اسلامی شدت پسند تیانامن واقعے کے ذمہ دار ہیں:چین

Image caption اس دھماکے کے بعد اہم مقامات کی سکیورٹی میں اضافہ کیا گیا ہے

چینی حکام کا کہنا ہے کہ بیجنگ کے تیانامن سکوائر میں ہونے والے حادثے کی ذمہ دار اسلامی شدت پسند تنظیم مشرقی ترکستان اسلامی تحریک ہے۔

پیر کو تیانامن سکوائر میں ایک کار ہجوم میں گھس کر دھماکے سے پھٹی اور فوری طور پر شعلوں کی گرفت میں آ گئی تھی۔ اس واقعے میں کار میں سوار تین افراد اور دو سیاح ہلاک جبکہ چالیس افراد زخمی ہوئے تھے۔

کار میں سوار تینوں افراد کا تعلق مغربی چینی صوبے سنکیانگ کی ایغور مسلم اقلیتی برادری سے بتایا جاتا ہے۔

چینی پولیس نے اس واقعے کے بعد سنکیانگ سے ہی تعلق رکھنے والے پانچ افراد کو حراست میں بھی لیا ہے جبکہ سنکیانگ میں حفاظتی انتظامات بھی سخت کر دیے گئے ہیں۔

چین کے اعلیٰ سکیورٹی اہلکار مینگ جیانزو نے کہا ہے کہ ’بیجنگ میں پیش آنے والا پرتشدد واقعہ دہشتگردی کی منظم اور سوچی سمجھی کارروائی تھی۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اس واقعے کا ذمہ دار گروپ ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ ہے جس نے ان افراد کو ایسا کرنے کے لیے بھڑکایا۔‘

چین اس گروپ کو ایک پرتشدد علیحدگی پسند تنظیم قرار دیتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ سنکیانگ میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات میں ملوث رہا ہے۔

وسط ایشیائی ملک ازبکستان کے دورے کے دوران مینگ جیانزو کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’خطے میں استحکام اور امن برقرار رکھنے کے لیے ہمیں انسدادِ دہشتگری کے سلسلے میں عالمی تعاون کو مزید مضبوط کرنا ہوگا۔‘

پولیس نے حادثے کا شکار ہونے والی کار کے ڈرائیور کی شناخت عثمان حسن کے نام سے کی ہے اور کار میں ان کی اہلیہ اور والدہ بھی تھیں۔

پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ گاڑی سنکیانگ صوبے میں رجسٹر تھی اور انہیں اس سے پٹرول کا ایک کنستر، دو چاقو اور ایک پرچم بھی ملا جس پر مذہبی نعرے تحریر تھے۔

چینی حکام کے مطابق اس واقعے کے بعد سنکیانگ میں پولیس نے ’حساس مذہبی خاندانوں‘ سے پوچھ گچھ بھی کی ہے۔

بیجنگ میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈیمیئن گرامیٹیکس کا کہنا ہے کہ سنکیانگ کی ایغور آبادی جو چین میں امتیازی سلوک کی شاکی ہے، ممکن ہے کہ ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کے مقاصد سے ہمدردی رکھتی ہو۔

تاہم ان کے مطابق زیادہ تر تجزیہ کاروں کے خیال میں اس گروپ میں اتنی صلاحیت نہیں کہ وہ تیانامن سکوائر پر حملے جیسے واقعات سرانجام دے سکے۔

خیال رہے کہ امریکہ نے گیارہ ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد اس گروپ کو دہشتگرد تنظیموں کی واچ لسٹ میں شامل کیا تھا تاہم بعد میں اس کا نام فہرست سے خارج کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں