بھارت: پٹنہ میں نریندر مودی کے جلسے سے پہلے دھماکے، 5 ہلاک

  • 27 اکتوبر 2013
Image caption دھماکوں سے زخمی ہونے والے 83 افراد کو علاج کے لیے ہسپتال لایا گیا

بھارت کی ریاست بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں نریندر مودی کے جلسے سے کچھ دیر پہلے ہونے والے ہلکی نوعیت کے چھ دھماکوں میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

دھماکوں کے باوجود بھارت میں آئندہ الیکشن میں حزب اختلاف کی جماعت بی جے پی کے وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار نریندر مودی پروگرام کے مطابق گاندھی میدان میں منعقدہ جلسے سے خطاب کرنے پہنچے۔

وزیرِ داخلہ آر پی این سنگھ نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ پہلا دھماکہ صبح ساڑھے نو بجے بجے ریلوے سٹیشن کے قریب ہوا جبکہ پانچ دھماکے گاندھی میدان کی جلسہ گاہ قریب ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ کم شدت والے دھماکے تھے اور مزید تفصیلات تحقیقات کے بعد ہی سامنے آ سکیں گی۔ تاحال کسی گروپ کی جانب سے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق دھماکوں کے وقت جلسہ گاہ میں ہزاروں افراد جمع تھے اور دھماکے کے بعد لوگوں کے ہجوم کو باہر نکلتے ہوئے دیکھا گیا۔

Image caption تاحال کسی گروپ کی جانب سے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی

پٹنہ میڈیکل کالج ہسپتال کے میڈیکل سپرٹنڈنٹ ومل کارک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پانچ ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ دھماکوں سے زخمی ہونے والے 83 افراد کو بھی علاج کے لیے ہسپتال لایا گیا جن میں سے 38 اب بھی زیرِ علاج ہیں۔

دھماکوں کے بعد صحافیوں سے بات چیت میں بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے کہا کہ ’پولیس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے اور ہم کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے لیکن ایسا لگتا ہے کہ بہار اور ملک کے ماحول کو بگاڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘

نتیش کمار نے سب سے پرامن رہنے کی اپیل کی اور کہا کہ حکومت دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کو پانچ لاکھ ورپے بطور زرِ تلافی دے گی۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق بی جے پی نے دھماکوں کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے حامی ان دھماکوں سے ڈرنے والے نہیں۔

اس سے قبل بھارتی وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ منموہن سنگھ نے بہار کے وزیرِاعلیٰ نتیش کمار سے فون پر بات کی ہے اور کہا ہے کہ دھماکوں کی جلد تحقیقات کی جائیں۔

اسی بارے میں