سری لنکا میں دولت مشترکہ کا سربراہی اجلاس کا آغاز

Image caption شہزادہ چارلس پہلی بار دولت مشترکہ کے سربراہی اجلاس میں اپنی والدہ ملکۂ برطانیہ الزبتھ دوم کی نمائندگی کر رہے ہیں

سری لنکا میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے درمیان دولت مشترکہ ممالک کے سربراہی اجلاس کا افتتاح ہو گیا ہے۔

ہر دو سال بعد ہونے والا یہ اجلاس تین دن تک جاری رہے گا جس میں دولتِ مشترکہ کے رکن ممالک کے سربراہان شرکت کر رہے ہیں۔

جمعرات کو سری لنکا کے صدر مہندا راج پکشے نے سنہ 2009 میں تامل باغیوں کے خلاف جنگ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تنقید کو مسترد کر دیا۔

اس اجلاس کے بعد راج پکشے دولت مشترکہ ممالک کی تنظیم کے سربراہ رہیں گے۔

واضح رہے کہ بھارت، ماریشس اور کینیڈا کے وزرائے اعظم نے اس سربراہ اجلاس کا بائیکاٹ کیا ہے۔

اس اجلاس کا افتتاح شہزادہ چارلس کر رہے ہیں۔ وہ پہلی بار اپنی والدہ ملکۂ برطانیہ الزبتھ دوئم کی جگہ دولت مشترکہ کے سربراہ کی حیثیت سے نمائندگی کر رہے ہیں۔

یہ 1973 کے بعد پہلی بار ہے کہ ملکۂ برطانیہ دولتِ مشترکہ کے سربراہی اجلاس میں شرکت نہیں کر رہیں۔

اس سے قبل برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا تھا کہ وہ اس سربراہی اجلاس میں اس لیے شرکت کر رہے ہیں تاکہ اس موقعے سے سری لنکا کی حکومت سے ’سخت سوالات‘ کر سکیں۔

نمائندوں کا کہنا کہ سری لنکا کی حکومت اس اجلاس سے یہ امید کرتی ہے کہ اس کے ذریعے جنگ کے بعد سری لنکا کے احیا کی کوششوں پر لوگوں کی توجہ مرکوز ہوگی لیکن وہاں اس کے برعکس کچھ اور ہی ہوتا نظر آ رہا ہے۔

اپنی حکومت پر تنقید کا غصے سے جواب دیتے ہوئے سری لنکا کے صدر نے کہا کہ ’سری لنکا میں صرف 2009 میں ہی قتل عام نہیں ہوا بلکہ گذشتہ 30 سال میں میں ہوتا رہا ہے جس میں بچے اور حاملہ خواتین تک ماری گئي ہیں۔‘

انھوں نے نمائندوں سے کہا کہ ’روزانہ دس پندر لاشیں ملتی تھیں لیکن اس وقت تو کسی نے اسے مسئلہ نہیں بنایا۔ انھوں نے کہا کہ اب یہ سب رک چکا ہے اور وہاں بمباری بھی نہیں ہو رہی ہے۔‘

دریں اثنا بعض جگہ مظاہرین نے سری لنکا میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی جانب لوگوں کی توجہ مبذول کرنے کی کوشش بھی کی۔

اس سے قبل سری لنکا کی حکومت نے برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کو متنبہ کیا تھا کہ وہ سنہ 2009 کے مبینہ جنگی جرائم پر سوالات سے باز رہیں۔

Image caption اجلاس میں شرکت سے قبل ڈیوڈ کیمرون بھارت میں

سری لنکا کی حکومت نے یہ بھی کہا تھا کہ انھیں اس کا حق حاصل نہیں ہے کیونکہ انھیں اس ضمن میں مدعو نہیں کیا گیا ہے۔

دریں اثنا برطانیہ کے وزیر اعظم اپنے بھارتی ہم منصب سے دونوں ملکوں کے مابین تجارت کو فروغ دینے کے معاملے پر بات چیت کر رہے ہیں۔

بھارتی وزیر اعظم پر بھارت کی تمل آبادی کی جانب سے بائیکاٹ کا زبردست دباؤ تھا۔ تمل برادری کے نمائندگان اور برطانیہ کی لیبر حزب اختلاف نے ڈیوڈ کیمرون سے بھی سری لنکا میں ہونے والے اجلاس کے بائیکاٹ پر زور دیا تھا۔

لیکن برطانوی وزیر اعظم نے اس موقعے کو ’انسانی حقوق کے بعض مسائل کو اٹھانے‘ کے لیے استعمال کرنے کے خیال سے اس میں شرکت کرنے کا فیصلہ کیا۔

سری لنکا نے ان کے اس خیال پر سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ عوامی ذرائعِ ابلاغ اور مواصلات کے وزیر کہیلیا رامبکویلا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’برطانوی وزیر اعظم کو اس سلسلے میں مدعو نہیں کیا گیا ہے۔

’ہم ایک خود مختار ملک ہیں۔ کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ کسی کو سری لنکا سے اس طرح کی بات کرنے کا حق ہے۔ ہم ان کی کوئی کالونی نہیں ہیں۔ ہم آزاد ملک ہیں۔‘

جب ڈیوڈ کیمرون سے اس بابت پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ وہ اس مسئلے کو اٹھانے میں حق بہ جانب ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’ہم ایسا ہی کریں گے۔‘

اقوام متحدہ کے ایک تخمینے کے مطابق 26 سال تک جاری رہنے والے اس تصادم کے آخری پانچ مہینوں کے درمیان تقریبا 40 ہزار شہری مارے گئے تھے۔

سری لنکا میں موجود برطانوی میڈیا حکومت سے انسانی حقوق کے سلسلے میں اعداد و شمار پر سوال پوچھتی رہی ہے لیکن اسے اب تک کوئی جواب نہیں مل سکا ہے۔

برطانیہ کے چینل فور کی ایک ٹیم نے بھی ملک کے شمالی علاقے میں جانے کی کوشش کی تھی لیکن حکومت کے حامیوں نے انہیں وہاں جانے سے روک دیا تھا۔

بی بی سی کے سفارتی امور کے نامہ نگار جیمز روبنز کا کہنا ہے کہ اس دوران سری لنکا کے بعض اہم صحافیوں کا قتل بھی ہوا ہے۔

اسی بارے میں