پاکستان میں لشکرِ طیبہ کی جڑیں مزید گہری؟

Image caption لشکرِ طیبہ اب پاکستان میں ایک سماجی و سیاسی تنظیم جماعت الدعوۃ کے نام سے سرگرم ہے

بھارت اور امریکہ کے دباؤ کے باوجود ممبئی حملوں کی مبینہ طور پر ذمہ دار تنظیم لشکرِ طیبہ کے خلاف پاکستان میں ابھی تک کوئی ٹھوس کارروائی نہیں ہوئی ہے۔

اس تنظیم کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے ماہرین اور امریکہ میں کچھ عرصہ پہلے جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اس کی جڑیں اب کافی گہری ہو چکی ہیں۔

پاکستانی تجزیہ کار اور مصنف عارف جمال طویل عرصے سے لشکرِ طیبہ پر کام کر رہے ہیں اور ان کی کتاب ’ کال فار ٹرانس نیشنل جہاد‘ جنوری میں شائع ہو رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ گذشتہ چار سالوں میں لشکرِ طیبہ کافی طاقتور ہو چکی ہے اور اس کی جڑیں اب صرف پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ہی نہیں بلکہ بلوچستان، سندھ اور خیبر پختونخوا تک پھیل چکی ہیں۔

لشکرِ طیبہ اب پاکستان میں ایک سماجی و سیاسی تنظیم جماعت الدعوۃ کے نام سے سرگرم ہے۔ عارف جمال کہتے ہیں: ’ممبئی حملوں کے ایک سال بعد تک تو ان پر سختی تھی، لیکن اب انہیں کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔‘

دہشت گردی کے خلاف تحقیق کرنے والے ادارے امریکی فوجی اکیڈمی کی ایک رپورٹ کے مطابق ایسے بھی معاملے سامنے آئے ہیں جہاں لشکر کے شدت پسند کے بھائی یا والد پاکستانی فوج یا فضائیہ میں کام کر رہے ہیں۔

رپورٹ کی شریک مصنفہ كرسٹين فیئر کا کہنا ہے کہ ’ایک واقعہ ایسا بھی معلوم ہوا جس میں لشکرِ طیبہ کے ایک شدت پسند کے چچا پاکستانی جوہری توانائی کے ادارے کے ملازم تھے۔‘

پاکستانی کی حکومت اور فوج دونوں ہی لشکرِ طیبہ سے کسی بھی طرح کے تعلق سے انکار کرتے ہیں، تاہم لشکرِ طیبہ کے لیڈر حافظ سعید پاکستان میں بلا روک ٹوک گھومتے ہیں اور جلسوں میں بھارت اور امریکہ کے خلاف تقریریں کرتے ہیں۔

عارف جمال کا کہنا ہے کہ پاکستانی میڈیا بھی ان کی تشہیر کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے، ’پاکستانی ٹی وی پر حافظ سعید بہت بڑا چہرہ ہے اور ٹی وی پر انہیں عالمِ دین اور مذہبی رہنما کی طرح پیش کیا جاتا ہے نہ کہ جہادی کے طور پر۔‘

ایسے میں کوئی پاکستانی حکومت چاہے بھی تو کیا لشکر کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے؟

امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کا کہنا ہے کہ یہ اب کسی کی حکومت کے لیے آسان نہیں ہے۔

انہوں نے کہا: ’پاکستان میں اب بھی عام رائے ہر طرح کی دہشت گردی کے خلاف ویسی نہیں ہے، جیسی ہونی چاہیے اور اس سے لشکر کی طاقت اور بڑھی ہے۔‘

حسین حقانی کہتے ہیں کہ اگر کوئی لشکر پر تنقید کرتا بھی ہے، تو اسے امریکہ کا ایجنٹ کہہ کر چپ کرا دیا جاتا ہے۔

القاعدہ سے تعلق؟

پانچ سال قبل ممبئی میں ہونے والے حملوں کے بعد کسی بڑی شدت پسند کارروائی میں لشکرِ طیبہ کا نام نہیں آیا ہے، لیکن امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے کئی سابق افسران اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے لشکرِ طیبہ اب صرف بھارت کے خلاف کام کرنے والی تنظیم نہیں رہی بلکہ اس کے تار القاعدہ سے جڑ چکے ہیں۔

حسین حقانی کہتے ہیں اب امریکہ میں بھی لشکرِ طیبہ کے بارے میں تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے: ’اگر مستقبل میں پھر کوئی حملہ ہوا تو امریکہ سے لشکر کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کا مطالبہ زور پکڑ سکتا ہے۔‘

ممبئی حملوں میں جو لوگ مارے گئے ان میں چھ امریکی بھی تھے اور گذشتہ سالوں میں لشکر کے رہنماؤں کے امریکہ مخالف بیانات میں اضافہ ہوا ہے لیکن امریکہ نے اس تنظیم کے خلاف کبھی براہ راست کارروائی نہیں کی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فی الحال امریکہ پاکستان کو مزید ناراض نہیں کرنا چاہتا لیکن ان کا خیال ہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی کے بعد حالات بدل سکتے ہیں۔

اسی بارے میں