باتوں سے نہیں، کسی اور طریقے سے جواب دیں: عمر عبداللہ

Image caption عمر عبداللہ اب تک تمام معاملات کو بات چیت کے ذریعے ہی حل کرنے کی بات کرتے رہے ہیں

بھارت کے زیرِانتظام کشمیر کے وزیرِاعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ اگر پاکستان کی جانب سے کنٹرول لائن کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ بند نہیں ہوتا تو بھارتی حکومت اس کا جواب دینے کے لیے دوسرے آپشنز کا جائزہ لے۔

سری نگر میں منعقدہ ایک تقریب میں انہوں نے کہا کہ فائرنگ اگر جاری رہتی ہے ’تو اس کا جواب باتیں نہیں بلکہ جواب دینے کے لیے کوئی اور طریقہ نکالنا ہوگا۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’سمجھ میں نہیں آتا کہ جب دونوں ملکوں کے رہنماؤں نے جنگ بندی کا معاہدہ کیا تھا تو اس کی خلاف ورزی کیوں کی جا رہی ہے۔ کیا اس کا مقصد ریاست کے حالات کو خراب کرنا ہے؟‘

عمر عبداللہ نے چند دن قبل بھی کنٹرول لائن پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ اس معاملے پر پاکستان سے بات کرے۔

واضح رہے کشمیر کو بھارت اور پاکستان کے درمیان تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر دس سال قبل دونوں ملکوں نے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔

تاہم دونوں ممالک ایک دوسرے پر اس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے رہتے ہیں اور رواں سال اگست سے کنٹرول لائن پر دونوں جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزیوں کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں جن میں کئی افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

کنٹرول لائن پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں بھارت کے وزیر داخلہ سشیل کمار شندے منگل کو جموں کشمیر میں بین الاقوامی سرحد پر سکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے سرحدی چوکیوں کا دورہ کر رہے ہیں۔

اس دوران دہلی میں دفاع سے متعلق پارلیمانی کمیٹی سلامتی کو درپیش خطرات اور ان سے نمٹنے کے لیے ملک کی دفاعی تیاریوں کا جائزہ بھی لینے والی ہے۔

دریں اثنا پاکستان نے کہا ہے کہ سیالکوٹ سیکٹر میں پاکستان کے سرحدی علاقوں میں بھارتی فوج کی جاری گولہ باری سے مزید دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

پنجاب رینجرز کے ترجمان نے ریڈیو پاکستان کو بتایا کہ انسانی جانوں کے نقصان کے علاوہ بھارتی گولہ باری سے بعض مکانات کو نقصان پہنچا اور متعدد مویشی بھی مارے گئے۔

اسی بارے میں