بھارت: خلیجِ بنگال میں سمندری طوفان، 5 لاکھ افراد کا انخلا

خلیج بنگال میں اٹھنے والا سمندری طوفان پائیلن بھارت کے مشرقی ساحلی علاقوں سے ٹکرا گیا ہے اور تباہی کے خدشے کے پیشِ نظر پانچ لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

بھارتی حکام نے ساحلی علاقوں میں ریڈ الرٹ جاری کیا ہوا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار سلمان راوی کے مطابق یہ طوفان اڑیسہ میں گوپال پور اور شريكاكلم کے علاقوں سے ٹکرایا ہے جس کے بعد علاقے میں شدید بارش ہو رہی ہے اور انتہائی تیز ہوائیں بھی چل رہی ہیں۔

سمندری طوفان اور سمٹتی زندگی

پائیلن کا خطرہ اور نقل مکانی

بھارتی محکمۂ موسمیات کا اندازہ ہے کہ طوفان کے دوران 220 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل سکتی ہیں جبکہ ہوائی میں امریکی بحری فوج کے طوفان سے خبردار کرنے کے سینٹر کا کہنا ہے کہ طوفان کے دوران ہواؤں کی رفتار 269 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔

بھوونیشور سے نامہ نگار سندیپ ساہو کے مطابق طوفان سے کچھ مقامات پر درخت اور دیواریں گرنے سے چھ افراد کی ہلاکت کی خبر ہے لیکن ابھی اس کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

اس کے علاوہ سمندر میں 18 ماہی گیروں کے پھنسے ہونے کی بھی اطلاع ہے اور ریلیف کمشنر پی موہاپاترا کا کہنا ہے کہ بھارتی فضائیہ کے ایک ہیلی کاپٹر کو ماہی گیروں کو نکالنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔

Image caption پانچ لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے

لندن میں ٹراپیکل رسک سینٹر نے پائیلن کو طوفانوں کے پانچویں زمرے میں شامل کیا ہے جو سب سے طاقتور طوفان ہوتا ہے۔

اُڑیسہ میں سنہ انیس سو ننانوے میں ایک شدید سمندری طوفان آیا تھا جس سے دس ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

دہلی میں ہمارے نامہ نگار سنجے مجومدار کا کہنا ہے کہ حکام کے بقول وہ اس بار طوفان سے نمٹنے کے لیے نسبتاً زیادہ تیار ہیں۔

بھارتی محکمہِ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ پائیلن طوفان اڑیسہ کے قصبےگوپال پور کے قریب ساحل سے ٹکرا سکتا ہے اور اس موقع پر دس فٹ اونچی لہریں پیدا ہوں گی جو علاقے کے مٹی سے بنے مکانات کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہیں۔

اْڑیسہ کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے وزیر سوریا نارائن پترا نے کہا کہ ’ساحلی علاقوں میں کسی کو بھی مٹی سے بنے یا کچے مکانات میں رہنے کی اجازت نہیں ہو گی۔‘

بھارتی محکمۂ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل کے حوالے سے بتایا گیا کہ ’ہواؤں کی رفتار کو دیکھتے ہوئے پتہ چلتا ہے کہ طوفان بہت زیادہ نقصان دہ ہو سکتا ہے۔‘

دونوں ریاستوں میں ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے اور امدادی کارروائیوں کے لیے فوج تیار ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ طوفان سے جو علاقے متاثر ہوں گے ان کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے اشیائے خورد و نوش پہنچانے کی تیاری کر لی گئی ہے۔

اُڑیسہ میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ ممکنہ متاثرہ افراد کے لیے عارضی پناہ گاہیں تیار کر رہے ہیں۔

اڑیسہ کے چار اضلاع سے تقریباً چار لاکھ افراد جبکہ آندھرا پردیش کے تین اضلاع سے تقریباً ایک لاکھ سے زائد لوگوں کو محفوظ مقام پر بھیجا جا چکا ہے.

قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے اہل کار سوریا نارائن پترا نے ایک مقامی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم قدرت سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم اس مرتبہ بہتر انداز میں تیار ہیں۔ ہم نے سنہ انیس سو ننانوے سے بہت کچھ سیکھا ہے۔‘

بھارت میں نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کا مشرقی ساحل اور بنگلہ دیش میں اکثر اپریل اور نومبر کے مہینوں کے درمیان سمندری طوفان آتے رہتے ہیں جن کی وجہ سے جانی اور مالی نقصان ہوتا ہے۔

دسمبر سنہ دو ہزار گیارہ میں جنوبی ریاست تمل ناڈو میں آنے والے ’تھیں‘ نامی سمندری طوفان سے درجنوں افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں