بھارت:مدھیہ پردیش میں مذہبی تہوار کے دوران بھگدڑ، 111 ہلاک

Image caption بھگدڑ اس وقت مچی جب زائرین نوراتری کے نویں دن مندر کی جانب جا رہے تھے

بھارت کی شمالی ریاست مدھیہ پردیش میں حکام کے مطابق ضلع داتیا میں رتن گڑھ ماں نامی مندر کے پاس بنے پل پر مچنے والی بھگدڑ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 111 تک پہنچ گئی ہے۔

حکام کے مطابق اتوار کی صبح نو راتری کے تہوار کے موقع پر پیش آنے والے حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں سے بیشتر ہجوم میں کچلے گئے جبکہ کچھ دریا میں ڈوب کر ہلاک ہوئے۔

الہ آباد بھگدڑ کی تحقیقات کا حکم

پٹنہ میں بھگدڑ میں چودہ افراد ہلاک

رتن گڑھ مندر کے قریب ہلاک شدگان کی چتائیں جلانے کا سلسلہ پیر کو بھی جاری ہے۔

چنبل رینج کے انسپکٹر جنرل پولیس ایس ایم افضل نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اب تک 111 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔

ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔

اس سے قبل مقامی پولیس کے اہلکار آنند مشرا نے پیر کی صبح خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ ’ہم نے دریا سے اور پل پر کچلے جانے والے افراد کی لاشیں برآمد کی ہیں اور حادثے میں 133 افراد کے زخمی ہوئے ہیں۔‘

داتيا سے پچپن کلومیٹر دور واقع رتن گڑھ ماں نامی یہ مندر دریائے سندھ کے ایک کنارے پر واقع ہے اور دوسری طرف سے مندر آنے جانے کے لیے دریا پر پل بنا ہے۔ یہاں ہر سال نوراتری کے تہوار کے لیے لاکھوں عقیدت مند آتے ہیں۔

اتوار کی صبح سات سے آٹھ بجے کے درمیان مندر کے قریب واقع پل پر موجود یاتریوں میں پل ٹوٹنے کی افواہ پھیلی، جس کے بعد صورتحال نے بھگدڑ کا روپ اختیار کر لیا۔ کئی لوگ بھگدڑ میں کچلے گئے جبکہ کئی جان بچانے کے لیے دریا میں کود گئے۔

ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا ’پل پر ہزاروں لوگ اچانک چیختے ہوئے کنارے کی طرف بھاگنے لگے، جس سے بھگدڑ مچ گئی۔ بھگدڑ کے دوران کچھ لوگ کچلے گئے اور کچھ جان بچاتے ہوئے دریا میں کود گئے۔ میں اور میرے کچھ دوست پل کے دوسرے سرے کے پاس تھے اس لیے بچ نکلے۔‘

مقامی لوگوں کے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کئی لوگ دریا میں کودنے کی وجہ سے لاپتہ بھی ہوئے ہیں۔

پولیس ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل سربجیت سنگھ نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ حادثے میں زخمی ہونے والوں کو دتيا، بھڈ اور گوالیار کے ہسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔

ریاست کے وزیرِاعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے معاملے کی عدالتی تحقیقات کا حکم دیا ہے اور مرنے والوں کے اہل خانہ کو ڈیڑھ لاکھ اور زخمیوں کو پچیس ہزار روپے معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔

سنہ دو ہزار چھ میں بھی اس مندر کے پاس ایک پل پر ایسا ہی حادثہ ہوا تھا جس میں کئی افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حادثے کے بعد ہی پکا پل بنایا گیا تھا۔

اسی بارے میں