انڈیا میں دلت لڑکے یا لڑکی سے شادی کرنے پر ڈھائی لاکھ امداد، آمدن کی شرط ختم

شادی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا کی کئی ریاستوں میں بھی دلت سماج میں شادی کی حوصلہ افزائی کے لیے امداد کا نظم ہے

انڈیا کی مرکزی حکومت نے کسی دلت سے شادی کرنے پر ڈھائی لاکھ روپے کی امداد پر پانچ لاکھ سالانہ آمدن کی حد ختم کر دی ہے۔

مختلف برادریوں کے مابین شادیوں کی سکیم انڈیا کی پسماندہ ذات کو سماج میں برابری دلانے، مرکزی دھارے میں شامل کرنے اور ذات پات کی دیوار کو ختم کرنے کے لیے سنہ 2013 میں شروع کی گئی تھی۔

سکیم میں ایسی شادی جس میں کوئی ایک (لڑکا یا لڑکی) اگر دلت یعنی سماجی طور پر پسماندہ طبقے سے آتے ہوں انھیں ان کے 'بولڈ قدم لینے' اور 'نیا گھر بسانے' کے لیے امداد کے طور پر حکومت کی جانب سے ڈھائی لاکھ روپے دینے کا انتظام کیا گیا ہے۔

لیکن پہلے اس میں ایک شرط سالانہ آمدنی کی تھی کہ یہ امداد اسی کو ملے گی جن کی آمدنی پانچ لاکھ روپے سالانہ سے کم ہو۔

رواں سال سے یہ حد ختم کر دی گئی ہے اور اب اس کے لیے ہر وہ جوڑا امداد کا حقدار ہو گا جس میں ایک فریق دلت سماج سے آتا ہو۔

یہ بھی پڑھیں

٭ مایاوتی نے دلتوں کا اعتماد بڑھایا ہے

٭ ہندو پجاریوں سے شادی پر تین لاکھ روپے کی امداد

تاہم سماجی انصاف اور بااختیار بنانے کی وزارت نے کہا ہے کہ اس امداد کو حاصل کرنے کے لیے شادی کے ایک سال کے اندر انھیں آدھار کارڈ سے منسلک اپنے مشترکہ بینک اکاؤنٹ کے ساتھ درخواست جمع کرانا ہو گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ہندوستانی اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق مرکزی وزارت نے کئی ریاست میں جاری اسی قسم کی سکیم کے سبب یہ فیصلہ کیا ہے کیونکہ ریاستی سکیم میں سالانہ آمدنی کی کوئی حد مقرر نہیں تھی۔

اس سکیم کے تحت ملک بھر سے ہر سال 500 ایسے جوڑوں کی مدد کرنے کا ہدف رکھا ہے لیکن اپنے ہدف کے حصول میں ابھی یہ بہت پیچھے ہے۔

اخبار کے مطابق سکیم کے اعلان کے بعد پہلے سال صرف پانچ لوگوں کو یہ امداد ملی جبکہ اگلے سال 72 لوگوں کو، اس کے بعد 736 درخواستوں میں سے صرف 45 کو یہ امداد ملی۔

رواں سال 400 سے زیادہ درخواستوں میں سے صرف 72 لوگوں کو امداد کے لیے منظوری ملی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں