گوگل کی خواتین کے لیے انٹرنیٹ سہل بنانے کی پہل

Image caption بھارت میں خواتین کی بیداری کی اس کوشش کا مقصد آئندہ سال تک پانچ کروڑ خواتین کو انٹرنیٹ کا استعمال سکھانا ہے

بھارت میں 20 کروڑ سے زیادہ افراد انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہیں لیکن ان میں خواتین کی تعداد صرف ایک تہائی ہے۔

انٹرنیٹ کے استعمال کے تعلق سے کی جانے والی متعدد تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بھارت میں خواتین کو با اختیار بنانے میں انٹرنیٹ اہم کردار ادا کر رہا ہے اور ان کی زندگی کو نئی سمت دینے میں گراں قدر خدمات انجام دے سکتا ہے۔

اسی کے پیش نظر گوگل نے ’ہیلپنگ ويمن گیٹ آن لائن‘ کے نام سے پیش قدمی کی ہے۔ اس کوشش کے تحت اگلے سال کے آخر تک پانچ کروڑ مزید خواتین کو انٹرنیٹ سے منسلک کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر میرٹھ کی رہنے والی آرتی سنگھ نے جب پہلی بار انٹرنیٹ کا استعمال کیا تو ان کی عمر 20 سال تھی۔ آج وہ 32 سال کی ہیں اور دو بچوں کی ماں ہیں۔

آرتی کہتی ہیں: ’میں ایک دو دن میں کم از کم ایک بار تقریباً نصف گھنٹے کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال کر لیتی ہوں۔ زیادہ تر تو بچے یا شوہر کمپیوٹر کا استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ مجھے وقت ہی نہیں مل پاتا۔‘

دوسری خواتین کے بارے میں انہوں نے کہا: ’اگر انہیں بھی وقت ملتا ہے اور اگر وہ بھی انٹرنیٹ کا استعمال کر پاتیں تو انہیں پتہ چلتا کہ انٹرنیٹ کیا ہوتا ہے، کس طرح اکاؤنٹ کھولے جاتے ہیں یا انٹرنیٹ کا کس طرح استعمال کرنا ہے۔‘

اس منصوبے کے تحت خواتین کے درمیان انٹرنیٹ کے فوائد کے بارے میں بیداری پیدا کرنے، انہیں انٹرنیٹ کے استعمال کے بارے میں تعلیم دینے کا کام کیا جائے گا۔

بھارت میں گوگل کے سیلز اینڈ آپریشن کے نائب صدر اور ڈائریکٹر راجن آنند نے کہا: ’بھارت میں خواتین کے لیے انٹرنیٹ کے استعمال میں بڑا چیلنج انٹرنیٹ تک ان رسائی کو ممکن بنانا ہے۔ انہیں انٹرنیٹ کے استعمال کے بارے میں معلومات نہیں ہوتیں اور انہیں یہ بھی نہیں پتہ ہوتا کہ انٹرنیٹ کی کیا اہمیت ہے۔‘

سپریم کورٹ کے وکیل اور سائبر قانون کے ماہر پون دگّل کا کہنا ہے: ’جہاں ایک طرف شہروں میں لوگوں کی ذہنیت بدلی ہے وہیں دیہی علاقوں میں آج بھی انٹرنیٹ کے بارے مںی خاصی تنگ نظری ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بھارت میں جتنی خواتین انٹرنیٹ پر ہونی چاہییں اتنی نہیں ہیں۔‘

راجن آنند نے کہا: ’ہمارے ہیلپنگ ويمن گیٹ آن لائن کی کوشش انہی رکاوٹوں کو دور کر کے خواتین کی زندگی کو بہتر بنانے کی سمت میں ہے۔ اس پروگرام کے تحت بھارت میں جاری مختلف کوششوں کے ساتھ مل کر سنہ 2014 کے اختتام تک مزید پانچ کروڑ خواتین کو انٹرنیٹ سے منسلک کرنا ہمارا مقصد ہے۔‘

گوگل پہلے مرحلے میں خواتین کے لیے ماس ميڈيا مہم چلانے کا اردہ رکھتا ہے۔اس کے لیے بطور خاص جو ویب سائٹ www.hwgo.com تیار کی گئی ہے اس پر انٹرنیٹ کے استعمال کے بارے میں معلومات دستیاب ہوں گی اور یہ ویب سائٹ ہندی اور انگریزی دو زبانوں ہوگی۔

گوگل انڈیا میں مارکیٹنگ کے ڈائریکٹر سندیپ مینن نے بی بی سی کو بتایا: ’انٹرنیٹ بااختیار بنانے کا پلیٹ فارم ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اگر مزید خواتین انٹرنیٹ کا استعمال کریں گی تو وہ انٹرنیٹ کا بھرپور فائدہ اٹھا سکیں گی۔

گوگل نے خواتین کے لیے انٹرنیٹ کو آسان بنانے کی خاطر ایک ہیلپ لائن بھی شروع کی ہے۔ خواتین مفت ٹیلی فون سروس 1800 41 999 77 پر انٹرنیٹ کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتی ہیں۔

اعداد وشمار کے مطابق بھارت میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد جلد ہی امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر آنے والی ہے۔

گوگل مارکیٹنگ کی يونكا برونني نے بتایا: ’بھارت میں اپنی نوعیت کے اس پہلے منصوبے کو شروع کرتے ہوئے ہم بہت پرجوش ہیں۔

انہوں نے کہا: ’راجستھان کے علاقے بھیل واڑہ میں اس منصوبے کا تجربہ کیا گیا۔ وہاں ایک لاکھ خواتین کو انٹرنیٹ استعمال کرنے کی تربیت اور ڈیجیٹل تعلیم دی گئی۔ ہماری یہ کوشش انتہائی کامیاب رہی۔‘

گوگل کے اس کوشش میں ہندوستان یونی لیور، ایکسس بینک اور انٹیل بھی شامل ہیں۔انٹیل خواتین کے لیے ’ایزی سٹیپ‘ کے نام سے ایک موبائل ایپلیکیشن بھی جاری کرنے والا ہے جواینڈروئڈ پلےسٹور پر دستیاب ہوگا۔

اسی بارے میں