سادھو کےخواب میں خزانہ، کُھدائی شروع

خزانہ
Image caption محکمہ ارضیات کی رپورلا کے مطابق یہ سونا، چاندی اور دیگر دھات ہو سکتی ہے۔

اتر پردیش کے اناؤ ضلع میں بابا شوبھن سرکار نے خواب میں دیکھا کہ اوناؤ کے قلعہ میں ایک ہزار ٹن سونا دبا ہوا ہے اس کے بعد ہندوستان کے محکمہ آثارِ قدیمہ کی جانب سے اس علاقے میں دھات کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔

اب جمعہ سے یہاں کھدائی کا کام شروع ہونے والا ہے۔تاہم اس بارے میں بھارتی محکمہ آثار قدیمہ کے ترجمان بيار منی نے بی بی سی کے نامہ نگار ونیت کھرے سے بات چیت میں کہا کہ کھدائی کا خواب سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

تفصیلات دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اصل میں وہاں کے وزیر چرن داس مہنت ہیں، ایک سادھو نے ان سے رابطہ کیا تھا اور بتایا بھی تھا کہ انہیں یہ بات خواب میں آئی ہے کہ یہاں واقع قلعہ میں ایک ہزار ٹن سونا دبا ہوا ہے۔

محکمہ ارضیات نے اپنی ٹیم وہاں بھیجی اور انہوں نے وہاں اپنے آلات سے معلوم کیا کہ واقعی زمین کے نیچے دھات کے ذخیرے موجود ہیں۔

اس کے بعد ہندوستان ارضیاتی سروے کی رپورٹ آئی اور پھر اس کے بعد یہ طے ہوا کہ ہندوستانی محکمہ آثار قدیمہ تحقیقات کرے۔

بيار منی نے کہا کہ ’بھارتی ارضیاتی سروے نے اپنی ٹیم نے اپنی رپورٹ میں صاف کہا کہ یہ سونا، چاندی اور دیگر دھات ہو سکتی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ’جہاں تک کسی کے خواب کی بات ہے ہم لوگ خواب کی بنیاد پر یہ کھدائی نہیں کر رہے ہیں چونکہ بھارتی ارضیاتی سروے نے یہ بتایا کہ وہاں دھات موجود ہے،

اس کے بعد ثقافتی وزارت نے یہ فیصلہ کیا کہ وہاں کھدائی کرکے پتہ لگایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ یہ قلعہ اناؤ میں ہے اناؤ میں دریا کے کنارے اس جگہ کا نام سنگرام پور ہے۔

قلعے کی کھدائی کے لیے مرکز کی جانب سے دباؤ ہونے کے بارے میں منی نے کہا کہ ’یہ کھدائی مرکزی حکومت ہی کروا رہی ہے انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی طرف سے کچھ نہیں کیا جب محکمہ ارضیات نے حکومت کو اپنی رپورٹ دی جس میں بتایا گیا کہ زمین کے نیچے بڑی مقدار میں دھات موجود ہے اس کے بعد ہی یہ فیصلہ کیاگیا۔

بيار منی نے بتایا کہ سن 1857 میں وہاں قلعہ بنا ہوا تھا وہاں کے حکمران راجارام بكش سنگھ تھے، جنہیں پھانسی دی گئی تھی، کیونکہ انہوں نے 1857 میں انگریزوں کے خلاف جنگ میں حصہ لیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ’یہ قلعہ كھنڈر میں تبدیل ہو چکا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ حکومت کے کہنے پر کھدائی کی جا رہی ہے۔سروے کی رپورٹ پیشہ ورانہ رپورٹ ہے اس رپورٹ کی بنیاد پر ہی یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں