تہلکہ کے ایڈیٹر کے خلاف جنسی زیادتی کا مقدمہ درج

بھارت میں گوا کی پولیس نے تہلکہ جریدے کے مدیر ترون تیج پال کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے جن پر اپنے ہی ادارے کی ایک خاتون ساتھی کے ساتھ جنسی زیادتی کا الزام ہے ۔

گوا پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل او پی مشرا نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے، جبکہ ڈی جی کشن کمار نے کہا کہ کرائم برانچ مزید تحقیقات کے لیے حکام کی ایک ٹیم کو دلی بھیج سکتی ہے۔

بھارتی صحافی جنسی استحصال کے معاملے پر اپنے عہدے سے علیحدہ

ڈی آئی جی نے کہا، ’ہم تمام حقائق کی چھان بین کریں گے اگر متاثرہ لڑکی کی شکایت میں اس بات کی تصدیق ہو گئی تو ہم ان کے ریپ کا مقدمہ درج کریں گے۔

مشرا نے کہا کہ ہوٹل سے سی سی ٹی وی فٹیج کل (جمعرات) شام مل گئی ہے اور اسے محفوظ رکھ لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاملے کے بارے میں زیادہ معلومات ویڈیو فٹیج کو دیکھنے کے بعد ہی مل سکے گی۔

پولیس پہلے ہی ای میل کر کے تہلکہ انتظامیہ سےتحقیقات کی ای میل اور تیج پال کے بیان کا مطالبہ کر چکی ہے۔

Image caption تیج پال کے خلاف احتجاج میں شدت آتی جا رہی ہے

تہلکہ میگزین نے ایک خاتون صحافی کے ساتھ ویب سائٹ کے بانی ایڈیٹر ترون تیج پال کی مبینہ جنسی زیادتی کے معاملے کی تفتیش کے لیے ایک کمیٹی قائم کی ہے۔

تہلکہ کی مینیجنگ ایڈیٹر شوما چودھری نے جمعے کو بتایا کہ وشاكھا ہدایات کے مطابق رسمی طور پر ایک شکایت کمیٹی بنائی گئی ہے جس کی صدارت خواتین کے حقوق کی نامور کارکن اور ناشر اروشي بٹاليا کریں گی۔

شوما چودھری نے کہا: ’اس معاملے میں خاتون صحافی کے تمام مطالبات تسلیم کیے جا رہے ہیں۔ وہ چاہتی تھیں کہ ادارہ اس معاملے میں کارروائی کرے۔ انہوں نے کہا کہ ’ ہم نے ایسا ہی کیا، لیکن یہ معاملہ لیک ہو گیا اور اسی بنیاد پر میڈیا اس بارے میں کہانی بنا رہا ہے۔ واقعے کے تین دن کے اندر اندر غیر مشروط معافی مانگی جا چکی ہے، ترون اپنے عہدے سے علیحدہ ہو گئے ہیں اور معاملے کی تحقیق کے لیے کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔‘

اس دوران بی جے پی کے سینیئر رہنما ارون جیٹلی نے کہا کہ اس معاملے میں ہندوستانی میڈیا کسوٹی پر ہے کیونکہ تیج پال کے خلاف اس جرم کے لیے کوئی قانونی کارروائی شروع نہیں کی گئی ہے ’جو قانون کا ریپ ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ کسی شخص کے توبہ کرنے اور چھ ماہ کے لیے دفتر سے دور ہو جانے سے اس کا جرم کم ہو نہیں جاتا، اور یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ترون تیج پال اور شوما چودھری ایک ذاتی رائے کے تحت ریپ کے معاملے کو قانونی عمل تک نہ پہنچنے دیں۔ انہوں نے کہا: ’شوما چودھری یہ کیسے کہہ سکتی ہیں کہ متاثرہ خاتون پولیس کے سامنے نہیں جائیں گی؟ کیا وہ ریپ کے اس معاملے میں ثبوت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی مجرم تو نہیں ہیں جہاں وہ اپنے سٹاف پر حقیقت چھپا لینے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہیں۔‘

بی جے پی لیڈر ارون جیٹلی نے تہلکہ میں جنسی استحصال کے معاملے پر اپنے بلاگ میں کئی سوال اٹھائے ہیں۔ ارون جیٹلی نے کہا: ’دہلی میں ریپ کے اجتماعی معاملے کے بعد شہریوں کی تحریک کی شکایت یہی تھی کہ جنسی حملوں کی خبروں کو اہمیت نہیں دی جاتی ہیں۔ کیا اس معاملے میں بھی یہی ہو رہا ہے؟‘

یہ واقعہ تہلکہ میگزین کے گوا میں ہونے و الے ایک پروگرام کے دوران ہوا ہے جس میں دنیا بھر سے بڑی ہستیاں شامل ہوئی تھیں۔

گوا حکومت نے اس معاملے میں اپنی طرف سے ابتدائی تحقیق کا حکم دیا ہے۔

ترون تیج پال نے مبینہ جنسی زیادتی کے بعد عہدے سے چھ ماہ کے لیے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