اتر پردیش:مظفر نگر میں دوبارہ تشدد، تین ہلاک

Image caption تشدد کے تازہ واقعے کے بعد پولیس علقاے میں پہنچ گئی ہے۔

بھارت کی ریاست اتر پردیش کے مظفرنگر میں ایک بار پھر تشدد کی اطلاعات ہیں جس کے نتیجے میں محمد پور گاؤں میں تین لوگوں ہلاک ہوئے ہیں۔

تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ یہ واقعہ فرقہ وارانہ تشدد کا نتیجہ ہے یا نہیں۔

پولیس نے واقعے کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کے جائے وقوع پر پولیس فورس پہنچ گئی ہے۔

مظفر نگر کے سینیئر پولیس اہلکار ہرناراي سنگھ نے بی بی سی سے بات چیت میں تین لوگوں کے مرنے کی تصدیق کی ہے۔

بی بی سی سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ یہ اموات باہمی جھگڑے میں ہوئی ہیں اور مرنے والے تینوں افراد اقلیتی برادری سے ہیں۔

ایس ایس پی ہرناراي سنگھ نے بتایا کہ یہ محمد پور اور حسین پور گاؤں کا واقعہ ہے جہاں باہمی تنازع میں تین لوگوں ہلاک ہوئے ہیں۔

گزشتہ ماہ مظفر نگر میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔ اس تشدد سے متاثرہ سینکڑوں لوگ اب بھی امدادی کیمپوں میں گزر بسر کر رہے ہیں۔

جس علاقے میں تازہ تشدد ہوا ہے وہ گزشتہ ماہ فرقہ وارانہ تشدد سے سب سے زیادہ متاثر تھا۔

اتر پردیش کے مظفر نگر ضلع میں ہندو مسلم فسادات سے ریاست کے دیگر علاقوں میں بھی کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔

وزیر اعلی اکھلیش یادو پر تشدد اور کشیدگی کو روکنے میں ناکام رہنے کا الزام لگایا گیا تھا اور ان کی حکومت کو بھی برطرف کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اس معاملے نے کافی طول پکڑ لیا تھا اور اس کی وجہ سے ریاستی حکومت پر کافی تنقید کی گئی تھ۔ واقعے کے لئے ذمہ دار کچھ ممبران اسمبلی سمیت کئی لوگوں کو گرفتار بھی کیا گیا۔

اسی بارے میں