سری لنکا ’فراخدلی اور اعلیٰ ظرفی‘ کا مظاہرہ کرے: کیمرون

Image caption اجلاس میں شرکت سے قبل ڈیوڈ کیمرون بھارت میں

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے سری لنکا کی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ جنگ کا خاتمہ ہو چکا ہے اب ملک کو متحد کرنے کے لیے ’فراخدلی اور اعلیٰ ظرفی‘ کا مظاہرہ کرے۔

برطانوی وزیر اعظم نے شمالی سری لنکا کا دورہ کیا اور تمل مظاہرین سے ملاقات کی۔ ڈیوڈ کیمرون پہلے غیر ملکی رہنما ہیں جنھوں نے سنہ 2009 میں تمل باغیوں کی شکست کے بعد شمالی سری لنکا کا دورہ کیا ہے۔

ڈیوڈ کیمرون نے شمالی علاقوں کے دورے کے علاوہ کولمبو میں ایک مہاجر کیمپ اور اتھیان اخبار کے دفاتر کا بھی دورہ کیا جسے رواں سال کے شروع میں جلا دیا گیا تھا۔ ڈیوڈ کیمرون نے مہاجر کیمپ اور اتھیان اخبار کے دورے کے بعد کہا کہ انھوں نے وہاں جو کچھ سنا ہے ہے اسے ساری زندگی بھول نہیں پائیں گے۔

ڈیوڈ کیمرون نے دولت مشترکہ کے اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ وہ اس دورے کے ذریعے سری لنکا میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کا معاملہ اٹھائیں گے۔

شمالی سری لنکا کے علاقوں کے دورے کے بعد ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ انھیں تمل اقلیت کےمسائل کو اجاگر کرنے کا موقع ملا ہے۔

سری لنکا میں جاری دولت مشترکہ کی کانفرنس کے دوران تمل شہریوں کے ساتھ مبینہ ناانصافی کی صدائیں گونج رہی ہیں۔ کینیڈا کی حکومت نےتمل باغیوں کے ساتھ جنگ میں حکومتی افواج کی مبینہ زیادتیوں کی تحقیقات کرانے سے اجتناب کرنے پر کانفرنس کا بائیکاٹ کیا ہے۔ بھارت کے وزیر اعظم منموہن بھی کانفرنس میں شریک نہیں ہوئے ہیں۔

ڈیوڈ کیمرون نےکہا کہ مصالحت کے عمل کو کامیاب بنانے کے لیے سچائی کا اظہار ضروری ہے۔

ڈیوڈ کیمرون نے جافنا کی اس لائبریری کا دورہ کیا جو جنگ کے دوران کئی بار تباہ اور بحال ہوئی۔

ڈیوڈ کیمرون کا وفد جب جافنا لائبریری سے باہر آ رہا تھا کہ چیختی ہوئی عورتوں کا ایک گروہ پولیس کے گھیرے کو توڑتا ہوا وزیر اعظم تک پہنچ گیا۔ عورتیں اپنے گمشدہ پیاروں کے کوائف اور تصاویر برطانوی وزیر اعظم کےحوالے کرنا چاہتی تھیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار نک رابنسن نے جو وزیر اعظم کے ہمراہ ہیں، بتایا کہ جن عورتوں کے گروپ نے وزیر اعظم کا استقبال کیا ان کے رشتہ دار جنگ کے دوران لاپتہ ہو گئے تھے۔

نکس رابنس نے بتایا کہ باوجود اس کے کچھ عورتیں برطانوی وزیر اعظم تک پہنچنے کی کوشش میں سڑک پر گرگئیں لیکن مجموعی طور یہ پر امن احتجاج تھا۔

تمل عورتوں کے علاوہ حکومت کے حامی سنہالی باشندوں نے ایک مظاہرہ کیا۔ مظاہرین 1948 سے پہلے برطانوی دور میں ہونے والی مبینہ زیادتیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کر رہے تھے۔

وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا: ’حقیقت یہ ہے کہ اس ملک کے لیے کامیابی کا ایک موقع ہے۔جنگ ختم ہو چکی ہے، دہشتگردی ختم ہو چکی ہے۔ اب فراخدلی اور عالی ظرفی کی ضرورت ہے۔‘

اسی بارے میں