امریکہ اور بھارت حقانی نیٹ ورک، لشکرِ طیبہ کے مالی نیٹ ورک کے انسداد پر متفق

Image caption امریکہ نے کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ کے بانی اور جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ سعید کی تلاش میں مدد دینے پر ایک کروڑ ڈالر کا انعام مقرر کیا تھا

امریکہ اور بھارت نے پاکستان میں سرگرم شدت پسند تنظیموں کے لیے مالی وسائل کی دستیابی کی روک تھام کی مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا ہے۔

واشنگٹن میں بھارت کے سفارتخانے کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے اقتصادی امور کے اہلکاروں کے درمیان سالانہ مذاکرات میں اس بات پر اتفاق ہوا کہ غیر قانونی مالی نیٹ ورکس کے انسداد اور بالخصوص دہشتگردی کے لیے مالی تعاون فراہم کرنے والی تنظیموں کی رقم جمع کرنے کے عمل کی روک تھام کے لیے دونوں ممالک کے درمیان تعاون میں اضافہ کیا جائے۔

بیان میں بھارت کے معاشی امور کے سیکرٹری اروند مایارام نے کہا ہے کہ لشکرِ طیبہ اور اس سے منسلک جماعت الدعوۃ جیسی تنظیموں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

کچھ بھارتی تفتیش کار جماعت الدعوۃ کو سنہ دو ہزار آٹھ کے ممبئی حملوں کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ ان حملوں میں 166 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

گذشتہ سال امریکہ نے کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ کے بانی اور جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ سعید کی تلاش میں مدد دینے پر ایک کروڑ ڈالر کا انعام مقرر کیا تھا۔

بیان میں اس بات کی تفصیلات نہیں دی گئیں کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کیسے بڑھایا جائے گا۔

اروند مایا رام نے پاکستان میں سرگرم ایک اور گروہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کا بھی ذکر کیا۔ حقانی نیٹ ورک پر افغانستان میں بھارتی سفارتخانے اور نیٹو افواج پر حملے کے الزامات ہیں اور گذشتہ سال امریکہ نے حقانی نیٹ ورک کو ایک کالعدم تنظیم قرار دیا تھا۔

پاکستان اور بھارت کے تعلقات سال دو ہزار آٹھ میں ممبئی حملوں کے بعد کشیدگی کا شکار ہو گئے تھے۔

گذشتہ دو سال کے دوران ان میں قدرے بہتری کے آثار نظر آنا شروع ہوئے تھے لیکن رواں سال کے آغاز پر دونوں ممالک کے درمیان کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر جھڑپوں کی وجہ سے یہ تعلقات دوبارہ کشیدگی کا شکار ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ سنیچر کو پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بھارت کی فوجی قیادت کے پاکستانی فوج اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر دہشت گردی کی حمایت کے الزامات کو اشتعال انگیز قرار دیا تھا۔

تین دن پہلے ہی بھارتی فوج کی شمالی کمان کے سربراہ لیفٹنٹ جنرل سنجے چھاجر نے لائن آف کنڑول کے بھارتی علاقے میں شدت پسندوں کے ساتھ اب تک کے طویل ترین مسلح تصادم ختم ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’لائن آف کنٹرول پر دونوں ملکوں کی افواج آمنے سامنے ہیں۔ اتنی بڑی کلِک تعداد میں دراندازوں کا یہاں داخل ہونا پاکستانی فوج کی مدد کے بغیر ممکن ہی ہے۔‘

جمعہ کو جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں افسروں کے ایک گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے جنرل کیانی نے کہا تھا کہ پاکستان کو بھی لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزیوں پر تشویش ہے اور ’بےبنیاد الزام تراشیوں کی بجائے بھارت کو پاکستان کی اس پیشکش کو قبول کر لینا چاہیے جس میں لائن آف کنٹرول کے واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہیے اور ترجیحاً اقوام متحدہ کے ذریعے یہ تحقیقات کرائی جائیں۔‘

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ بھارت اور پاکستان کے وزرائے اعظم نیویارک میں ملاقات کے دوران اس بات پر متفق ہوئے تھے کہ امن بات چیت میں پیش رفت کے لیے کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر ہونے والے حملوں کو روکنا ضروری ہے۔

اسی بارے میں