آندھرادپریش:ہڑتالی ملازمین سے مذاکرات ناکام، چھٹے دن بھی بجلی غائب

Image caption ریاست کے تیرہ اضلاع کو بجلی کی طویل بندش کا سامنا ہے

بھارت کی جنوبی ریاست آندھرا پردیش کی تقسیم کے قیام خلاف ہڑتال کرنے والے محکمۂ بجلی کے ملازمین اور حکام کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں اور ریاست کے بیشتر عوام چھٹے دن بھی بجلی سے محروم ہیں۔

بھارتی کابینہ نے چند روز قبل ملک میں انتیسویں ریاست تیلنگانہ کے قیام کی منظوری دی تھی جس کے بعد آندھرا پردیش اب دو ریاستوں تیلنگانہ اور سیماندھرا میں تقسیم ہو جائے گی۔

اس فیصلے کے خلاف ریاست میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور بجلی کے محکمے کے ارکان کی ہڑتال سے ریل اور فضائی ٹریفک بری طرح متاثر ہوئی ہے جبکہ ہسپتالوں اور ہنگامی امداد کے اداروں کو جنریٹرز پر گزارا کرنا پڑ رہا ہے۔

اس کے علاوہ پانی کی فراہمی اور موبائل فون سروس پر بھی بجلی کی اس بندش کا اثر پڑا ہے۔

ریاست کے وزیرِاعلیٰ کرن کمار ریڈی نے منگل کی شب ہڑتالی کارکنوں سے مذاکرات میں غیرمعینہ مدت کی ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی جسے کارکنوں نے مسترد کر دیا۔

خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق کارکنوں کے رہنما سائے بابو کا کہنا تھا کہ ’ہم ہنگامی امداد کے اداروں کو بھی اس ہڑتال سے استثنیٰ نہیں دیں گے۔‘

اطلاعات کے مطابق اس ہڑتال میں بجلی کے محکمے کے تیس ہزار ملازمین شریک ہیں اور اس سے ریاست میں بجلی کی نصف پیداوار متاثر ہوئی ہے اور ریاست کے تیرہ اضلاع کو بجلی کی طویل بندش کا سامنا ہے۔

بجلی کے محکمے کے علاوہ آندھرا پردیش میں متعدد سرکاری محکمے اور بینک بھی ملازمین کی ہڑتال کی وجہ سے بند ہوئے ہیں۔

آندھرا پردیش کے عوام کا ایک بڑا حصہ ریاست کی تقسیم کے خلاف ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ تیلگو زبان بولنے والوں کی تقسیم کا منصوبہ ہے۔ عوام کو ریاستی دارالحکومت حیدرآباد کی تقسیم پر بھی اعتراض ہے۔

خیال رہے کہ تیلنگانہ حیدرآباد کے آس پاس والے دس اضلاع پر مشتمل ہوگی لیکن حیدرآباد آئندہ دس برس کے لیے دونوں نئی ریاستوں تیلنگانہ اور سیماندھرا کا مشترکہ دارالحکومت رہے گا۔

اسی بارے میں