کابل: جرگے سے قبل دھماکے میں 10 افراد ہلاک

Image caption جب یہ حملہ آور گاڑی ایک چیک پوسٹ پر نہیں رکی تو فوجیوں نے اس کا پیچھا کیا

افغانستان میں حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کابل میں خود کش بم حملے میں کم از کم 10 ا فراد ہلاک اور 20 سے زیادہ لوگ زخمی ہو گئے ہیں۔

یہ بم دھماکہ اس عمارت کے نزدیک ہوا ہے جہاں قبائلی رہنما آئندہ ہفتے امریکہ سے سکیورٹی کے متعلق ایک معاہدے پر تبادلۂ خیال کرنے والے ہیں۔

طالبان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ دھماکہ انھوں نے کیا ہے۔

واضح رہے کہ اس سکیورٹی معاہدے میں افغانستان سے سنہ 2014 میں زیادہ تر بین الاقوامی افواج کی واپسی کے بعد امریکی فوجیوں کے رک جانے کے متعلق بات چیت ہونی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس کے متعلق افغانستان کی روایتی قبائلی کونسل لویا جرگہ میں آئندہ ہفتے بات ہوگی۔

سنيچر کو ہونے والے اس خود کش حملے میں مرنے والوں میں ایک پولیس افسر بھی شامل ہے جبکہ دیگر مہلوکین میں سے زیادہ تر بظاہر عام شہری ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جب افغان فوجیوں کو خطرے کا اندازہ ہوا کہ بارود سے بھری ایک گاڑی ان کی طرف آ رہی ہے اور انھوں نے فائرنگ شروع کر دی تو حملہ آور نے گاڑی کو افغان فوج کی ایک گاڑی سے ٹکرا دیا۔

یہ دھماکہ اس بڑے پنڈال سے سو میٹر سے بھی کم فاصلے پر ہوا جہاں 2000 سے زیادہ اہم افغان رہنما جمعرات کو جمع ہو رہے ہیں۔

یہاں وہ امریکہ کے ساتھ سکیورٹی معاہدے پر غور خوض کریں گے۔

Image caption مہلوکین میں ایک پولیس اہلکار بھی شامل ہے جبکہ باقی بظاہر عام شہری ہیں

اطلاعات کے مطابق اس سکیورٹی معاہدے کو نافذ کرنے سے قبل اسے جرگہ اور پارلیمنٹ سے منظوری درکار ہوگی۔

اس میٹنگ میں اس بات پر بھی غور و خوض کیا جائے گا کہ آیا امریکی فوجیوں کو افغانستان میں عدالتی کاروائی سے استثنی حاصل ہوگا یا نہیں۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق اس دھماکے سے چند گھنٹے قبل افغانستان کے صدر حامد کرزئي نے کہا تھا کہ ’رابطہ کاروں نے معاہدے کے ڈرافٹ تیار لیے ہیں۔‘

اس کے ساتھ ہی انھوں نے کہا تاہم ’کچھ اختلافات اب بھی موجود ہیں۔‘

صدر نے طالبان سے لویا جرگہ میں شرکت کی دعوت دی۔

Image caption اس حملے میں 20 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں

انھوں نے کہا ’ہم انہیں مدعو کرتے ہیں کہ برائے مہربانی افغانستان کے اس قومی جرگے میں تشریف لائیے، اپنی آواز اٹھائیے اپنے اعتراضات پیش کیجیے۔‘

واضح رہے کہ سنہ 2014 کے بعد جب نیٹو کی قیادت والی زیادہ تر بین الاقوامی فوج افغانستان سے چلی جائے گی تو افغانستان میں پانچ ہزار سے 10 ہزار کے درمیان امریکی فوجی رہ جائيں گے۔

امریکی فوجی افغانستان کی سکیورٹی فورسز کی تربیت اور نگرانی کے ساتھ ساتھ القاعدہ سے لڑنے پر بھی توجہ مرکوز رکھے گا۔

اسی بارے میں