بنگلہ دیش:ہڑتال کے آخری دن بھی جھڑپیں، اب تک 15 ہلاک

Image caption اپوزیشن کے حامیوں کا تصادم پولیس اور حکومت کے حامیوں دونوں سے ہوا

بنگلہ دیش میں حزبِ اختلاف کی اپیل پر ہونے والی تین روزہ ہڑتال کے آخری دن بھی پولیس اور حکومت کے مخالفین کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔

اس تین روزہ ہڑتال میں اب تک ملک کے مختلف علاقوں میں 15 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ درجنوں زخمی بھی ہوئے ہیں۔

منگل کو دارالحکومت ڈھاکہ میں ایک اعلیٰ پولیس افسر اس وقت زخمی ہوگیا جب مظاہرین نے پولیس پر دھماکہ خیز مواد پھینکا۔

بنگلہ دیش میں حزبِ مخالف کی بڑی جماعت اور اس کے اتحادیوں نے ملک میں ہونے والے نئے عام انتخابات کے لیے نگراں کابینہ کی تشکیل میں ناکامی پر حکومت کے خلاف اتوار سے یہ ہڑتال شروع کی تھی۔

حزبِ مخالف وزیرِاعظم کو مجبور کرنا چاہتی ہے کہ وہ آئندہ برس ہونے والے انتخابی عمل کے لیے غیر جانب دار نگران انتظامیہ کی اجازت دیں۔

بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی سربراہ خالدہ ضیاء نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آئندہ سال جنوری میں ہونے والے عام انتخابات سے قبل اقتدار سے علیحدہ ہو جائے۔

بنگلہ دیش کی وزیرِاعظم شیخ حسینہ واجد نے اس منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں غیر منتخب افراد کی جانب سے انتخابی عمل کی نگرانی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

بی این پی اور اس کی اتحادی جماعتیں موجودہ آئینی شقوں کے باعث انتخابات میں شرکت کرنے سے اجتناب کر رہی ہیں۔

یہ آئینی شقیں ملک میں غیر جانبدار، نگران حکومت یا موجودہ وزیرِاعظم کو عبوری وقفے کے دوران مستعفی ہونے کی اجازت نہیں دیتیں۔

بنگلہ دیش کی حزب مخالف کو اس بات کا خدشہ ہے کہ حکومت اقتدار میں رہتے ہوئے انتخابات میں دھاندلی کرے گی۔

بی بی سی کی بنگالی سروس کے صابر مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ عوام میں مستقبل قریب کے بارے میں سخت خدشات اور بےچینی پائی جاتی ہے اور انہیں خدشہ ہے کہ اگر حکومت اور اپوزیشن کے حامی دوبدو ہوئے تو حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔

اسی بارے میں