ہاردک پٹیل: 24 سالہ جوان نریندر مودی کے لیے ’دردِ سر‘

پٹیل تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انڈین ریاست گجرات کی ایک چھوٹے سے قصبے میں سردیوں کی دوپہر لوگ بے چینی سے ایک ایسے شخص کا انتظار کر رہے تھے جس کے بارے میں ان کا یقین ہے کہ اس نے انڈیا کے طاقتور وزیراعظم نریندر کی راتوں کی نیندیں اڑا دی ہیں۔

ہاردک پٹیل ایک کامرس گریجویٹ ہیں اور ایک کاروباری شخص کے بیٹے ہیں، اور مکمل طور پر درمیانے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ 24 سال کی عمر میں وہ انڈین قوانین کے مطابق انتخابات لڑنے کے اہل نہیں اس کے باوجود دو سال سے بھی کم وقت میں مودی کے لیے ایک مبصر کے الفاظ میں ’درد سر‘ بن گئے ہیں۔

سنیچر کو مودی کی آبائی ریاست گجرات میں انتخابات منعقد ہوئے ہیں اور ہاردک پٹیل ذات پات کے حوالے سے مظاہروں میں ایک نمایاں چہرہ ہیں۔ وہ اس تحریک کی قیادت کر رہے ہیں جس کا مطالبہ پٹیل برادری یا پٹیدار ذات والوں کے لیے ملازمتوں اور تعلیم میں کوٹہ مختص کیا جائے۔

’پٹیل پیچھے رہ گئے ہیں‘

گجرات میں پٹیل برادری کل آبادی کا 14 فیصد ہے۔ یہ معاشرتی طور پر مراعات یافتہ اور زراعت سے منسلک بااثر کمیونٹی ہے جو روایتی طور پر نریندر مودی کی جماعت بی جے پی کی ووٹر رہی ہے۔ ماضی یہ برادری اس عمل کے خلاف محاذ آرا رہی ہے اور اس کا یہ یقین رہا تھا کہ کالج کی سیٹوں اور سرکاری ملازمتوں کے لیے صرف میرٹ ہی بنیاد ہونا چاہیے۔

لیکن اب حالات تبدیل ہوچکے ہیں۔

زمین کی ملکیت رکھنے والی کئی ذاتیں مثلاً ہریانہ میں جاٹ اور مہاراشٹر میں مراٹھے اب یہ محسوس کرنے لگ گئے ہیں کہ وہ اس لیے پیچھے رہ گئے ہیں کہ ان میں تعلیم اور پیشہ وارانہ ملازمتیں حاصل کرنے کی کمی ہے۔

معیاری سرکاری کالجوں کی تعداد میں کمی ہے، اور ان کے مقابلے میں نجی اداروں کی تعلیم بہت سے افراد کے لیے مہنگی ہے۔ زراعت کی آمدن میں کمی ہے اور اسی لیے پٹیل برادری سے بہت سے افراد شہروں کا رخ کر رہے جہاں ملازمت کے حصول کا کڑا امتحان ہے۔ گجرات میں 48 ہزار چھوٹی بڑی فیکٹریاں ہیں جن میں بیشتر پٹیل برادری کی ملکیت تھیں جو چین کی درآمدی کم قیمت اشیا کے سامنے نہ چل سکیں اور ان میں تالے پڑ گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اپنے مستقبل کے بارے میں مضطرب انھوں نے سرکاری ملازمتوں میں کوٹے کے اپنے مطالبے کے حق میں مظاہروں کا سہارا لیا۔ البتہ کوٹہ بڑھائے جانے کی بہت کم امید ہے۔ وکیل آنند یاگنک کہتے ہیں کہ ’پٹیل محسوس کرتے ہیں کہ وہ پیچھے رہ گئے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے بہتر کوٹے کی حمایت کرتے ہیں۔

سنہ 2012 میں بی جے پی نے نریندر مودی کی قیادت میں کل 182 میں سے 115 نشستیں جیتی تھیں۔ دو سال بعد عام انتخابات میں انھوں نے مرکزی حکومت بنائی، اور اس عرصہ کے دوران گجرات میں حکمرانی کرنے والے سیاستدان ان کے پائے کے نہیں۔ اب پٹیل برادری کی مخالفت کے بعد مسلسل چھٹی بار ریاستی انتخاب جیتے کے امکانات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

پٹیل برادری تقریباً 70 نشستوں پر اثرانداز ہو سکتی جو کہ ایک قابل ذکر تعداد ہے۔ بی جے پی کی جانب سے اس برادری سے نبردآزما ہونے کے لیے آہنی ہاتھوں کا استعمال بظاہر ان کے لیے نقصان ہو سکتا ہے۔

دو سال قبل پٹیل برادری کے مظاہرے پر پولیس کی فائرنگ سے 12 افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔ ہاردک پٹیل پر بھی غداری کا مقدمہ ہوا اور انھیں نو ماہ قید کی سزا ہوئی اور پھر ان کی ضمانت کی شرائط کے مطابق انھیں چھ ماہ ریاست سے باہر رہنے کا کہا گیا۔

جیل اور ریاستی بے دخلی نے انھیں پیٹل برادری کی نظر میں ہیرو بنا دیا۔ گجرات کے اس چھوٹے سے قصبے تلالا میں ان کے حمایتی انھیں مسیحا کہتے ہیں اور انھیں ایشیائی شیروں کی فریم کی ہوئی تصویری تحفہ دیتے ہیں۔ ایک حامی نے مجھے بتایا: ’وہ ہم میں اصل شیر ہیں۔‘

