سرتاج کی کشمیریوں سے ملاقات، سیاسی لہجے میں نرمی

Image caption میر واعظ عمر فاروق نے سرتاج عزیز سے ملاقات کے فوراً بعد سیاسی لہجے میں نرمی کا اظہار کیا

وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف کے سیاسی مشیر سرتاج عزیز نے نئی دہلی میں پاکستانی سفارت خانے میں کشمیری علیحدگی پسندوں کو ’خاص مشاورت‘ کے لیے گذشتہ ہفتے مدعو کیا۔ الگ الگ نشستوں میں سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے بھارت کے دورے پر آئے ہوئے سرتاج عزیز سے ملاقاتیں کیں۔

ملاقاتوں کی تفصیلات تو سامنے نہیں آئی ہیں لیکن میر واعظ عمر فاروق نے اس ملاقات کے فوراً بعد سیاسی لہجے میں نرمی کا اظہار کیا۔

انہوں نے حکومت ہند کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات کی پیشکش کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کشمیر میں بھارتی نگرانی میں ہونے والے انتخابات سے مسئلہ کشمیر کی تاریخی اور قانونی حیثیت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

کئی سال سے کشمیر میں جاری ہلاکتوں، قید و بند اور قدغنوں کے بعد علیحدگی پسندوں کی ایک اہم تنظیم کی طرف سے اس طرح کے مفاہمتی لہجے پر مختلف حلقے مختلف قیاس آرائیاں کر رہے ہِیں۔

اس حوالے سے دانشور اور سماجی کارکن حمیدہ نعیم کہتی ہیں: ’مذاکرات مسائل حل کرنے کا مہذب راستہ ہوتا ہے۔ کوئی بھی مذاکرات کے خلاف نہیں ہے۔ لیکن ماضی کے مذاکرات مذاق ثابت ہوئے۔ اس پس منظر میں یہ پیش کش مان نہ مان میں تیرا مہمان کے مترادف ہے۔‘

لیکن میر واعظ عمر کہتے ہیں کہ امن اور مذاکرات کی حمایت کشمیریوں کی مجبوری ہے کیونکہ بھارت کشمیریوں کی تحریک کو پوری دنیا میں دہشت گردی کے طور پیش کرنے میں کامیاب ہوچکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ جہاں بھارت کی کامیابی ہے وہیں پاکستان کی سفارتی کمزوری بھی ہے۔

میرواعظ کہتے ہیں: ’پاکستان کشمیریوں کی حمایت کرتا آیا ہے۔ حال ہی میں نواز شریف صاحب نے اقوام متحدہ میں بھی مسئلہ کشمیر کا ذکر کیا اور انہوں نے مسئلہ کشمیر کے حل میں امریکی ثالثی کا بھی مطالبہ کیا۔ لیکن کشمیریوں کو یہ چیلنج درپیش ہے کہ ان کی تحریک کو پوری دنیا میں دہشت گردی سمجھا جارہا ہے۔ اس معاملے میں پاکستانی عالمی حمایت حاصل کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔‘

میر واعظ کا خیال ہے کہ اگر حکومت ہند نے کشمیریوں کی طرف سے عدم تشدد کے مظاہرے کی قدر نہیں کی تو افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد کشمیر میں حالات کشیدہ ہوجائیں گے۔

واضح رہے 1989 میں کشمیریوں کی مسلح تحریک کے آغاز کے چند سال بعد حکومت ہند نے مذاکرات کی پیش کش کی تھی۔ لیکن علیحدگی پسند تنظیموں کے اتحاد حریت کانفرنس کے ایک دھڑے نے اس پیشکش کو 2003 میں قبول کیا۔

تب سے میر واعظ عمر فاروق اور مولانا عباس انصاری کی قیادت میں دو طرفہ مذاکرات کے حامی علیحدگی پسندوں نے سابق بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی اور موجودہ وزیر اعظم من موہن سنگھ کے ساتھ کئی ملاقاتیں کیں۔ تاہم ان ملاقاتوں کے بعد کشمیر میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف عوامی تحریک شروع ہوئی جسے دبانے کی سرکاری کارروائیوں میں سینکڑوں معصوم نوجوان مارے گئے۔

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں نواز شریف کی حکومت ابھی پوری طرح مستحکم نہیں ہوئی ہے اور مسلم لیگ کی روایتی کشمیر پالیسی کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کشمیر سے متعلق پاکستانی خارجہ پالیسی سابقہ حکمران پرویز مشرف کے اعتدال پسند ماڈل سے مختلف ہوسکتی ہے۔

اسی بارے میں