ویب سائٹ کے ذریعے ایڈز کے مریضوں کی شادی

Image caption سالہ نیشا ایک شادی شدہ عورت ہے جو ایک عام زندگی گزار رہی ہیں

نیشا اس سرنج کو دیکھ رہی تھیں جس کے ذریعے ان کا خون نکالا جا رہا تھا لیکن انھیں کم ہی اندازہ تھا کہ ان کی نس میں لگائی گئی سوئی ان کی امید اور عزتِ نفس بھی کھینچ رہی تھی۔

حاملہ نیشا مہاراشٹرا ریاست کے شہر پربھانی کے ایک ہسپتال میں معمول کے معائنے کے لیے آئی تھیں لیکن جب انھیں پتا چلا کہ وہ ایڈز میں مبتلا ہیں تو ان کی دنیا تاریک ہو گئی۔

ان کے شوہر کے ٹیسٹ کے نتائج سے ان کے شک کی تصدیق ہو گئی کہ انھیں ایڈز اپنے شوہر سے منتقل ہوا۔ اس کے باوجود اس مرض کے لیے نیشا کو ہی موردِ الزام ٹہھرا کر گھر سے نکالا گیا۔

ان کے شدید خدشات اس وقت صحیح ثابت ہوئے جب ان کا بیٹا پیدا ہوا اور وہ بھی ایڈز کا مریض نکلا۔

نیشا کہتی ہیں کہ جب ان کے شوہر نے انھیں طلاق دے دی تو ان کی جینے کی امید ختم ہوگئی۔ ان کے مطابق ’میں اپنے بیٹے اور اپنے آپ کو مار دینا چاہتی تھی۔‘

نیشا کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’میں دوبارہ شادی کرنا چاہتی تھی لیکن معلوم نہیں تھا کہ شادی کے لیے اپنے جیسا ایڈز کا مریض کیسے ڈھونڈوں۔‘

مشکل میں کچھ عرصہ گزارنے کے بعد انھیں پازیٹو ساتھی ڈاٹ کام positivesaathi.com نامی ویب سائٹ کے بارے میں معلوم ہوا جو کہ ایڈز کے مرض میں مبتلا افراد کی شادی کروانے کے لیے ان کے درمیان مفت رابطے کی ویب سائٹ ہے۔

Image caption انیل کی ویب سائٹ پر رجسٹر شدہ دو تہائی افراد کا تعلق دیہاتی علاقوں سے ہے

آج 42 سالہ نیشا ایک شادی شدہ عورت ہیں جو ایک عام زندگی گزار رہی ہیں۔ انھیں شادی کے لیے پازیٹو ساتھی ڈاٹ کام کے ذریعے کولہاپور سے ایڈز کا مریض ملا جو ان کی اور ان کے 11 سالہ بیٹے کی کفالت کرتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ’ یہ ویب سائٹ میرے لیے مشکل گھڑی میں امید کی کرن ثابت ہوئی۔‘

یہ جذبات ایڈز کے مرض میں مبتلا ان تمام 5000 ہزار افراد کے ہیں جنھوں نے اس ویب سائٹ پر اپنا اندراج کرایا ہے۔

انھیں تباہی کے دہانے سے واپس لانے کے لیے ان سب کو انیل والیو کا شکریہ ادا کرنا ہوگا۔ انیل نے سنہ 2006 میں یہ ویب سائٹ بنائی تھی۔انیل کی عمر 43 سال ہے اور وہ ایک سرکاری افسر ہیں جو سماجی خدمت کا جذبے رکھتے ہیں۔

ٹرانسپورٹ کے محکمے میں وقت طلب نوکری کے باوجود وہ وقت نکال کر ایڈز کے مریضوں کی ساتھی ڈھونڈنے میں مدد کرتے ہیں جو اپنے مرض کی وجہ سے اکیلے رہ گئے ہیں۔

انھوں نے پہلے لاتور کے قصبے میں ٹرک ڈرائیوروں کے ایڈز کے ٹیسٹ کرانے شروع کیے۔

انیل کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک ڈاکٹر نے انھیں ایک ایڈز کے مریض کے بارے میں بتایا جو شادی کے لیے بے چین تھا۔

’اس مریض نے ڈاکٹر کو بتایا کہ اگر انھیں شادی کے لیے ایڈز کی مریض نہیں ملی تو وہ اپنی بیماری ظاہر کیے بغیر ایک صحت مند عورت سے شادی کر لیں گے جس سے ڈاکٹر بہت پریشان تھا۔اس سے مجھے بھی احساس ہوا کہ ان مریضوں کو شریکِ حیات ڈھونڈنے میں کتنی مشکل ہوتی ہے۔‘

