محسوس کیا کہ میں ایک تاریخی واقعے کا گواہ بن گیا۔ اور یہ واقعہ آزادی کے بعد ہندو قوم پرستوں کی اہم جیت اور سیکولرزم کو شدید جھٹکا تھا۔

تاریخی موڑ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بی جے پی کے دو وزیر اعظم نریندر مودی اور اٹل بہاری واجپئی

سیاسی ماہر تجزیہ نگار زویا حسن نے ’مسجد کی مسماری کو جدید ہندوستان میں قانون کی سب سے بڑی کھلم کھلا خلاف ورزی قرار دیا تھا۔‘

ان کے خیال میں یہ 'ہندوستانی قوم پرستی کے لیے ایک تاریخی' موڑ تھا۔

لیکن مسجد کے منہدم کیے جانے والی شام کو اتر پردیش میں اس وقت کے بی بی سی کے نامہ نگار رام دت ترپاٹھی بہت پرجوش نظر آئے۔

یہ بھی پڑھیں

٭ ’صرف بابری مسجد ہی نہیں بلکہ بہت کچھ ٹوٹا‘

٭ ’جب مجھے اپنے ہندو ہونے پر شرم محسوس ہوئی‘

انھوں نے کہا کہ ہندو قوم پرستوں نے مسجد کو تباہ کر کے 'اس مرغی کو ذبح کر دیا جو سونے کے انڈے دیا کرتی تھی۔'

ان کا کہنا تھا کہ ہندو قوم پرستوں کے لیے مسجد کی موجودگی ایک جذباتی مسئلہ تھا اور وہاں مندر کی تعمیر کی ان کی کوئی خواہش نہیں تھی۔ وہ بھی یہ مانتے تھے کہ وہ رام کی جائے پیدائش ہے۔

پہلی نظر میں ایسا نظر آتا ہے رام دت غلط تھے کیونکہ اس کی وجہ سے انڈیا کے مختلف حصوں میں ہندو مسلم فسادات میں بہت خوں ریزیاں ہوئيں۔

کانگریس کی کمزوری سے حوصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/GETTY IMAGES
Image caption بابری مسجد کے انہدام کے بعد ملک بھر میں فسادات پھوٹ پڑے تھے

ممبئی سب سے پہلے فسادات کی زد میں آیا جہاں تقریباً 900 افراد ہلاک ہوئے اور پولیس پر ہندوؤں کی حمایت کے الزامات لگے۔

لیکن وقت کے ساتھ فسادات بند ہوگئے اور ایودھیا میں اس مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر کی مہم مدھم پڑ گئی۔

بی جے پی کو امید تھی کہ مسجد کا انہدام ان کے حق میں جائے گا اور ہندو ووٹروں کو متحد کر دے گا لیکن سنہ 1993 میں تین ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں وہ حکومت بنانے میں کامیاب نہیں ہو پائی اور ان میں سے ایک ریاست اترپردیش بھی تھی۔

سنہ 1995 کے بعد ہونے والے عام انتخابات میں بی جے پی نے آہستہ آہستہ اپنی گرفت مضبوط کرنی شروع کر دی اور سنہ 1999 میں وہ ایک مستحکم اتحادی حکومت بنانے میں کامیاب رہی۔

یہ بھی پڑھیں

٭ بابری مسجد مقدمہ: ہندو فتح کے، مسلمان انصاف کے منتظر

٭ 'بابری مسجد کا تنازع عدالت سے باہر حل کیا جائے'

لیکن مرکز میں پہلی بار بی جے پی کے حکومت تک پہنچنے کی وجہ کانگریس پارٹی میں جاری اندرونی کشمکش تھی۔

سنہ 1991 میں کانگریس کے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کا قتل کر دیا گیا جس کے سبب کانگریس نہرو گاندھی خاندان کی قیادت سے محروم ہو گئي۔ اسی خاندان نے پارٹی کو آزادی کے بعد متحد رکھا تھا۔

کانگریس کی واحد امید اٹلی نژاد راجیو گاندھی کی بیوہ سونیا گاندھی تھیں جنھوں نے سیاست میں آنے سے انکار کر دیا۔

ہندوتوا کے ایجنڈے پر بی جے پی میں پس و پیش

تصویر کے کاپی رائٹ TEKEE TANWAR/AFP/GETTY IMAGES
Image caption پی وی نرسمہا راؤ پر الزام ہے کہ انھوں نے بابری مسجد کو بچانے کی خاطر خواہ کوشش نہیں کی

اس کے بعد آندھرا پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور طویل عرصے تک مرکزی حکومت میں وزیر رہ چکے نرسمہا راؤ کو اقلیتی حکومت کا سربراہ منتخب کیا گیا۔

مسجد کی حفاظت میں ان کی ناکامی کو ان کے حریفوں نے انھیں کمتر دکھانے کے لیے استعمال کیا اور الزام لگایا کہ وہ ایک سیکولر کانگریسی ہونے کے بجائے ہندو قوم پرست تھے۔

اس مسئلے پر پارٹی منقسم تھی اور جب سنہ 1996 میں عام انتخابات منعقد ہوئے تو پارٹی اپنے وجود کے لیے خود ہی جدوجہد کر رہی تھی۔

