بغیر محرم کے حج پر جانے کے معاملے پر مودی گمراہ کر رہے ہیں؟

کعبہ تصویر کے کاپی رائٹ EPA

اتوار کو اپنے ریڈیو پروگرام ’من کی بات‘ میں انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے اعلان کیا کہ اب انڈیا کی مسلمان خواتین بھی بغیر کسی محرم کے حج پر جا سکیں گیں۔

انڈین وزیراعظم نے اس بات پر حیرانی کا اظہار بھی کیا کہ آخر اب تک انڈیا میں رہنے والی مسلم خواتین کے پاس یہ سہولت پہلے کیوں نہیں تھی۔ انھوں نے اسے مسلمان خواتین کے ساتھ ناانصافی قرار دیا اور پچھلے فیصلے کو ختم کر دیا۔

اس بارے میں سوشل میڈیا پر تنازع بھی پایا جاتا ہے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں اور یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایسا انھوں نے ممکن بنایا ہے اور اُس اقدام کا کریڈٹ لے رہے ہیں جس میں اصل میں سعودی عرب کا کردار ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’یہ تو وہی ہے جس نے پیدل حج کیا تھا‘

سعودی عرب کو حج سے کتنی آمدن ہوتی ہے؟

20 لاکھ افراد حج ادا کریں گے

سنہ 2014 میں سعودی عرب نے اعلان کر دیا تھا کہ نئی حج پالیسی کے تحت 45 یا اس سے زیادہ عمر کی خواتین کوئی بھی خصوصی اہتمام کیے بغیر آزادی کے ساتھ حج کے لیے آ سکیں گی۔ اس میں صرف ایک ہی شرط تھی اور وہ یہ کہ ان خواتین کو گروپ کے ساتھ جانا ہوگا۔ اس کے علاوہ کہا گیا تھا کہ 45 سال سے کم عمر خواتین کے لیے بغیر اجازت نامے کے حج پر جانے کی پابندی عائد رہے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

تنازع کیوں؟

لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ کیا انڈین حکومت 2014 سے پہلے یہ اقدام اٹھا سکتی تھی؟ تو جواب ہے نہیں۔

شاید اسی وجہ سے نریندر مودی پر گمراہ کرنے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ یہ اعلان کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے حیرانی کا اظہار کیا کہ ’آخر گذشتہ 70 برسوں میں حج پر جانے والی مسلمان خواتین کے ساتھ یہ نا انصافی کیوں ہوتی رہی؟‘

دوسری جانب جو لوگ اس فیصلے کے حق میں بات کر رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ کم از کم سعودی عرب کی جانب سے حج پالیسی میں تبدیلی کہ بعد مودی حکومت نے یہ صحیح قدم تو اٹھایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انڈین حکومت نے 2018 سے اس نئی حج سکیم کو نافذ کرانے کے لیے ایک پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی، جس کی سفارشات میں یہ بھی شامل تھا کہ 45 سال یا اس سے زیادہ عمر کی خواتین کو بغیر کسی گروپ کے اکیلے حج پر جانے کی اجازت ہونی چاہیے۔

مودی حکومت نے گذشتہ سال اکتوبر میں اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ 2018 سے نافذ ہونے والی نئی حج پالیسی میں 45 یا اس سے زیادہ عمر کی خواتین کو بغیر محرم کے حج پر جانے کی اجازت ہونی چاہیے۔

جس کے بعد مرکزی حکومت نے اس پانچ رکنی کمیٹی کی سفارشات کی منظوری دے دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

زمینی حقائق

اب تک 1200 خواتین نے حج کے لیے درخواستیں جمع کروائی ہیں۔ مودی حکومت نے ان کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

انڈیا سے ہر سال 70 ہزار مسلمان حج کے لیے جاتے ہیں جن کے ناموں کا فیصلہ قرعہ اندازی سے کیا جاتا ہے، جبکہ مودی سرکار نے اس بار فیصلہ کیا ہے کہ ان 1200 خواتین کو قرعہ اندازی میں حصہ لیے بغیر ہی حج پر جانے دیا جائے گا۔

اس سے قبل کوئی بھی مسلمان خاتون بنا کسی محرم کے انڈیا سے حج پر نہیں جا سکتی تھی۔

لیکن اب یہ 1200 خواتین تاریخ میں پہلی مرتبہ انڈیا سے بغیر محرم کے حج پر جائیں گی جسے مسلمان حواتین کے لیے بڑی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں