بے باک صحافت شکست کھا گئی

Image caption ترون تیج پال کا شمار بھارت کے اعلیٰ صحافیوں اور دانشوروں میں ہوتا تھا

بھارت کا سرکردہ تفتیشی جریدہ ’تہلکہ‘ اس وقت اپنے وقار کی آخری جنگ لڑ رہا ہے۔

گوا کی پولیس دلی پہنچ چکی ہے اور وہ جریدے کے مدیر اعلیٰ ترون تیج پال سے ایک صحافی کے مبینہ ریپ کے الزام کے سلسلے میں پوچھ گچھ شروع کرنے والی ہے اور بہت ممکن ہے کہ انہیں فوری طورپر گرفتار کر لیا جائے۔

ترون تیج پال پر الزام ہے کہ انہوں نے اس مہینے کے اوائل میں گوا میں تہلکہ کے زیر اہتمام ایک پروگرام کے دوران ہوٹل کی لفٹ میں میں اپنے جریدے کی ایک صحافی پر جنسی حملہ کرنے کی دو بار کوشش کی۔

متاثرہ صحافی نے تہلکہ کی انتظامیہ کو لکھے گئے ایک مفصل خط میں اس واقعے کی تفصیلات دی ہیں اور اگر اس نوجوان خاتون صحافی کے الزامات صحیح ہیں تو پھر یہ اعتماد بکھیر دینے والا واقعہ ہے۔

ترون نے جریدے کی مینیجنگ ایڈیٹر کو بھیجے گئے ایک خط میں متعلقہ صحافی سے معافی مانگی ہے۔ انہوں نے اس واقعے کو ’حالات کو سمجھنے میں غلطی‘ قرار دیا اور وہ پوری ندامت کے ساتھ اپنی حرکت کے لیے غیر مشروط معافی کے خواستگار ہوئے ۔

بھارت میں جس طرح کا ماحول ہے اس میں شاید یہ حرکت کسی سیاست داں یا صنعت کار یا کسی مذہبی رہنما نے کی ہوتی تو اس بات کے پورے امکانات تھے کہ وہ اس واقعے سے سراسر انکار کر دیتا لیکن ترون تیج پال نے نہ صرف اس واقعے کو تسلیم کیا بلکہ اس کے لیے معافی بھی مانگی۔ حالانکہ اس کے بارے میں ان کا اپنا الگ بیان اور ورژن ہے۔

ترون نے اس واقعے کو شاید اس لیے تسلیم کر لیا کہ انہیں یہ محسوس ہوا کہ محض ندامت کے اظہار اور ادارت سے کچھ دنوں کی علیحدگی سے وہ اپنے دامن پر لگے ہوئے مبینہ سنگین جرم کے نقش کو مٹا سکیں گے۔

وہ یہ بھول گئے کہ یہ معاملہ اخلاقیات اور صحافتی اصولوں کی پامالیوں سے آگے سنگین جرم اور قانون کا ہے۔ قتل کے بعد مسیحائی کے کیا معنی؟

Image caption یہ معاملہ اخلاقیات اور صحافتی اصولوں کی پامالیوں سے آگے سنگین جرم اور قانون کا ہے

اس معاملے کی حقیقت تو اب قانون کا عمل طے کرے گا لیکن اس واقعے نے بھارت میں معیاری اور معروضی صحافت کو وہی چوٹ پہنچائی ہے جو جنسی حملے کے کسی مظلوم کو پہنچتی ہے۔ اس واقعے نے سنجیدہ صحافت کرنے والے سبھی صحافیوں اور دانشوروں کو بہت بری طرح مجروح کیا ہے۔

ترون تیج پال کا شمار بھارت کے اعلیٰ صحافیوں اور دانشوروں میں ہوتا تھا۔ انہوں نے تہلکہ کے ذریعے ملک میں سٹنگ آپریشن اور بےباک صحافت کی بنیاد ڈالی تھی۔

ان کی پیشہ ورانہ قیادت میں تہلکہ نے صحافیوں کی ایک ایسی ٹیم تیار کی کہ جریدے کا ہر شمارہ ملک میں بحث کا موضوع اور ایجنڈا طے کیا کرتا تھا۔

ایک ایسے وقت میں جب اخبارات اور ٹی وی چینل بڑي بڑی کمپنیوں اور کارپوریٹ ہاؤسز کی ملکیت ہیں اور جو حکومتوں اور طاقتور سیاست دانوں کے خلاف جانے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتے ، تہلکہ نے جرات منداور بےباک صحافت کے نئے باب لکھے۔

واجپئی کے زمانے میں دفا‏عی سودوں کا معاملہ ہو یا گجرات کے فسادات کی حقیقت کو اجاگر کرنے کا ، تہلکہ نے گزرے ہوئے برسوں میں اقتدار سے وابستہ ہر شخص اور ہر طاقتور لابی کو ناراض کیا تھا۔

پچھلے دو دنوں سے تہلکہ کے دفتر میں سناٹا چھایا ہوا ہے ۔ تہلکہ کے صحافی جو آنے والے پارلیمانی انتخابات کے دوران کئی بڑی تفتیشی خبروں پر کام کر رہے تھے اب میگزین کے بچ پانے کے بارے میں شک و شبہات میں مبتلا ہیں۔

ترون تیج پال نے کیا کیا اور کیا نہیں کیا یہ تو وقت بتائے گا لیکن انہوں نے اپنے ہی ہاتھوں سے بے باک اور سنجیدہ صحافت کے اس ادارے کو اپنے ہی ہاتھوں سے تباہ کر دیا جسے خود انہوں نے تعمیر کیا تھا ۔

اسی بارے میں