ایک سینیئر صحافی اور مودی حکومت پر ایک کتاب کے مصنف ادے ماہکر کہتے ہیں: ’سنہ 2002 کے بعد سے بی جے پی کو سخت ترین انتخابات کا سامنا ہے۔ ہاردک پٹیل کی جانب سے خطرہ سنجیدہ نوعیت کا ہے۔ وہ گجرات انتخابات کی سب سے بڑی خبر ہیں۔‘

جب تین گھنٹوں بعد ہاردک پٹیل اس چوراہے پر ایک چاندی کے رنگ کی گاڑی میں آئے تو ان کے حامی ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے آگے بڑھنے لگے۔ بہت سارے نوجوان موٹرسائیکلوں پر، سمارٹ فونز کے ساتھ، دھوپ والے چشمے اور اپنے رہنما کی تصاویر والی ٹی شرٹس پہنے ہوئے تھے۔ اگروہ ملازمت پیشہ تھے تو ان کی تنخواہ بہت کم تھی اور کچھ بے روزگار تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

نوجوان ووٹرز

19 سالہ بھوادب مرادیا کہتے ہیں کہ انھیں یقین نہیں ہے کہ گریجویشن کے بعد انھیں نجی سیکٹر میں ملازمت ملے گی اور سرکاری نوکری کے لیے انھیں کوٹہ چاہیے ہوگا۔

42 سالہ کرتی پنارا پلاسٹک کی اشیا کے معمولی تاجر ہیں وہ کہتے ہیں کہ وہ اپنی بیٹی کو ڈاکٹر یا انجینئر بنانا چاہتے ہیں اور چھوٹے شہر کی محنت مشقت سے نکلنا چاہتے ہیں۔ شہر میں قائم واحد شوگر مل کئی برسوں سے بند ہیں اور شہر کے چوک میں لگے ہوئے ’ڈیجیٹل لائف‘ فراہم کرنے کے اشتہارات مقامی افراد کے لیے کسی حد تک کھوکھلے ہیں۔

اپنے حامیوں سے بی جے پی کو ووٹ کے ذریعے باہر کرنے کا مطالبہ کرنے کے بعد ہاردک پٹیل کا قافلہ تنگ گلیوں کی جانب بڑھنے لگا تھا۔

ایک سکول کے میدان میں ہونے والے جلسے میں انھوں نے نریندر مودی اور ان کی بی جے پی پر کھل کر تنقید کی۔ انھوں نے کھیتی باڑی کے دباؤ، ملازمتوں کی کمی اور شہری اور دیہی تقسیم کے بارے میں بات کی۔ جب انھوں نے اپنے نوجوان حامیوں سے اس کی تصدیق چاہی تو ہاتھوں میں موبائل لہراتے جیسے ایک سمندر امڈ آیا۔

گذشتہ مہینے ہاردک پٹیل نے کانگرس پارٹی کے ساتھ اتحاد کا اعلان کیا تھا، جو سنہ 1985 سے ریاستی انتخاب نہیں جیت سکی تاہم وہ مسلسل ۳۰ فیصد سے زائد ووٹ حاصل کرتی رہی ہے۔ اس کے علاوہ او بی سی پارٹی اور دلت کمیونٹی کے آزاد امیدوار جگنیش موانی کے ساتھ بھی کانگریس کا اتحاد ہے۔ وہ تمام بی جے پی کو شکست دینا چاہتے ہیں۔

شہری ووٹ

گجرات ایک ایسی ریاست ہے جہاں شہری آبادی قدرے زیادہ ہے، اور بی جے پی کو شہری آبادی کے درمیانے طبقے میں مقبولیت بھی حاصل ہے۔ پانچ سال قبل بی جے پی نے بڑے اور چھوٹے شہروں میں 84 میں سے 71 نسشتیں جیتی تھیں۔ اس بار 98 دیہی نشستیں اس کے لیے سر درد بن سکتی ہیں۔ بہت سارے دیہاتی گذشتہ سال ہونے والی نوٹ بندی سے خوش نہیں ہیں جس کی وجہ ان کی آمدن میں کمی اور فصلوں کی قیمتوں میں کمی ہے۔ ہاردک پٹیل نے مجھے بتایا: ’تعمیرو ترقی نوجوانوں اور کسانوں کی تعمیر و ترقی ہوتی ہے۔ انھیں شہروں کے حق میں نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔‘

ریاست میں مسلسل 20 سال سے زائد عرصہ حکمرانی کرنے کے بعد اب بی جے پی کو عہد شکنی کے عنصر کا بھی سامنا ہے۔ کیا وہ ذات اور شناخت کو تعمیر و ترقی اور طاقتور ہندو قومیت پرستی کی باتوں سے زیر سکتی ہے یہ ابھی دیکھنا باقی ہے۔

فنڈز کی بات کریں تو بی جے پی کو واضح برتری حاصل ہے۔ لیکن انھیں آسان حریف کا سامنا نہیں ہے۔ ایک تجزیاتی پول کے مطابق بی جے پی اور کانگریس کے درمیان فرق کم ہوتا جارہا ہے اور اس کا اختتام سخت مقابلے پر ہوسکتا ہے۔ تاہم شہروں ووٹ اب بھی بی جے پی کے حق میں زیادہ ہے۔

ہاردک پٹیل کا ماننا ہے کہ اب بی جے پی کو شکست دینے کا وقت ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اب کی بار اگر تبدیلی نہ آئی تو اس کا مطلب ہے کہ گجرات کے لوگ بی جے پی کے سامنے بے بس ہی رہیں گے۔‘

اسی بارے میں