پاکستان سے مذاکرات: ’بھارت کے جذبات کا احترام کیا جائے‘

Image caption سرتاج عزیز یورپی اور ایشیائی ممالک کے وزرا خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے دہلی آئے ہوئے ہیں

بھارت کے وزیر خارجہ سلمان خورشید نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت کے لیے ضروری ہے کہ بھارت کے ’جذبات‘ کا احترام کیا جائے۔

بھارتی وزیر خارجہ کے مطابق لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیاں باہمی تعلقات کو فروغ دینے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

سلمان خورشید نے منگل کی شام پاکستانی وزیراعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز سے دارالحکومت دہلی کے قریب گڑگاؤں میں ملاقات کی جس میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ لائن آف کنٹرول پر جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے دونوں ملکوں کے ڈائریکٹر جنرلز آف ملٹری آپریشنز کو ’جلدی‘ ملنا چاہیے لیکن اس کے لیے کسی نظام الاوقات کا اعلان نہیں کیا گیا۔

’بھارتی فوجی قیادت کے الزامات اشتعال انگیز‘

دہلی سے نامہ نگار سہیل حلیم کے مطابق بھارت کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان سید اکبرالدین نے ملاقات کے بعد کہا کہ ڈی جی ایم او کی سطح پر ملاقات تو نہیں ہوئی ہے لیکن وہ پہلے سے رابطے میں ہیں۔

پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف اور بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے نیو یارک میں اپنی ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ بات چیت کو آگے بڑھانے کے لیے ایل او سی پر کشیدگی کم کرنا ضروری ہے اور یہ کہ دونوں ملکوں کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز اس کا طریقہ کار وضع کریں گے۔ لیکن ڈیڑھ ماہ گزر جانے کے بعد بھی یہ عمل شروع نہیں ہو سکا ہے۔

سید اکبرالدین کے مطابق بھارت نے اپنے اس موقف کا بھی اعادہ کیا کہ بات چیت کو آگے بڑھانے کے لیے لائن آف کنٹرول پر امن کی بحالی ضروری ہے اور ممبئی پر حملوں کے ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے قانونی کارروائی تیز کی جانی چاہیے کیونکہ ’بھارت اب پاکستان کو تمام شواہد فراہم کر چکا ہے۔‘

پاکستانی وزیراعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر شوشنکر مینن سے بھی ملاقات کریں گے۔

دہلی میں پاکستان کے ہائی کمیشن کے مطابق بات چیت خوشگوار ماحول میں ہوئی اور دونوں رہنماؤں نے ’تعمیری انداز میں باہمی تعلقات کا جائزہ لیا۔‘

ملاقات کےبعد دونوں رہنماؤں نے میڈیا سے خطاب نہیں کیا۔

اس ملاقات میں اگرچہ کسی اہم پیش رفت کی توقع ظاہر نہیں کی جا رہی تھی لیکن اتوار کی شام مسٹر سرتاج عزیز کی کشمیر کی علیحدگی پسند قیادت سے ملاقات کو حکومت کے ایک ترجمان نے افسوس ناک قرار دیا تھا۔ سید اکبرالدین کے مطابق مسٹر خورشید نے بات چیت کے دوران یہ معاملہ بھی اٹھایا۔

سلمان خورشید نے جب جذبات کے احترام کی بات کی تب بھی ان کا اشارہ بظاہر اسی ملاقات کی طرف تھا۔

ملاقات سے پہلے وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا تھاکہ دونوں رہنما لائن آف کنٹرول پر جاری کشیدگی پر تبادلۂ خیال کریں گے اور بات چیت کا محور وہ نکات ہوں گے جن پر دونوں وزرائے اعظم نے اپنی ملاقت میں اتفاق کیا تھا۔

مسٹر خورشید نے کہا کہ لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیاں مضر ثابت ہو رہی ہیں یعنی ان سے مذاکرات کے عمل کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

پاکستان ہائی کمیشن کی دعوت پر حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں کے سربراہوں میر واعظ عمر فاروق اور سید علی شاہ گیلانی سمیت کئی سرکردہ رہنماؤں نے اتوار کی شام سرتاج عزیز سے ملاقات کی تھی لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ ایک بڑی سفارتی غلطی ہے‘ اور مسٹر عزیز کو اس کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے تھی۔

اسی بارے میں