یروشلم کے اعلان پر کشمیری برہم

کشمیر مظاہرہ تصویر کے کاپی رائٹ EPA

ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے پر کشمیریوں نے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں مظاہرے کیے اور اعلانِ یروشلم کے خلاف برہمی کا اظہار کیا۔

فلسطینی بحران پر کشمیر میں تب بھی عوامی ردعمل ہوتا تھا جب یہاں مسلح شورش نہیں تھی۔

فلسطین میں اسرائیلی زیادتیوں کے خلاف ہڑتالیں اور مظاہرے کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور تل ابیب سے سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے کا اعلان ایسے وقت کیا ہے جب کشمیر سیاسی افراتفری، تشدد، فورسز کی زیادتیوں اور سرکاری پابندیوں تلے دبا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

فلسطینی ملاقات منسوخ کرنے سے باز رہیں

حماس کا انتفادہ کا اعلان، غربِ اردن اور غزہ میں جھڑپوں میں 31 فلسطینی زخمی

حماس کا اسرائیل کے خلاف انتقاد شروع کرنے کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کشمیر کے مبصرین اور حساس حلقوں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا اعلان کشمیر کو تین طرح سے متاثرکرسکتا ہے:

1۔ انڈیا میں نریندر مودی کے وزیراعظم بنتے ہی کشمیرمیں علیحدگی پسند اور ہندنواز جماعتوں کا لہجہ کم و بیش یکساں ہوگیا تھا۔ فاروق عبداللہ جیسے ہندونواز لیڈر پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی بات کرتے ہیں اور مسلہ کشمیر پر حکومت ہند کے موقف کو کھلے عام چیلنج کررہے ہیں۔ اسی طرح انڈین آئین میں موجود کشمیر کے لیے آئینی رعایتوں کے تحفظ کے لیے حریت کانفرنس نے بھی مہم چلائی۔ اس صورت حال کو ماہرین کشمیر میں پنپ رہے سب نیشنلزم سے تعبیر کررہے ہیں۔ لیکن ٹرمپ کے اعلان سے یہ لہجے نرم پڑسکتے ہیں۔ انڈیا اور امریکہ پہلے ہی دفاعی اور تجارتی شراکت کے نئے رشتوں میں بندھ گئے ہیں۔ سالہا سال سے یہاں کے عوامی اور سیاسی حلقے امریکی مداخلت کے منتظر تھے۔ جہاں علیحدگی پسندوں کے لیے یہ اعلان دھچکہ ہے وہیں اس سے ہندنواز لیڈر اب نئی دلی کی ناراضگی مول لینے کا رسک نہیں اُٹھا سکتے۔

2۔ کشمیریوں کے خدشات اس اعلان سے دوچند ہوگئے ہیں۔ انھیں لگتا ہے کہ ٹرمپ کے اس قدر حیران کن اعلان کے بعد اب نریندر مودی کی حکومت بھی بڑے فیصلے لے سکتی ہے جن میں اہم ترین دفعہ 370 کو ختم کر کے کشمیر کو انڈین وفاق میں ضم کرنا ہے۔ کشمیری حلقوں کو لگتا ہے کہ مسلہ کشمیر سے متعلق انڈین موقف کو اب عالمی سطح پر چیلنج کرنا نہایت مشکل ہوگیا ہے۔

3۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یروشلم سبھی مسلمانوں کے لیے ایک جذباتی معاملہ ہے۔ امریکہ کے یکطرفہ اعلان سے کشمیر میں انتہا پسند بیانیہ کو تقویت مل سکتی ہے اور پھر یہ سب ایسے وقت ہو رہا ہے جب اکثر مبصرین کا خیال ہے کہ حکومت ہند سبھی انڈین مسلمانوں کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کو بھی سیاسی و معاشی طور پر کنارے کرنے پر آمادہ نظر آ رہی ہے۔

صحافی ریاض ملک کہتے ہیں : ’فلسطین اور کشمیر کے سیاسی حالات مختلف ہیں۔ ٹرمپ کے اعلان سے محمد عباس کا لہجہ سخت ہو گیا ہے لیکن یہاں کے ہند نواز سیاستدان اس اعلان سے عدم تحفظ کا شکار ہوجائیں گے۔‘

اسی بارے میں