ایران میں یوم عاشور کی غیر سرکاری تقریبات کا الگ انداز

Image caption سال 2012میں ریاست کی جانب سے منظور شدہ مذہبی سرگرمیوں کے لیے پانچ ارب ڈالر کی رقم خرچ کی گئی

اس وقت دنیا کے کئی ممالک میں عاشورہ کی تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں۔ ایران بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں سیاہ لباس میں ملبوس سوگواران دیکھے جا سکتے ہیں۔

یہ عاشورہ کے نظریاتی پیغام کو اجاگر کرنے کی حکومتی کوششوں کا نیتجہ ہے جس کے مطابق وہ نظریاتی پیغام دینے کے ساتھ ساتھ اپنا ریاستی تسلط بھی برقرار رکھنا چاہتی ہے، لیکن ان سرکاری تقریبات سے ہٹ کر بہت سی غیر سرکاری تقریبات ایک اور ہی منظر پیش کرتی ہیں۔

ایران عاشورہ کی روایات برقرار رکھنے کے لیے خاصی توجہ دیتا ہے، تاکہ اس کی مدد سے ریاستی آئیڈیالوجی کی تشہیر کی جا سکے۔ ان روایات نے ایران کے اندر اور باہر دونوں جگہ شیعہ اسلام کا بہت جذباتی لیکن نامکمل تاثر چھوڑا ہے۔

ایران عاشورہ کی بعض روایات کی حمایت اور تشہیر کی جاتی ہے، بعض سے پہلو تہی کی جاتی ہے یا کم اہمیت دی جاتی ہے اور بعض روایات پر تو یکسر پابندی عائد ہے۔

Image caption عاشورہ کی بعض روایات کی حمایت اور تشہیر کی جاتی ہے

ایرانی حکومت عاشورہ کے ظلم کے خلاف مزاحمت اور شہادت کے نظریے کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہے۔ لیکن صدر روحانی گذشتہ ہفتے شاید اس نظریے سے ایک قدم آگے چلے گئے، جس میں انہوں نے کہہ دیا کہ ’عاشورہ کا ایک سبق مذاکرات اور منطقی استدلال ہے۔‘

عاشورہ کی متبادل روایات کو عوام تک پہنچنے نہیں دیا جاتا۔ ایسی بعض روایات میں باغی ایرانی علما برداشت اور امن کا درس کا پیغام عوام تک پہنچانا چاہتے ہیں۔

اس کے برعکس سرکاری پروپگینڈا مشینری عاشورہ کو اپنے مقاصد کے لیے بے دریغ استعمال کرتی ہے۔ 2009 میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران حکومت نے مظاہرین کو یزید کے سپاہی قرار دیا جنھوں نے امام حسین اور ان کے ساتھیوں کے خلاف جنگ لڑی تھی۔

سرکاری عاشورہ

اگرچہ ایران کے علما کی اسٹیبلشمنٹ اصرار کرتی ہے کہ وہ حکومتی پالیسیوں سے آزاد ہے، لیکن عاشورہ کے لیے وہ حکومت کے رہنما اصولوں کی پیروی کرتی ہے۔

ریاست کے مطابق عاشورہ کی تقریب میں سیاہ لباس میں سینہ کوبی کرتے، سر پیٹتے شرکا اکٹھے ہوتے ہیں جس میں ایک ذاکر آبدیدہ کر دینے والی کہانی سناتا ہے جس میں بیان کیا جاتا ہے کہ اس تاریخی دن کیا ہوا تھا جب حسین اور ان کے پیروکاروں کو قتل کیا گیا۔

اس دن کی جانے والی تقاریر پر نہ صرف سرکاری کنٹرول میں ہوتی ہیں بلکہ ان میں مفید سیاسی پیغامات بھی چھپے ہوتے ہیں۔ذاکرین کو سرکاری فنڈ دیے جاتے ہیں اور ایک قابل ذکر بجٹ مذہبی اداروں کو دیا جاتا ہے۔

سال 2012میں ریاست کی جانب سے منظور شدہ مذہبی سرگرمیوں کے لیے پانچ ارب ڈالر کی رقم خرچ کی گئی۔

Image caption ریاست کے مطابق ایک عاشورہ کی تقریب میں سیاہ لباس میں سینہ کوبی، اور سر پیٹتے شرکاء اکٹھے ہوتے ہیں

اس کے علاوہ عاشورہ کا دن قریب آتے ہی سرکاری ٹی وی اور ریڈیو نوحے اور مرثیے نشر کرتے ہیں۔ ان تقریبات میں نہ صرف فنکارانہ تخلیق کاری اور حتی کہ نئی تقریبات بھی تخلیق کی جاتی ہیں، اور اس تمام عمل کو ریاستی سرپرستی حاصل ہوتی ہے۔

مثال کے طور پر ایک تقریب کا نام ’حسین کے شیر خوار کی مجلس‘ ہے جس میں مائیں یوم عاشور کی جنگ میں حسین کے شیرخوار بیٹے علی اصغر کے قتل کی یاد میں اپنے بچوں کو لے کر آتی ہیں۔

یہ مجلس دس سال قبل ریاست کے فنڈ سے چلنے والے ایک مذہبی ادارے کی جانب سے متعارف کروائی گئی تھی۔

