انڈیا: اردو زبان میں حلف برداری پر مذہبی جذبات مجروح کرنے کا مقدمہ

اترپردیش پولیس تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مشرف حسین بہوجن سماج پارٹی کے ٹکٹ پر علی گڑھ میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں کونسلر منتخب ہوئے (فائل فوٹو)

انڈیا کی ریاست اترپردیش کے شہر علی گڑھ میں اردو زبان میں حلف برداری تنازع کا باعث بن گئی ہے۔

شہر کے بنا دیوی پولیس سٹیشن کے انچارج نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ ااشتعال انگیزی اور مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

اس کی تصدیق شہر کے نو منتخب میئر محمد فرقان نے بھی کی ہے۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’بی ایس پی اور بی جے پی دونوں جانب سے ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ مشرف حسین بہوجن سماج پارٹی کے ٹکٹ پر علی گڑھ میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں کونسلر منتخب ہوئے۔

اطلاعات کے مطابق وہ خود اردو کے استاد ہیں اور انھوں نے اردو میں ہی اپنے عہدے کا حلف لیا جس کے بعد ماحول کشیدہ ہو گئے اور توڑ پھوڑ ہوئی۔

میئر محمد فرقان کا کہنا ہے کہ اس میں ان کی ’گاڑی کو بھی نقصان پہنچا۔‘

یہ بھی پڑھیں

٭ 'آج انڈیا میں ہر سال 500 فسادات ہوتے ہیں'

٭ تقسیم ہند میں علی گڑھ یونیورسٹی کیونکر بچی؟

٭ 'علی گڑھ تحریک میں سماجی اصلاح کا پہلو بہت کم تھا'

انھوں نے کہا کہ ’اردو زبان میں حلف لینا کوئی جرم نہیں ہے اور یہ زبان آئین اور ریاست دونوں جگہ اپنی اہمیت رکھتی ہے لیکن تنگ نظری کا شکار ہے۔‘

اتر پردیش پولیس نے انڈین پینل کوڈ کے سیکشن 295-اے کے تحت حسین کے خلاف مقدمہ (مذہبی یا مذہبی عقائد کی جان بوجھ کر توہین کرنا) درج کیا ہے۔

بنا دیو پولیس سٹیشن کے انچارج جتیندر دیکشت نے کہا کہ ’ہمیں کسی زبان سے کوئی لینا دینا نہیں ہمیں تو لا اینڈ آرڈر دیکھنا ہے‘ اور اس کے تحت بی جے پی کونسلر پشپیندر سنگھ کی شکایت پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ اترپردیش میں بی جے پی کی حکومت ہے اور علی گڑھ کا ماحول اکثر کشیدہ رہا ہے۔

اسی بارے میں