سی بی آئی کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں:منموہن

Image caption وزیراعظم کے دفتر نے آدتیہ برلا گروپ کی کمپنی ہڈالكو کو کوئلہ بلاک دینے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے

بھارت کے وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ وہ کوئلہ الاٹمنٹ سکینڈل میں تحقیقات کے لیے سی بی آئی کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

چین اور روس کے دورے سے واپسی کے سفر کے دوران منموہن سنگھ نے طیارے میں صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ ملک میں کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میرے پاس چھپانے کو کچھ نہیں ہے۔ میں سی بی آئی اور کسی بھی دوسرے ادارے کی تحقیقات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں۔‘

انہوں نے کہا کہ ملک میں نفرت کی سیاست پھیل رہی ہے جس پر وہ فکر مند ہیں۔

سی بی آئی کی جانب سے صنعت کار کمار منگلم برلا اور کوئلہ امور کے سابق سیکرٹری پی سی پاریکھ کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے بعد سے منموہن سنگھ حزب اختلاف کے نشانے پر ہیں۔

پاریکھ نے تفتیش کے دوران سی بی آئی کو بتایا ہے الاٹمنٹ کے معاملے میں حتمی فیصلہ وزیراعظم کا تھا، لہٰذا ان کا نام بھی سازش میں شامل ہونا چاہیے۔

وزیراعظم کے دفتر نے آدتیہ برلا گروپ کی کمپنی ہڈالكو کو کوئلہ بلاک دینے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔

منگل کو سپریم کورٹ میں نئی رپورٹ جمع کروانے کے بعد سی بی آئی نے وزیراعظم کے دفتر سے کہا تھا کہ ہڈالكو کے لیے ’ کول بلاک‘ مختص کرنے سے متعلق تمام دستاویزات اور ریکارڈ فراہم کیا جائے۔

پی ایم او نے کچھ ہی دن پہلے ہڈالكو کو کوئلہ بلاک کی الاٹمنٹ کو درست قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وزیراعظم منموہن سنگھ نے کیس کی خصوصیات کی بنیاد پر الاٹمنٹ کی منظوری دی تھی۔

سی بی آئی کے اس اقدام سے وزیراعظم منموہن سنگھ ایک مرتبہ پھر اپوزیشن کی تنقید کا نشانہ بن رہے ہیں اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے وزیراعظم سے قوم کے سامنے صفائی دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

اس سے پہلے کوئلے کے مرکزی وزیر پرکاش جیسوال نے وزیراعظم کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ معاملے کی تحقیقات کے سلسلے میں سی بی آئی سے مکمل تعاون کیا جا رہا ہے اور مانگی گئی تمام فائلیں فراہم کر دی گئی ہیں۔

سی بی آئی نے کوئلہ الاٹمنٹ سکینڈل کی تحقیقات کی تازہ معلومات دیتے ہوئے منگل کو سپریم کورٹ میں سٹیٹس رپورٹ پیش کی تھی۔

عدالت نے اس معاملے کی سماعت کے لیے اگلی تاریخ 29 اکتوبر طے کی ہے۔

بھارت میں سرکاری کھاتوں کی جانچ پڑتال کرنے والے ادارے کیگ کی ایک رپورٹ کے مطابق نجی کمپنیوں کو کوئلے کی كانیں ملنے سے حکومت کو ایک لاکھ چھیاسی ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے اور ان كمپنيوں کو کوئلے کی کانیں بغیر کوئی بولی لگائے دی گئی تھیں۔

اسی بارے میں