’تہران اپنے موقف سے ذرّہ بھر نہیں ہٹے گا‘

Image caption ایران کے رہبرِ اعلیٰ تہران میں ایرانی خفیہ پولیس بسیج کے اجتماع سے خطاب کر رہے تھے

ایران کے رہبرِ اعلیٰ نے عالمی طاقتوں کے ساتھ جنیوا میں ہونے والے مذاکرات سے قبل خبردار کیا ہے کہ ایران اپنے جوہری حقوق سے ’ذرّہ بھر‘ بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔

آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ وہ ان مذاکرات میں براہِ راست مداخلت نہیں کریں گے مگر انھوں نے ایرانی مذاکرات کاروں کے لیے ’حدود‘ متعین کی ہیں۔

صدر براک اوباما نے امریکی سینیٹروں سے کہا ہے کہ وہ ایران پر نئی پابندیاں نہ لگائیں تاکہ سفارت کاری کو موقع دیا جا سکے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ وہ عبوری معاہدے کے بارے میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے۔

انہوں نے منگل کو واشنگٹن میں وال سٹریٹ جرنل فورم میں کہا کہ ہم نہیں جانتے کہ ہم ایران پر اس ہفتے یا اگلے ہفتے تک کسی معاہدے پر متفق ہو سکتے ہیں یا نہیں۔

ایران اس بات پر زور دیتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے جب کہ عالمی طاقتوں کو شبہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کے لیے کوشاں ہے۔

ایران کے رہبرِ اعلیٰ نے بدھ کے روز ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے مذاکرات کاروں کے لیے ان کے دو روزہ مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ جانے سے قبل واضع حدود متعین کی گئی ہیں۔

عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان بات چیت اس وقت بغیر معاہدے کے ختم ہو گئی جب فرانس نے ایران کے بھاری پانی کے جوہری پلانٹ پر مزید سخت پابندیوں کا مطالبہ کیا۔

آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ ’ہم اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ ہم اپنے موقف سے ذّرہ بھر پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘

مگر انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’ہم ان مذاکرات کی تفصیلات میں مداخلت نہیں کریں گے۔ اس میں واضح حدود اور قیود ہیں جن کا احترام کیا جائے گا۔ مذاکرات کاروں کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ ان کی پابندی کریں۔‘

ایرانی رہبرِ اعلیٰ کے پاس ایران کے جوہری معاملات سے متعلق حتمی اختیار ہے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ عالمی طاقتوں کو دباؤ نہیں ڈالنا چاہیے۔

آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ ’عالمی طاقتوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایرانی قوم عالمی طاقتوں کی عزت کرتی ہے مگر ہم جارحیت کرنے والے کے منھ پر اس طرح طمانچہ ماریں گے وہ کبھی نہیں بھولے گا۔‘

جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کی سربراہی ابتدا میں یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ بیرنس کیتھرین ایشٹن اور ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کریں گے۔

ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ یو ٹیوب پر جاری کی گئی ایک ویڈیو میں دیے گئے بیان میں ایرانی وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے کہا: ’ہم اپنے وقار اور احترام کی امید اور مطالبہ کرتے ہیں۔ ہم ایرانیوں کے لیے جوہری توانائی کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ ہم کسی کلب کا حصہ بن جائیں یا دوسروں کو دھمکائیں۔ ہمارے لیے جوہری توانائی مستقبل کے بارے میں ہمارے اپنے فیصلے کی اہلیت ہے نہ کوئی دوسرا ہماری جانب سے ہمارے مستقبل کا فیصلہ کرے۔‘

دریں اثنا برطانوی وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون وہ پہلے وزیرِاعظم ہیں جنھوں نے ایک عشرے کے بعد ایرانی صدر حسن روحانی کو ٹیلی فون کیا ہے جو کہ برطانوی اور ایرانی رہنماؤں کے درمیان ایک دہائی میں پہلا رابطہ ہے۔

صدر اوباما نے واشنگٹن میں وال سٹریٹ جرنل فورم میں کہا کہ عبوری معاہدے کے بعد بھی زیادہ تر امریکی اور عالمی پابندیاں برقرار رہیں گی۔

انہوں نے کہاکہ ’ہم سخت پابندیوں کے حوالے سے کچھ نہیں کر رہے ہیں تیل پر پابندیاں بینکنگ پر پابندیاں اور مالیاتی پابندیوں نے جنہوں نے ایران کی معیشت کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔‘

صدر اوباما نے بتایا کہ اس معاہدے کی بنیاد یہ ہو گی کہ ایران جوہری پروگرام پر پیش رفت روک دے گا جس میں ایسے عوامل کو روکنا بھی شامل ہو گا جن کی بنیاد پر وہ عالمی برادری کو ردِ عمل دکھانے کا موقع ملنے سے پہلے ہی وہ کسی ایسے حتمی نقطے پر پہنچ سکیں گے جہاں وہ جوہری ہتھیار بنانے کے قابل ہو جائیں گے۔‘

’اس کے بدلے میں ہم کچھ پابندیاں ہٹا دیں گے جس سے بہتری کی صورت پیدا ہو سکے گی مگر یہ دوبارہ لگائے جانے سے مشروط ہوں گی اگر کسی بھی صورت میں پہلے سے کیے گئے معاہدے کی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو ہمیں اس سے ہمیں بہت سا وقت مل جائے گا۔‘

اتوار فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے کہا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام میں یورینیئم کی افزودگی کے عمل کو درمیانے درجے پر لے آئے گا اور اس سے ایران کی موجودہ افزودہ یورینیئم کی سطح کم ہو جائے گی اور یہ کہ ایران آراک کے بھاری پانی کے ری ایکٹر پر تعمیراتی کام روک دے گا۔

اسی بارے میں