کشمیر:مسلح تصادم میں’عسکری کمانڈر‘ ہلاک

Image caption حالیہ دنوں میں کشمیر میں تشدد کی لہر میں اضافہ ہوا ہے

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے جنوبی ضلع شوپیاں میں پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ عسکریت پسندوں کے ایک اعلیٰ کمانڈر کو ہلاک کر دیاگیا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر میں 180 مسلح عسکریت پسند سرگرم ہیں جن کے خلاف مختلف سطحوں پر آپریشن کیے جائیں گے۔

شوپیاں میں ہونے والے تصادم کی تفصیل فراہم کرتے ہوئے پولیس ذرائع نے بتایا کہ خفیہ اطلاعات ملنے پر پولیس اور فوج نے ایک مشترکہ آپریشن شروع کر کے میوے کے ایک باغ کا محاصرہ کیا جس کے بعد تصادم شروع ہوا۔

پولیس حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے اس تصادم میں ابھی تک کالعدم قراردی جانے والی عسکری تنظیم لشکر طیبہ سے منسلک ایک اعلی کمانڈر عباس ریشی کو ہلاک کر دیا گیا۔ اس تصادم میں ایک شہری بھی زخمی ہوگیا جسے فوری طور پر سرینگر کے ہسپتال منتقل کیا گیا۔

کشمیر کی مقامی پولیس کے سربراہ اشوک پرساد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کشمیر میں کل180 عسکریت پسند سرگرم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر سے اس سال لائن آف کنٹرول عبور کرکے 80 عسکریت پسند بھارتی علاقوں میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

انہوں نے خفیہ اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں 400 مسلح عسکریت پسند دراندازی کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

اشوک پرساد نے کہا ’شمالی اور جنوبی کشمیر میں چند عسکریت پسند رہنما ہیں، یہی لوگ وادی کشمیر میں عسکریت پسندوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔ ان لوگوں کے خلاف مختلف سطحوں پر آپریشن کیے جا رہے ہیں۔‘

شوپیاں میں ہونے والی فائرنگ میں کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے کمانڈر کی ہلاکت کو کشمیر کے انسپکٹر جنرل اے جی میر نے پولیس کی بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لشکر طیبہ سے منسلک کمانڈر عباس ریشی قتل اور تشدد کے کئی معاملات میں پولیس کو مطلوب تھا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران کشمیر اور جموں خطے میں عسکریت پسندوں نے کئی مسلح حملے کیے اور جموں کے سامبا اور کٹھوہ اضلاع میں فوجی ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

دوسری جانب لائن آف کنٹرول پر بھارتی اور پاکستانی افواج کے درمیان فائرنگ کے مبینہ تبادلوں کی وجہ سے کشیدگی پائی جاتی ہے۔ بھارتی فوج کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج فائرنگ کی آڑ میں مسلح دراندازوں کو بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں داخل کراتی ہے۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران کشمیر میں مسلح تشدد کی سطح میں کمی آئی تھی لیکن مبصرین کا خیال ہے کہ اس سال فروری میں سابق عسکریت پسند افضل گورو کو دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دیے جانے کے بعد کشمیر میں مسلح تشدد کی نئی لہر چل پڑی ہے۔

اسی بارے میں