بھارت: سزا ملنے پر پارلیمان کی رکنیت ختم

Image caption سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بھارت کی سیاسی جماعتوں کو سخت مشکل کا سامنا ہے

بھارت کی سپریم کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے کے بعد حکمران جماعت کانگریس سے تعلق رکھنے والے رشید مسعود پہلے رکنِ پارلیمان بن ہیں جن کی رکنیت بدعنوانی کے ایک معاملے میں سزا یاب ہونے بعد ختم کر دی گئی ہے۔

رشید مسعود کی نشست خالی ہونے کا نوٹیفیکیشن راجیہ سبھا کے سیکرٹری جنرل شمشیر کے شریف کی جانب سے جاری کر دیا گیا ہے اور اس کی ایک نقل انتخابی کمیشن کو بھی بھیجی گئی ہے۔

رشید مسعود راجیہ سبھا کے رکن تھے اور انھیں ستمبر میں ایک ذیلی عدالت نے بد عنوانی اور دوسرے الزامات کے معاملے میں قصور وار پایا تھا۔

سزایافتہ سیاستدانوں کو بچانے کا آرڈینینس رد

لالو پرساد کو پانچ سال قید کی سزا

وہ سنہ 1990، 1991 میں وی پی سنگھ کی حکومت میں وزیر صحت تھے۔ ان پر الزام تھا کہ انھوں نے ڈاکٹری کے ایم بی بی ایس کورسز میں ملک کے مختلف میڈیکل کالجوں میں تریپورہ کے طلبا کے لیے مخصوص نشستوں پر دوسرے طلبا کو نامزد کیا جن میں بعض ان کے اپنے رشتے دار بھی تھے۔

رشید مسعود کو اس مقدمے میں بدعنوانی کا ارتکاب پایا گیا اور وہ اب جیل میں ہیں۔

یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے اس اہم فیصلے کے بعد آیا تھا جس میں عدالت عظمی نے یہ حکم دیا تھا کہ ایسے تمام ارکان کی رکنیت ختم کر دی جائے جنھیں ذیلی عدالت قصوروار قرار دیتی ہے۔

عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ قصوروار افراد پارلیمان اور اسمبلی کے انتخابات لڑنے کے بھی اہل نہیں ہوں گے۔

اس سے قبل قصور وار قرار دیے جانے والے شخص کو ہائی کورٹ اور اس کے بعد سپریم کورٹ میں اپیل کے فیصلے تک رکن بنے رہنے اور انتخاب لڑنے کا اختیار حاصل تھا۔

بھارت کی سیاسی جماعتوں نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو کالعدم کرنے کے لیے بہت عجلت میں ایک بل پیش کیا لیکن وہ اختلافات کے سبب منظور نہ ہو سکا۔

حکومت نے ایک آرڈینینس جاری کر کے عدالت عظمی کے فیصلے کو رد کرنے کی کوشش کی لیکن اسے شدید مخالفت کے بعد اس آرڈیننس کو واپس لینا پڑا ۔

رشید مسعود کے بعد اب لالو پرساد یادو اور جگدیش شرما کی لوک سبھاکی رکنیت ختم ہونے والی ہے ۔ ان دونوں ارکان کو بہار کے مشہور چارہ گھپلے میں سزا ہو چکی ہے اور وہ قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بھارت کی سیاسی جماعتوں کو سخت مشکل کا سامنا ہے ۔ ہر سیاسی جماعت میں ایسے متعدد ارکان اور رہنما ہیں جنھیں مجرمانہ نوعیت کے مقدمات کا سامنا ہے۔

بھارت میں نومبر اور دسمبر میں ملک کی پانچ ریاستوں میں انتخاب ہونے والے ہیں اور غالباً یہ پہلا موقع ہے جب سیاسی جماعتیں ایسے امیدواروں کو ٹکٹ نہیں دے رہی ہیں جن کے خلاف مجرمانہ مقدمات چل رہے ہیں یا جن کا مجرمانہ ریکارڈ ہے۔

اسی بارے میں