انڈین شہری فلائیٹ کے دوران جنسی ہراساں کرنے کے الزام میں گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Wayne County Sheriff's Office

امریکی حکام نے ایک انڈین شخص کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب فلائیٹ کے دوران ایک عورت نے ان پر جنسی ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ 34 سالہ پربھو رمامورتھی فلائیٹ میں اپنی اہلیہ اور اس خاتون کے درمان بیٹھے ہوئے تھے۔

خاتون نے الزام میں کہا ہے کہ وہ فلائیٹ کے دوران سوئی ہوئی تھیں اور جب ان کی آنکھ کھلی تو ان کے شرٹ اور پتلون کے بٹن کھلے ہوئے تھے اور وہ شخص دست درازی کر رہا تھا۔

پربھو نے اس الزام کی تردید کی ہے اور پولیس کو بتایا کہ وہ خود گولی کھا کر فلائیٹ میں سوئے ہوئے تھے۔

پربھو انڈین شہری ہیں اور ان کے پاس عارضی امریکی ویزا ہے۔

سپرٹ ایئر لائنز کی فلائیٹ لاس ویگس سے ڈیٹروئٹ جا رہی تھی۔

پربھو کو مشیگن کی وفاقی عدالت میں پیشی کے بعد بغیر ضمانت کے حراست میں لیا ہوا ہے۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ ان کو ڈر ہے کہ پربھو مفرور ہو جائیں گے۔

استغاثہ نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ پربھو پر جنسی ہراس کا فرد جرم عائد کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق اس عورت نے جہاز لینڈ ہونے کے بعد رپورٹ درج کرائی۔

پربھو کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ یہ عورت جہاز میں ان کے شوہر کے گھٹنوں پر سر رکھ کر سوئی ہوئی تھیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ انھوں نے ایئر ہوسٹس سے درخواست بھی کی تھی کہ اگر ان کی اور ان کے شوہر کی سیٹیں تبدیل کر دی جائیں۔

تاہم ایئر ہوسٹس نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ انڈین جوڑے نے نہیں بلکہ اس خاتون نے سیٹ تبدیل کرنے کی درخواست کی تھی۔

جہاز کے عملے نے کہا کہ جب یہ خاتون ان کے پاس آئیں تو وہ رو رہی تھیں اور ان کے شرٹ اور پتلون کے بٹن کھلے ہوئے تھے۔

عملے نے اس کے بعد اس خاتون کو جہاز کے آخر میں دوسری نشست پر بیٹھا دیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں