لونگے والا کی’اصل‘ کہانی

Image caption میجر جنرل آتما سنگھ نے اپنی کتاب میں کہا ہے کہ سنہ 1971 کی جنگ کے دوران لونگے والا کی لڑائی میں بھارتی فوج کی فتح کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے

بھارتی فوج کے ایک ریٹائرڈ سینیئر افسر نے دعوی کیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ سنہ 1971 کی جنگ کے دوران لونگے والا کی لڑائی میں بھارتی برّی فوج کی فتح کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے اور بھارتی فوجیوں نے وہاں شجاعت کے وہ کارنامے انجام نہیں دیے تھے جن کا دعوی کیا جاتا ہے۔

یہ حیرت انگیز انکشاف ریٹائرڈ میجر جنرل آتما سنگھ نے کیا ہے جنہیں لونگے والا کی جنگ میں غیر معمولی بہادری دکھانےکے لیے ’ویر چکر‘ سے نوازا گیا تھا جو ملک کا تیسرا سب سے بڑا فوجی اعزاز ہے۔

راجستھان کی سرحد پر لونگے والا کی لڑائی کو بھارتی فوج کی ناقابل فراموش کامیابیوں میں شمار کیا جاتا ہے اور اسے فوج کی تاریخ میں سنہرے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔

جنرل آتما سنگھ نے اپنی کتاب ’لونگے والا، دی ریئل سٹوری‘ (لونگے والا کی اصل کہانی) میں لکھا ہے کہ ’اس لڑائی میں فوج کے کردار کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔‘

انیس سو اکہتر کی جنگ کے وقت آتما سنگھ فوج میں میجر کے عہدے پر فائز تھے اور ان کا دعویٰ ہے کہ اس لڑائی میں بری فوج کے بجائے بھارتی فضائیہ نے فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا۔

وہ پوچھتے ہیں کہ’اگر ہمارے جوانوں نے پانچ دسمبر کو صبح سویرے لونگے والا کی چوکی خالی کر دی تھی تو پھر لونگے والا کی عظیم لڑائی کب اور کہاں لڑی گئی؟‘

اخبار ہندوستان ٹائمز کےمطابق جنرل سنگھ کی کتاب تین دسمبر کو ریلیز ہوگی۔ سنہ 1971 کی جنگ تین دسمبر کو ہی شروع ہوئی تھی۔

جنرل سنگھ کا کہنا ہے کہ ’پانچ دسمبر کی صبح ہی سب سے پہلے پاکستانی ٹینک اس خطے میں دیکھے گئے تھے، لونگے والا کی چوکی سے پانچ کلومیٹردور۔۔۔اس وقت تک چوکی خالی کی جاچکی تھی اور ان ٹینکوں پر بھارتی فضائیہ کے جنگی طیاروں نے بمباری کی تھی۔‘

اس وقت جنرل سنگھ فضائیہ کی بارہ نمبر آبزرویشن پوسٹ کے انچارج تھے۔

بھارتی فوج کے مطابق اس حملے میں دو ہزار آٹھ سو پاکستانی فوجیوں نے حملہ کیا تھا لیکن میجر کے ایس چاندپوری کی قیادت میں تقریباً سو بھارتی جوانوں نے اس حملےکو روکا۔ حملے میں 45 پاکستانی ٹینکوں نے بھی حصہ لیا تھا۔

بعد میں میجر چاندپوری کو مہاویر چکر سے نوازا گیا تھا۔

جنرل سنگھ نے ہندوستان ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا’ یہ زبردستی کامیابی کا سہرا اپنے سر باندھنے والی بات ہے۔ کیا مشین گنوں اور مارٹر سے لیس فوجی ٹینکوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں؟ میں امید کرتا ہوں کہ یہ کتاب اس جھوٹ کو بے نقاب کر دے گی۔‘

لیکن فوج کے ایک سیینئر افسر نے اخبار کو بتایا کہ 23 ویں پنجاب رجمنٹ کے جوانوں نے شاندار کارنامہ انجام دیا تھا کیونکہ وہ اس وقت تک اپنے مورچوں پر ڈٹے رہے جب تک فضائیہ کے جنگی طیارے وہاں نہیں پہنچ گئے۔

اسی بارے میں