ایران کا اقوام متحدہ کو خط: امریکہ پر’گھناؤنی‘ مداخلت کا الزام

ایران تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ایران نے اقوام متحدہ کو لکھے گئے ایک خط میں امریکہ پر اس کے اندرونی معاملات میں ’گھناؤنی‘ مداخلت کرنے کا الزام لگایا ہے۔

خط میں لکھا گیا ہے کہ ’امریکی قیادت نے کئی بے تُکی ٹوئٹس کے ذریعے ایرانیوں کو انتشار پھیلانے پر اکسایا، جوکہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔‘

ایران کے مختلف شہروں میں ہونے والے ان مظاہروں کے دوران 21 لوگ ہلاک ہوئے۔ یہ مظاہرے معاشی مسائل پر شروع ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

بغاوت کو شکست دے دی گئی ہے: پاسداران انقلاب

ایرانی عوام سڑکوں پر کیوں؟

ایرانی پاسداران انقلاب دراصل کون ہیں؟

دو روز سے کسی بڑے مظاہرے کی خبر نہیں آئی ہے اور جمعرات کو بھی ایران کے سرکاری میڈیا کی زیادہ تر توجہ حکومت حامی ریلیوں پر ہی ہے۔

ایران میں عوام کے گرتے ہوئے معیارِ زندگی اور کرپشن کے خلاف شروع ہونے والے ان مظاہروں کا رخ یک دم ہی اعلیٰ قیادت اور خاص طور پر رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی جانب مڑ گیا تھا۔

یہ احتجاج سنہ 2009 میں اصلاحات کے حق میں ہونے والی ریلیوں کے بعد سب سے بڑا عوامی احتجاج ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ایران امریکہ سے اتنا ناراض کیوں ہے؟

ایران میں شروع ہونے والے احتجاج کے بعد سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس کی حمایت کر رہے ہیں اور بدھ کو انھوں نے ان مظاہروں کو اس وقت مزید بڑھاوا دیا جب انھوں نے کہا کہ ’امریکہ مظاہرین کو مدد فراہم کر سکتا ہے‘۔

اس بیان سے قدامت پسند ایرانیوں کے اس الزام کو تقویت ملتی ہے جس میں وہ ان مظاہروں کا ذمہ دار غیر ملکی طاقتوں جن میں اسرائیل، سعودی عرب اور امریکہ کو ٹھہراتے ہیں۔

اقوام متحدہ میں ایرانی مندوب غولمالی خسرو نے اپنے خط میں کہا ہے کہ ایرانی معاملات میں دخل اندازی کی امریکی تاریخ ہے۔

تاہم انھوں نے مزید کہا ہے کہ ’موجودہ انتظامیہ نے تو بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی خلاف ورزی کرنے کی حدیں ہی پار کر دی ہیں۔‘

پاسداران انقلاب کے سربراہ نے کیا کہا؟

دوسری جانب ایران کے پاسداران انقلاب کے سربراہ نے ملک میں جاری مظاہروں کے حوالے سے کہا ہے کہ ملک میں ’بغاوت‘ کو شکست دے دی گئی ہے۔

پاسداران انقلاب کے سربراہ میجر جنرل محمد علی جعفری نے یہ اعلان اس وقت کیا جب حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف حکومت کے حق میں ہزاروں افراد نے جلوس نکالے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مظاہرے ہونے والی ہر جگہ پر 1500 افراد تھے اور ملک بھر میں مظاہرے کرنے والوں کی تعداد 15 ہزار سے زیادہ نہیں تھی

میجر جنرل جعفری نے اعلان میں کہا ’آج ہم کہہ سکتے ہیں کہ 96 کی بغاوت ختم کر دی گئی ہے۔‘

ان کا اشارہ فارسی کیلینڈر کی طرف تھا جس کے مطابق رواں سال 1396 ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’سکیورٹی کی تیاری اور لوگوں کی نگہبانی‘ کے باعث ’دشمنوں‘ کی شکست ہوئی اور تین صوبوں میں پاسداران انقلاب کے دستوں نے محدود پیمانے پر کارروائیاں کیں۔

اسی بارے میں