انیل نے اپنے ایک قریبی دوست کو بھی ایڈز میں ختم ہوتے دیکھا جنھیں ان کے گھر والوں نے اکیلا چھوڑ دیا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ ایڈز کے مریضوں کو علیحدہ کر کے ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے لیکن انھیں مدد کی ضرورت ہوتی ہے: ’اگر ان کی جذباتی اور جسمانی ضروریات پوری نہ ہوں تو وہ اپنے مرض کو دوسروں تک پھیلا سکتے ہیں۔‘

شادی کے لیے ملاقاتیں

Image caption انیل کہتے ہیں کہ ایڈز کے مریضوں کو علیحیدہ کرکے ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے

انیل کی ویب سائٹ پر رجسٹر شدہ دو تہائی افراد کا تعلق دیہاتی علاقوں سے ہے۔ بھارت کے دیہات میں انٹر نیٹ تک رسائی کی صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے یہ ایک بڑی تعداد ہے۔ بیرونی ممالک میں مقیم بھارتی نژاد 250 افراد نے بھی اس ویب سائٹ پر اندراج کیا ہے۔

ایڈز کے مریضوں کو ملانے کے لیے انیل نے تقریباً ایک درجن کے قریب’ شادی کے لیے ملاقاتوں‘ کا اہتمام بھی کیا۔

تینتالیس سالہ رامیش دھونگدا پونے میں رکشہ ڈرائیور ہیں اور وہ ان سینکڑوں افراد میں سے ایک ہیں جنھوں نے اپنی محبت ڈھونڈنے کے لیے ’شادی کے لیے ملاقاتوں‘ میں شرکت کی۔

ان ملاقاتوں میں وہ اپنی 33 سالہ موجودہ بیوی سے ملے جن کے ساتھ اب وہ عام زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کی بیوی پہلے طلاق یافتہ تھی۔

انیل ان ملاقاتوں کی تشہیر کے لیے اپنے پیسوں سے پوسٹر چھاپ کر عوامی مقامات پر چسپاں کرتے ہیں۔

’سولاپور کے ہسپتال میں ہونے والی پہلی ’شادی کے لیے ملاقات‘ میں صرف چالیس افراد شریک ہوئے جبکہ مجھے 300 افراد کی شرکت کی توقع تھی جن کے لیے میں نے ناشتے اور دوپہر کے کھانے کا انتظام کیا تھا۔ بعد میں ہمیں اضافی کھانا ہسپتال کے غریب مریضوں میں تقسیم کرنا پڑا۔‘

ان ملاقاتوں میں لوگوں کی شرکت میں اس وقت اضافہ ہونے لگا جب انیل نے بعض غیر سکاری تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کرنا شروع کیا۔

جب انھیں اندازہ ہوا کہ ان ملاقاتوں میں خواتین کی نسبت مرد زیادہ آنے لگے تو انھوں نے خواتین کو کرایہ دینے کی پیشکش شروع کی۔وہ اپنی جیب سے ہزاروں روپے خرچ کر چکے ہیں لیکن انھیں خوشی ہے کہ ان ملاقاتوں میں شریک خواتین کی تعداد دوگنی ہوگئی۔

انیل کہتے ہیں کہ میرا کام صرف ان لوگوں کو ملانا ہے باقی یہ ایک دوسرے کے ساتھ براہِ راست رابطے کرتے ہیں اس لیے وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ ان کے ذریعے کتنی شادیاں ہوئیں ہیں۔

لیکن انیل کو موصول ہونے والے شکریے کے پیغامات اور ویب سائٹ سے اندازہ ہوتا ہے کہ 200 سے 400 کے درمیان شادیاں ہوئی ہوں گی۔

انھیں سب سے بڑی کامیابی سنہ 2010 میں ملی جب پونے میں ایک ملاقات میں ایک ہی دن میں 22 شادیاں ہوئیں۔

انیل اپنے ویب سائٹ کو ایڈز کے مریضوں کی مدد کرنے والی خیراتی اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کو اکٹھا کرنے کے لیے بھی استعمال کرتا ہے۔

(ایڈز کے مریضوں کی درخواست پر اس مضمون میں ان کے نام تبدیل کیے گئے ہیں۔)

اسی بارے میں