شامی بچوں کی اسرائیل میں ولادت

Image caption شام سے مستقل مریض اسرائیل لائے جا رہے ہیں

اسرائیل کےشہر تفت کے ایک ہسپتال میں زچہ و بچہ کے وارڈ میں پیدا ہونے والے ہر بچے کو ایک معجزے سے کم تصور نہیں کیا جاتا۔

لیکن جس دن ہم نے اس ہسپتال کا دورہ کیا اس دن اس وارڈ میں نومولود بچوں کی قطار میں ایک ایسا بچہ بھی تھا اگر اس کے والدین نے اس کی ولادت کی پوری داستان سنائی تو وہ دنیا کے لیے انوکھی کہانی بنے گی۔

بچے کا نام بوجوہ ظاہر نہیں کیا جا رہا۔ اس کا نام ظاہر کرنے سے شام واپسی کے بعد اس کی اور اس کے والدین کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

ان کی والدہ کا نام یا ایسی کوئی معلومات جن سے ان کی شناخت ممکن ہو وہ بھی شائع نہیں کی جاسکتی۔ وہ نڈھال مگر خوش نظر آ رہی تھیں لیکن وہ اسرائیل کے طبی عملے کی بہت ممنون تھیں۔

شام میں ان کے آبائی گاؤں کے چھوٹے سے کلینک میں جب انھیں لے جایا گیا تو وہ تکلیف میں تھیں لیکن انھیں بتایا گیا کہ ان کو وہاں طبی مدد نہیں دی جا سکتی۔

ان کے پریشان حال خاوند جانتے تھے کہ ان کا علاج اسرائیل میں ہو سکتا ہے، لہٰذا انھوں نے اسرائیل کی طرف پر خطر راستے اختیار کرنے کی ٹھانی اور اس کے لیے ان کے پاس وقت بھی کم تھا۔

ان کو اسرائیل کی سرحد کے قریب اس علاقے تک لے جایا گیا جہاں سے جنگ بندی لائن کے پار خار دار تاروں کے اندر گشت کرنے والے اسرائیلی فوجیوں پر ان کی نظر پڑ سکے۔ شام اور اسرائیل کے درمیان یہ خار دار تار جنگ بندی لائن کی نشاندہی کرتی ہے۔

انھیں ایک اسرائیلی فوجی ایمبیولینس کے ذریعے ہپستال لے جایا گیا اور وہ بروقت ہسپتال پہنچنے میں کامیاب ہو گئیں۔

انسانی رابطے جن کے ذریعے اس خاتوں کو شام کی خانہ جنگی میں گھرے ان کے گاؤں سے شام اسرائیل کی جنگ بندی لائن تک اور پھر اسرائیل کے اندر ہپستال تک لے جایا گیا، وہ شام میں موجود راہبروں، اسرائیلی فوج کے طبی عملے اور تفت میں ڈاکٹروں اور نرسوں کو آپس میں منسلک کرتا ہے۔

یہ نظام خاص طور پر خواتین کے لیے بہترین انداز میں کام کر رہا ہے اور اب یہ ایک معروف طریقہ ہو گیا ہے۔

Image caption یہ نظام خاص طور پر خواتین کے لیے بہترین انداز میں کام کر رہا ہے

شام کی اندوہناک کہانی میں اسرائیل کے ہپستال میں بچے کو جنم دینے والی یہ 177ویں ماں بن گئی ہیں۔

شام اور اسرائیل ایک دوسرے کے دیرینہ دشمن ہیں اور ان دونوں ملکوں کے تعلقات میں ایک مسلسل جنگ کی کیفیت موجود ہے۔

مریضوں کو علاج کی غرض سے شام سے اسرائیل لائے جانے کا سلسلہ جو نو ماہ قبل پہلے مریض کے لائے جانے سے شروع ہوا تھا اب ایک مستقل شکل اختیار کر گیا ہے اور شام سے آنے والے بعض مریض تو اسرائیلی ڈاکٹروں کے نام شام کے ڈاکٹروں کے تعریفی رقعے بھی لے کر آنے لگے ہیں۔

اسرائیل کے ہسپتال کے ڈاکٹر آسکر ایمبون نے کہا کہ ہسپتال کے عملے اور جن لوگوں کا وہ علاج کر رہے ہیں ان میں خوبصورت رشتہ بن رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جن مریضوں کا وہ علاج کرتے ہیں وہ ان کے شکرگزار ہوتے ہیں اور دونوں ملکوں میں پرامن تعلقات کے قیام کی دعائیں کرتے ہیں۔

اسی بارے میں