ایل او سی: کشمیری جنگ بندی کے حق میں

Image caption مارچ کے شرکا ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دوستی کی حمایت میں نعرے لگا رہے تھے

گذشتہ ماہ نیویارک میں بھارت اور پاکستان کے وزرائے اعظم کی ملاقات کے بعد بھی کشمیر کی عبوری سرحد لائن آف کنٹرول پر فائرنگ اور تصادم جاری رہنے سے کشمیری حلقوں میں خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ یہاں کی ہندنواز اور ہندمخالف تنظیمیوں نے تقریباً یکساں لہجہ میں بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی بہتری اور لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کے نفاذ کی حمایت کی ہے۔

پیر کے روز ہند نواز سیاسی تنظیم پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی یا پی ڈی پی نے کشمیر میں ایک امن مارچ کیا جس کے دوران بھارت اور پاکستان کے درمیان دوستی کے نئے آغاز اور ایل او سی پر قیام امن کا مطالبہ کیا گیا۔

پی ڈی پی مسئلہ کشمیر کے حل میں پاکستان کو اہم فریق مانتی ہے۔ پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے سرینگر میں امن مارچ کی قیادت کی۔ اس مارچ میں سینکڑوں نوجوان، مرد اور خواتین نے حصہ لیا۔ مظاہرین ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دوستی کی حمایت میں نعرے لگا ہے تھے۔

انھوں نے کہا: ’میں بھارت کی حکومت اور وہاں کی اپوزیشن اور پاکستان کے وزیراعظم سے کہنا چاہتی ہوں کہ کشمیر کے لوگ دونوں ملکوں کے درمیان جنگ نہیں چاہتے بلکہ امن چاہتے ہیں۔‘

Image caption میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ جنوب ایشیا میں امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے

ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کے مسئلے کا حل دونوں ملکوں کے درمیان دوستی پُل بن سکتا ہے۔

علیحدگی پسندوں کے اتحاد حریت کانفرنس کے ایک دھڑے کے سربراہ میر واعظ عمرفاروق نے بھی دونوں ملکوں سے کہا ہے کہ جنوب ایشیا میں امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل کیا جانا ناگزیر ہے۔

کشمیر کی بیشتر علیحدگی پسند تنظیمیں لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کے لیے بھارت کو ذمہ دار مانتی ہیں۔

علیحدگی پسندگروپوں کے اتحاد حریت کانفرنس کے ایک دھڑے کے رہنما سید علی گیلانی کہتے ہیں کہ 1948 میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں دونوں ملکوں نے جنگ بندی کرلی تو ایک سیز فائر لائن بنی جو بعد میں لائن آف کنٹرول کہلائی۔ اقوام متحدہ نے اس عبوری سرحد پر دونوں ملکوں کی افواج کو جنگ سے باز رکھنے کے لیے مبصرین تو تعینات کیے لیکن مسئلہ کشمیر حل کرنے میں کوئی اقدامی کارروائی نہِیں کی۔

Image caption سید علی گیلانی نے حالیہ کشیدگی کے لیے بھارت کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے

ان کا کہنا ہے: ’اگر بھارت خود حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرکے مسئلۂ کشمیر کے حل میں پہل کرتا تو جنگ کے بادل نہ منڈلاتے۔ اس سب سے کے لیے بھارت ذمہ دار ہے۔‘

واضح رہے کہ چھ اگست کو لائن آف کنٹرول کے پونچھ سیکٹر میں مسلح افراد نے پانچ بھارتی فوجیوں کو ہلاک کردیا تھا جس کے بعد بھارت اور پاکستان کے سفارتی تعلقات کشیدہ ہوگئے۔ ایل او سی پر دونوں جانب بلااشتعال فائرنگ کے الزامات سامنے آئے۔ ان واقعات سے سینکڑوں لوگ متاثر ہوئے اور ایل او سی پر موجود انتہائی جنگ زدہ آبادیاں ہجرت پر مجبور ہوگئیں۔

قابل ذکر ہے کہ دس سال قبل دونوں ملکوں نے 740 کلومیٹر طویل لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کا معاہدہ کرلیا تھا۔ تازہ کشیدگیوں کے بعد دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم نے نیویارک میں ملاقات کے بعد اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کو ختم کیا جائے گا لیکن اس کے باوجود کشیدگی میں اضافہ ہوا۔

اسی بارے میں