افغانستان: افیون کی کاشت میں ریکارڈ اضافہ

افیون
Image caption پوری دنیا کی افیون کا نوے فیصد افغانستان میں پیدا ہوتا ہے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں افیون کی کاشت میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ ادارے کے مطابق پہلی مرتبہ ملک کے دو لاکھ ہیکٹیئر رقبے پر پوست کاشت کی گئی ہے۔

افغانستان: افیون کی قیمت میں بےحد اضافہ

یو این او ڈی سی کی رپورٹ کے مطابق یہ کاشت گذشتہ برس کے مقابلے 36 فیصد زیادہ ہے اور اگر یہ ساری تیار ہو جاتی ہے تو یہ عالمی مانگ سے بھی بڑھ جائے گی۔

افیون کی زیادہ تر کاشت ہلمند صوبے میں کی گئی ہے جہاں سے برطانوی فوج انخلا کی تیاری کر رہی ہے۔

ہلمند میں برطانوی فوج تعینات کیے جانے کا ایک مقصد پوست کی کاشت کو روکنا بھی تھا۔

کابل میں اقوامِ متحدہ کے منشّیات اور جرائم سے متعلق ادارے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں غیر ملکی فوجوں کے انخلا اور صدارتی انتخابات سے متعلق غیر یقینی صورتِ حال کے باعث آئندہ برس پوست کی کاشت میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ منشّیات کی صنعت سے وابستہ بعض سرکردہ افراد کی گرفتاری سمیت بعض کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں تاہم افغانستان میں افیون کے بحران سے نمٹنے میں کم سے کم پندرہ سال لگ سکتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ برس ڈیڑھ لاکھ ہیکٹیئر پر پوست کاشت کی گئی تاہم اس سال یہ بڑھ کر دو لاکھ نو ہزار ہیکٹرز تک پہنچ گئی ہے۔

اس رقبے سے اندازاً ساڑھے پانچ ہزار ٹن پیداوار ہو سکتی ہے جو پہلے سے 49 فیصد زیادہ ہے۔ یہ پیداور حالیہ عالمی طلب سے بھی بہت زیادہ ہے۔ اس ساری کاشت کا نصف ہلمند میں ہے۔ جبکہ ماضی میں پوست سے پاک قرار دیے جانے والے صوبوں فریاب اور بلخ میں بھی دوبارہ اس کی کاشت شروع کر دی گئی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں اس مسئلے کے حل کے لیے مشرکہ کوششوں کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

افیون کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے اب مزید کاشتکار پوست کاشت کر رہے ہیں۔ پوری دنیا کی افیون کا 90 فیصد افغانستان میں پیدا ہوتا ہے۔

اسی بارے میں