بداعتمادی کی دیوار گرائی جا سکتی ہے: ایران

Image caption ایرانی وزیرِ خارجہ کا یہ بیان جعرات کو مقامی ٹی وی پر نشر کیا گیا

ایران کے وزیرِ خارجہ نے جنیوا میں عالمی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات سے قبل کہا ہے کہ اگر ’بداعتمادی کی دیوار‘ گرائی جائے تو ایران کے ایٹمی پروگرام کا مسئلہ ’ناقابلِ حل نہیں ہے۔‘

ایرانی وزیرِخارجہ جاوید ظریف نے کہا کہ ان مذاکرات کا مقصد ان کے جوہری پروگرام پر مغربی پالیسیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی بداعتمادی کو ختم کرنا ہے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ کا یہ بیان جعرات کو مقامی ٹی وی پر نشر کیا گیا جس میں انھوں نے ایک بار پھر اپنے موقف کو دہرایا کہ ان کا ملک جوہری ہتھیاروں کا حصول نہیں چاہتا۔

امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا کہنا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ ایران کا موقف ہے کہ اس کا پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان جمعرات کو جنیوا میں مزید مذاکرات ہوں گے۔

اس سے پہلے ایران اور مغربی ممالک کے درمیان بات چیت کا آغاز گذشتہ ماہ جنیوا میں ہوا تھا۔

دو روز تک جاری رہنے والے ان مذاکرات کو مغربی طاقتوں اور ایران نے مثبت اقدام قرار دیا تھا۔

سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ہونے والے ان مذاکرات میں ایرانی حکام کے ساتھ برطانیہ، چین، فرانس، روس، امریکہ اور جرمنی کے نمائندے شامل رہے۔

یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے کہا تھا کہ اب تک ہونے والے یہ مذاکرات سب سے زیادہ تفصیلی اور جامع مذاکرات تھے۔

بین الاقوامی مصالحت کاروں کا کہنا ہے کہ وہ گذشتہ ماہ جنیوا میں ایرانی ٹیم کی جانب سے دی جانے والی تجاویز پر غور کر رہے ہیں تاہم ان تجاویز کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

ایران، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی (جسے پی فائیو پلس ون گروپ کہا جاتا ہے) کے درمیان بات چیت کا آغاز گذشتہ ماہ جنیوا میں ہوا تھا۔

امریکی انتظامیہ کے ایک سینئیر اہلکار نے ان مذاکرات سے قبل صحافیوں کو بتایا کہ واشنگٹن چاہتا ہے کہ تہران پہلے قدم کے طور پر یورینیئم کی افزودگی کا پروگرام فوری طور پر بند کر دے۔

امریکی اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکہ پر امید ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام مزید آگے نہیں بڑھے گا اور کئی دہائیوں میں پہلی بار رول بیک ہو گا۔

خیال رہے کہ ایران پی فائیو پلس ون گروپ کے ساتھ سنہ 2006 سے بات چیت کرتا رہا ہے کیونکہ وہ اقوام متحدہ کی طرف سے اس پر لگائی گئی پابندیاں ہٹوانا چاہتا ہے۔

اسی بارے میں