عاشورہ میں یہ روایت اب ایران کے متوسط طبقے کے شہری علاقوں میں عام ہے جس میں لاکھوں خاندان حصہ لیتے ہیں۔ اس کے حامیوں نے اسے یونیسکو میں ثقافتی ورثہ قرار دینے کی بھی کوشش کی ہے۔

متبادل عاشورہ

عاشورہ کے روز پیش آنے والے نسبتاً کم ہیبت ناک واقعات کو اداکاری کے ذریعے دہرانے کے عمل کو کوئی فنڈنگ نہیں ملتی اور مقامی افراد یہ تقریبات خود منعقد کرتے ہیں۔ تعزیہ یونیسکو کے پاس ثقافتی ورثے کے طور پر درج ہے۔

ایران کے حکمراں علما تعزیے کے بارے میں منقسم آرا رکھتے ہیں اور چھوٹے قصبوں اور دیہات میں روایات پر بھی اختلافات ہیں۔ کچھ علما انہیں قابلِ قبول سمجھتے ہیں جبکہ بعض انہیں بدعت قرار دیتے ہیں۔

بوشہر جیسی ساحلی علاقوں میں رہنے والی بعض برادریوں میں عاشورہ کے دن تقریب کے لیے بنائے گئے ساز و سامان کو سمندر کے پانی سے دھویا جاتا ہے، جبکہ شہر کرد جیسے پہاڑی علاقوں میں رہنے والے عقیدت مند مشعلیں لے کر نصف شب پہاڑوں اور میدانوں میں گشت کرتے ہیں۔

بجر اور خورم آباد میں مقامی لوگ عرقِ گلاب ملے کیچڑ کو سر تا پا ملتے ہیں اور اردیبل نامی قصبے میں لوگ امام حسین کے جنگجوؤں کی یاد میں پانی کے مشکیزے لے کر چلتے ہیں۔ بعض دیہات میں مشکیزوں کی جگہ کجھور کے تنے اور ہاتھ سے بنی مصنوعات لے کر چلتے ہیں۔

بعض دوسرے شہروں میں جن میں خامنہ ای شہر شامل ہیں، عاشورے کے دن کو سوگ کا دن تو تصور کیا جاتا ہے لیکن لوگ رنگین لباس پہنتے ہیں۔

ریاست ایسی تقریبات کو ناپسند کرتی ہے کیونکہ نہ صرف انہیں باہر سے آنے والے اور غیر شیعہ افراد عجیب نگاہوں سے دیکھتے ہیں بلکہ عام ایرانی بھی جن میں اکثریت اس سے لاعلم ہے۔

زنجیر زنی

تاریخی طور پر عاشورے کے دن زنجیر زنی اور خنجر زنی کی روایت پر علما اسٹیبلشمنٹ کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔

اس دن پارسا شیعہ خود پر تشدد کرتے ہوئے اپنے جسم سے خون بہاتے ہیں تاکہ یہ سرخی امام حسین کے خون کی یاد تازہ کی جا سکے۔

تاہم جب اس عمل پر سوال اٹھنا شروع ہوئے تو آزاد خیال سیکیولر لوگوں نے اسے ریاستی نظریات میں پوشیدہ شدت پسندی کی مثال کے طور پر ظاہر کیا جس کے بعد مقتدر علما اس کی حوصلہ شکنی کرنے لگے۔ ایران کے رہبرِ اعلیٰ نے عبادت گزاروں کے اپنے سروں سے چاقوں کی مدد سے خون نکالنے کے ’قمہ زنی‘ نامی عمل کے خلاف فتویٰ جاری کیا۔

اس کے بعد قمہ زنی کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیے گئے۔ پولیس کی ان کارروائیوں کا مقصد یہ بتایا گیا تھا کہ اس طرح کی عزاداری سے شیعہ اسلام کی رسوائی ہوتی ہے اور باہر کے لوگوں میں شیعہ عقیدے کے بارے میں منفی تاثر جاتا ہے۔

اسی طرح کی منطق دیگر روایتوں پر بھی لاگو ہوتی ہے اور علما اس پر عمل کرتے اور ان کی ترویج کرتے چلے آئے ہیں، لیکن جب انھوں نے اقتدار حاصل کر لیا تو خود کو اس سے دور رکھنے کی کوششیں کرنے لگے۔

مثال کے طور پر عاشورہ کی کہانیوں اور آنسو بہانے والی روایات عقیدہ نہ رکھنے والوں کو بے معنی لگتی ہیں اور ان میں سے زیادہ تر کہانیاں ذاکر خود گھڑتے ہیں تاکہ اس بات کا کریڈٹ لیں سکیں کہ وہ کس طرح لوگوں کو رونے پر مجبور کر دیتے ہیں۔

ایک بار ایران کے رہبر اعلیٰ نے مداخلت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اس طرح کی کہانیوں کو علما کی جانب سے ثابت کرنے کی ضرورت ہے۔

روایتی طور پر اپنی ناپسندگی بھی ان کہانیوں میں شامل ہوتی ہے اور حسین اور ان پیروکاروں کی جسمانی خوبصورتی بیان کے کرنے کے لیے ناموزوں زبان کا استعمال کیا جاتا ہے۔

شیعہ مسلک کے بہت سارے پیروں کاروں نے اپنے گھروں میں دوکانوں میں امام حسین کی خیالی تصاویر لگا رکھی ہیں۔ ریاست کو ابھی جنگ جیتنی ہے۔

اسی بارے میں