بھارت کا لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کی خلاف ورزی کا الزام ، پاکستان کا انکار

Image caption کٹھوعہ، ہیرا نگر، سانبا، رن بیر سنگھ پورہ اور دوسرے سیکڑوں میں پاکستان نے بھارتی تنصیبات پر فائرنگ کی: بھارتی فوج

کشمیر کی لائن آف کنٹرول پر قیام امن کے لیے بھارت اور پاکستان کے فوجی حکام کے اجلاس سے دو روز قبل بھارتی زیرانتظام کشمیر میں تعینات بھارت کی بارڈر سیکورٹی فورس نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ اڑتالیس گھنٹوں کے دوران پچیس مقامات پر پاکستانی افواج نے جنگ بندی کے معاہدہ کی خلاف ورزی کی ہے۔

دوسری جانب پاکستان نے ان الزامات سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کی معاہدے کی پاسداری کرتا ہے اور تمام مسائل کا حل بات چیت سے کرنے کے حق میں ہے۔

بی ایس ایف کے ایک ترجمان نے بتایا ’کٹھوعہ، ہیرا نگر، سانبا، رن بیر سنگھ پورہ اور دوسرے سیکٹروں میں پاکستان نے بھارتی تنصیبات پر فائرنگ کی۔ ہم نے بھی مارٹر گولوں سے جواب دیا۔‘

عیدالاضحی کے روز بھی رن بیر سنگھ پورہ میں بعض بچے زخمی ہوئے تھے۔ بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ بچے پاکستانی فوج کی فائرنگ سے زخمی ہوئے۔

کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اس واقعے پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے بھارتی حکومت سے کہا ہے کہ وہ ایل او سی پر جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزیوں کے معاملہ میں پاکستان پر دباؤ ڈالے۔

واضح رہے کشمیر کو بھارت اور پاکستان کے درمیان تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر دس سال قبل دونوں ملکوں نے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔

ان الزامات کے جواب میں پاکستان کی دفترِ خارجہ کے ترجمان اعزاز چوہدری نے کہا پاکستان کی حکومت لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کے معاہدے کی سختی سے پابندی کر رہی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان جانب سے کبھی کوئی کارروائی کی گئی ہے تو وہ صرف ’ جوابی کارروائی‘ ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جیسا دونوں ممالک کے وزراء اعظم کے متفق ہوئے ہیں دونوں ممالک ے فوجی حکام مل کر اس مسئلے کا پائیدار حل تلاش کریں۔

پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان تمام مسائل کا حل بات چیت سے تلاش کرنے کے حق میں ہے اور وہ کوئی تشدد نہیں چاہتا۔

۔۔۔

Image caption لائن آف کنٹرول پر اس کشیدگی کا براہ راست اثر بھارت اور پاکستان کے درمیان متوقعہ مفاہمت پر پڑ رہا ہے

وقفے وقفے سے دونوں ممالک ایک دوسرے پر اس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے رہتے ہیں۔ لیکن اس سال اگست سے ایسا لگتا ہے کہ جنگ بندی کا یہ معاہدہ اب چھبیس نومبر دو ہزار تین کو رقم ہوئے ایک مشترکہ اعلانیہ تک ہی محدود ہے۔ کیونکہ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ صرف اس سال جنوری سے اب تک دو سو مرتبہ پاکستانی افواج نے معاہدے کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔ بھارتی فوج کا کہنا ہے کہ ان واقعات میں کئی فوجی بھی مارے گئے۔

لائن آف کنٹرول پر اس کشیدگی کا براہ راست اثر بھارت اور پاکستان کے درمیان متوقعہ مفاہمت پر پڑ رہا ہے۔ بھارت کے وزیر خارجہ سلمان خورشید نے بھی آج انڈونیشیا کے دورے سے واپسی کے دوران سرکاری طیارے میں نامہ نگاروں کو بتایا ’اس ماحول میں مربوط مذاکرات کا بحال ہوجانا ناممکن ہے، تاہم ہم نے پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے تعلقات کی بہتری کے لیے پہل کا خیر مقدم کیا ہے۔‘

سلمان خورشید نے کہا کہ ایل او سی کی کشیدگی کو فوجی سطح پر حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

قابل ذکر ہے پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کا اجلاس اکیس اکتوبر کو متوقع تھا، لیکن اس سے قبل بی ایس ایف نے پاکستانی فوج کی طرف سے تازہ حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔

دریں اثنا بھارت کے وزیرِ داخلہ سُشیل کمار شنڈے بھی چند روز میں ہی کشمیر کا دورہ کر کے ایل او سی کی اگلی چوکیوں کا معائنہ کریں گے۔

یاد رہے کہ لائن آف کنٹرول پر امن بحال کرنے کی خاطر دونوں ملکوں نے دو ہزار آٹھ میں کشمیر کی منقسم خطوں کے درمیان تجارت کی اجازت دے دی۔ فائرنگ کے واقعات سے اکثر یہ تجارت بھی متاثر ہوتی رہی ہے۔

اسی بارے میں