سادھو کھلے عام حکومتیں بنانے اور گرانے کی باتیں کرنے لگے ہیں

Image caption کھدائی کے مقام پر میلہ لگا ہوا ہے اور ہزاروں لوگ دور دراز کے دیہاتوں سے خزانے کی کھدائی کا منظر دیکھنے کے لیے وہاں پہنچ رہے ہیں

اتر تردیش کے اناؤ ضلع کے ایک گاؤں ڈونڈیا کھیڑا کے شیو مندر کے احاطے میں اس وقت آثار قدیمہ کے درجنوں ماہرین تیزی سے کھدائی میں مصروف ہیں۔ یہ ماہرین دور قدیم کے باقیات اور آبادیوں کے نشان نہیں بلکہ ایک خزانے کی بازیابی کے لیے کھدائی کر رہے ہیں۔

گزشتہ مہینے اس مندر کے سادھو شوبھم سرکار کے خواب میں اس علاقے کے انیسویں صدی کے راجہ نطر آئے۔ انہوں نے ملک کی اقتصادی بدحالی پر بہت افسوس ظاہر کیا اور سادھوکو بتایا کہ 1857 کی بغاوت میں انگریزوں کے ہاتھوں مارے جانے سے قبل انہوں نے اس مندر کے احاطے میں ایک ہزار ٹن سونا دفن کر دیا تھا۔ راجہ نے پجاری سے کہا کہ آپ اس کے بارے میں حکومت کو بتا دیجیے۔

سادھو نے ایک مرکزی وزیر کو اپنے خواب کی اطلاع دی۔ مرکزی حکومت کی ہدایت پر جیولاجیکل سروے آف انڈیانے فوراً وہاں زمین کا جائزہ لیا اور یہ رپورٹ دی کہ زمین کے اندر بڑی مقدار میں کوئی دھات موجود ہے۔ حکومت نے آثار قدیمہ کے ماہرین وہاں بھیجے۔ مندر کے سادھو نے رات میں ایک مقام پر سحری کے وقت پوجا پاٹ کا اہتمام کیا اور آثار قدیمہ کے ماہرین سادھو کی بتائی ہوئی جگہ پر کھدائی میں لگ گئے ہیں۔

کھدائی کی خبر ملتے ہی بیسیوں چینل کے نامہ نگار اس پرانے مندر کے پاس ڈیرہ ڈال کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ابتدا میں ہرپھاؤڑے کی مار خبروں کے چینلوں پر اس امید کے ساتھ براہ راست نشر ہوتی رہی کہ سونا اب نکلنے ہی والا ہے۔

سادھو کے خواب میں لوگوں کو کس حد تک یقین ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اتر پردیش کی حکومت نے کہا ہے کہ خزانے میں اس کا سب سے بڑا حصہ ہونا چاہیے۔ مقامی انتظامیہ نے سونے کی سلیاں اور سکے وغیرہ رکھنے کے لیے مضبوط صندوقوں کا انتطام کر لیا ہے اور مندر کے احاطے میں رات دن سخت پہرہ لگا دیا گیا ہے۔

کھدائی کے مقام پر میلہ لگا ہوا ہے۔ ہزاروں لوگ دور دراز کے دیہاتوں سے خزانے کی کھدائی کا منظر دیکھنے کے لیے وہاں پہنچ رہے ہیں۔

بھارت توہمات اور بھوت و آسیب میں یقین رکھنے والے لوگوں سے بھرا پڑا ہے۔ بھارتی معاشرے کی طرح سیاست میں بھی جہالت کی کمی نہیں ہے اور بڑی تعداد میں سیاست دان ستاروں کی چال اور سادوھوؤں کی ہدایت کے مطابق ہی اپنی زندگی کے اہم فیصلے کرتے رہے ہیں۔

پچھلے کچھ سالوں میں ملک کی سیاست میں بے یقینی، کمپٹیشن میں شدت اور اندھا دھند بدعنوانی اور لوٹ پر کچھ قابو آنے سے سیاست دانوں میں سادھوؤں کی طرف مائل ہونے کاچلن کافی بڑھا ہے۔ بڑی بڑی سرکاری عمارتوں کے سنگ بنیاد رکھنے سے لے کر پروگراموں اور تقاریب تک ہر جگہ سادھوؤں کا بول بالا نظر آتا ہے۔

معاشرے میں بے یقینی، ملی ہوئی کامیابی کھونے کا خوف اور عدم تحفظ کا احساس اتنا شدید ہے کہ سیاست دانوں سے لے کر صنعت کار، بزنس مین، بڑے بڑے صحافیوں اور یہاں تک کہ ملک کے چوٹی کے سائنسدانوں کی انگلیوں، ہاتھوں اور گلے میں بھی بری روحوں اور پریشانیوں سے بچانے والی انگوٹھیاں اور گنڈے و تعویز نظر آتے ہیں۔

ملک میں بڑھتی ہوئی جہالت اب اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ بھارتی سائنسدانوں کے تیار کردہ راکٹ اور مصنوعی سیارے بھی اب سادھوؤں کی پوجا کے بعد ہی خلا میں بھیجے جاتے ہیں۔ یہی نہیں یہ سادھو اب راکٹوں کی پرواز کا موزوں وقت بھی بتاتے ہیں۔

معاشرے میں سادھوؤں اور باباؤں کا اثر اتنا بڑھ گیا ہے کئی سادھو اب کھلے عام حکومتیں بنانے اور گرانے کی باتیں کرنے لگے ہیں۔

اس لیے جب ایک سادھو کے خواب کی بنیاد پر مرکزی حکومت نے اناؤ کے گاؤں میں خزانے کی کھدائی شروع کرائی تو بہت سے لوگوں کو بالکل حیرت نہیں ہوئی۔ کچھ دنوں پہلے پریس کونسل کے سربراہ جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک میں سائنسی سوچ اور نطریہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔ انہیں اپنے بیان کے لیے معافی مانگنی پڑی تھی۔

اسی بارے میں