یہ بھی پڑھیں

٭ انڈین سپریم کورٹ کی تاریخ کا ’مشکل ترین مقدمہ‘

٭ جب مسلمانوں کے پیروں سے زمین کھسگ گئی

لیکن جب بی جے پی نے سنہ 1999 میں ایک مستقل مخلوط حکومت بنا لی تو نہ تو اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی اور نہ ہی اس وقت بی جے پی کے دوسرے سب سے زیادہ طاقتور رہنما لال کرشن اڈوانی ہی یہ مانتے تھے کہ ایودھیا کے واقعے نے انھیں اتنا زیادہ ہندو ووٹ نہیں دیا ہے کہ وہ ہندو قوم پرستی یا ہندوتوا کا ایجنڈا نافذ کر سکیں اور مندر کے معاملے پھر سے زندہ کر سکیں۔

ان کا خیال تھا کہ اگر انھیں اپنا سیاسی کا اتحاد برقرار رکھنا ہے اور آنے والا انتخاب جیتنا ہے تو آبادی کے مختلف طبقوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے انھیں اعتدال پسند رخ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

ایک بار اڈوانی نے مجھ سے کہا تھا: 'ہندتوا کی اتنی قسم ہے کہ در حقیقت آپ مذہب کے نام میں ہندوؤں سے اپیل ہی نہیں کر سکتے۔'

ہندوتوا ایجنڈا

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption رام مندر کی تحریک میں لال کرشن اڈوانی نے اہم کرادار ادا کیا

بی جے پی میں بہت سے لوگوں کا یقین ہے کہ اگر پارٹی نے ہندو قوم پرستی کے پرچم تلے ہندو ووٹوں کو متحد کیا ہوتا تو وہ آنے والے انتخابات میں شکست سے دو چار نہ ہوتی۔

لیکن یہ شکست اتحادی کے انتخاب میں غلطی کے سبب ہوئی تھی اور اس وقت تک سونیا گاندھی دوبارہ کانگریس پارٹی کو متحد کرنے میں منہمک ہو گئي تھیں۔

اور جب وہ کانگریس کی قیادت کے لیے رضامند ہوگئیں تو پارٹی میں نئی جان آ گئی۔ ان کی قیادت میں کانگریس نے دس سال تک حکومت کی۔

ایودھیا کا واقعہ بہت اہم تھا لیکن پھر بھی وہ ایک ایسا ہندو ووٹ بینک نہیں بن سکا جو پوری طرح سے ہندوستان کے سیاسی افق کو بدل دے۔

عین ممکن ہے کہ یہ تاريخی موڑ سنہ 2014 میں بی جے پی کی زبردست کامیابی کے ساتھ اپنے انجام تک پہنچ چکی ہو جس کے نتیجے میں پارلیمنٹ میں پہلی مرتبہ اسے مکمل اکثریت ملی ہے اور نریندر مودی جیسا رہنما ملا ہے جو ہندو قوم پرستی کو فروغ دینے میں ہچکچاہٹ کا شکار نہیں اور اپنی پارٹی کے ہندو ایجنڈے کو نافذ کرنے کی ابتدا کر دی ہے۔

مثال کے طور پر ان کی حکومت نے ذبح کرنے کے لیے گائے کی فروخت پر پابندی لگا دی ہے، ہندی زبان کی حوصلہ افزائی کی جانے لگی اور اہم تعلیمی اور ثقافتی اداروں کی اعلی پوزیشنوں پر ہندوتوا کے حامیوں کی تقرری شروع ہوگئی۔

تاریخی موڑ پر مودی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مودی کو ہندوتوا کے ایجنڈے پر بہت پس و پیش نہیں ہے

اگرچہ مودی نے مسلسل اپنے موقف کو ظاہر کیا ہے کہ وہ تمام ہندوستانیوں کی ترقی چاہتے ہیں لیکن بی جے پی مرکزی اور ریاستی حکومتوں میں مسلمانوں کی نمائندگی نہ کے برابر ہے۔

وزیر اعظم مودی ملک کی سب سے بڑی اور سیاسی طور پر اہم ریاست اترپردیش سے منتخب کیا گیا لیکن وہ ریاست مسلمانوں کے خلاف جارحیت کے لیے جانی جاتی ہے۔

بہر حال مودی صرف ہندوؤں کے ووٹ کی بنیاد پر انتخابات میں کامیاب نہیں ہوئے۔ ان کی انتخابی مہم کا اہم نعرہ ہندوستان کی ترقی اور تبدیلی تھی۔

ان کی کامیابی اس حقیقت پر بھی منحصر تھی کہ کانگریس ایک بار پھر ریشہ دوانیوں کے دور میں پہنچ گئی تھی۔

اس بات کے اشارے پہلے بھی مل رہے تھے کہ وہ گائے کے ذبیحے پر نرمی لائيں کیونکہ اس کا کسان ووٹروں پر بہت اثر پڑا ہے۔

ہندتوا بہت سے مسلک اور ذات پات والا مذہب ہے اور انڈیا بہت تنوع والا ملک ہے جس کی جڑی متنوع رسم و رواج میں گہری پیوست ہیں۔

لہٰذا، میرے پر ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ مودی اس تاریخی موڑ تک پہنچ جائیں گے یا وہاں تک پہنچنے کی خواہش رکھتے ہیں جہاں سیکولر انڈیا کا خاتمہ ہو جائے گا اور ہندو انڈیا معرض وجود میں آ جائے گا۔

اسی بارے میں