افغان انصاف کے لیے طالبان کے پاس کیوں جاتے ہیں؟

طالبان عدالت
Image caption ’طالبان ججوں نے قران اور شریعت کی روشنی میں مقدمے کا فیصلہ کیا‘

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں صدر حامد کرزئی کی حکومت بننے کے 12 برس بعد بھی افغانستان کے بڑے بڑے دیہی علاقوں میں حکومت کا نام و نشان تک نہیں ہے۔

ان میں سے بیشتر علاقوں میں طالبان کی حکومت اور نظامِ عدل نافذ ہے۔

صوبہ کُنڑ کے چھاپادرہ ضلعے میں بی بی سی کے نامہ نگار بِلال سروری نے دو افراد سے ملاقات کی جن میں سے ایک نے انصاف کے لیے سرکاری جج سے رابطہ کیا اور دوسرے نے طالبان کا ُرخ کیا۔

اس ضلع کے ایک گاؤں میں 57 سالہ گُل زمان رہتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ گذشتہ تین برسوں میں ان کے ساتھ دو بڑے سانحے ہوئے ہیں۔

کچھ لوگوں نے معمولی سے جھگڑے پر ان کے بھائی محمد زمان کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ تین سال تک انھوں نے انصاف کے لیے ضلعے کے ہر جج اور افسر کا دروازہ کھٹکھٹایا لیکن صرف ان کی شکایت سننے کے لیے ہی لوگ رشوت کا مطالبہ کرتے تھے۔

گُل زمان کا کہنا تھا کہ وہ رشوت نہیں دے سکتے تھے اس لیے انھیں جانوروں کی مانند عدالتوں سے نکال باہر کر دیا جاتا تھا۔

گُل زمان کا کہنا تھا کہ اس دوران ان کے بھائی کے قاتل کھلے عام گھومتے پھرتے تھے۔

گُل زمان کا کہنا تھا کہ تین سال بعد ان میں سے ایک قاتل نے ان کے دوسرے بھائی کو قتل کر دیا تاہم اس مرتبہ اسے گرفتار ضرور کیا گیا جس سے گُل زمان کو لگا کہ شاید انھیں انصاف مل جائے گا۔

گل زمان نے بتایا کہ جب وہ مقدمے کی سماعت کے لیے عدالت کےدروازے پر پہنچے تو جج کے بھائی نے ان سے پوچھا کہ وہ جج کو کیا دے سکتے ہیں جس پر انھوں نے کہا کہ دینے کے لیے ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔

Image caption ’ملزم نے ایک گائے، ایک بچھڑا اور دس کلو اخروٹ دینے کا وعدہ کیا جس پر جج نے فیصلہ اس کے حق میں دے دیا اور میرے بھائی کا قاتل آزاد ہوگیا‘

گُل زمان نے کہا کہ ’جج نے یہی سوال ملزم سے بھی پوچھا جس پر ملزم نے ایک گائے، ایک بچھڑا اور دس کلو اخروٹ دینے کا وعدہ کیا جس پر جج نے فیصلہ اس کے حق میں دیا اور میرے بھائی کا قاتل آزاد ہوگیا۔‘

گُل زمان کا کہنا ہے کہ لوگ عدلیہ کے پورے نظام سے تنگ آ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وہ آخری امید کے ساتھ صدر حامد کرزئی اور طالبان سے درخواست کر رہے ہیں۔

گُل زمان کے باغیچے میں بلال سروری کی ملاقات گاؤں کے ایک اور باشندے فضل محمد سے ہوئی۔

فضل محمد نے بتایا کہ ان کے گھر کے چار افراد زمین کے ایک جھگڑے میں قتل کر دیے گئے جس کے بعد وہ بھی سرکاری ججوں کے پاس گئے اور انھیں بھی رشوت کے لیے ہراساں کیا گیا۔

فضل محمد نے بتایا کہ اس کے بعد وہ ضلعے میں واقع طالبان سینٹر میں گئے جہاں طالبان ججوں اور ملا نے سماعت کے دوسرے دن ملزمان کو پیش کیا۔ انھوں نے بتایا کہ طالبان ججوں نے قران اور شریعت کی روشنی میں مقدمے کا فیصلہ کیا۔

’انھوں نے ملزمان کو فوری طور پر ہماری زمین واپس کرنے کا حکم دیا۔ اگرچہ ملزمان اس فیصلے سے خوش نہیں تھے لیکن طالبان نے انھیں یہ فیصلہ قبول کرنے پر مجبور کیا اور اس طرح یہ کیس ایک ہفتے میں حل کر دیا گیا۔‘

طالبان ججوں نے انھیں ایک دستاویز بھی دی جس کے مطابق اب متنازع زمین فضل محمد کی ملکیت تھی۔ انھوں نے بتایا کہ اب اگر کوئی اسے واپس چھیننے کی کوشش کرے گا تو اسے طالبان کے عتاب کا نشانہ بننا ہوگا۔

چھاپا درہ کے گورنر محمد صفی کا کہنا ہے کہ یہ درست ہے کہ ضلعے میں قانون نام کی چیز نہیں ہے: ’ضلعے میں نہ تو جج ہیں اور نہ ہی سرکاری وکیل۔ لوگ شکایت لے کر جائیں بھی تو کہاں جائیں؟‘

انھوں نے کہا کہ اس ضلعے میں طالبان کے حملوں کی وجہ سے کوئی بھی جج یہاں کام کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

صوبے کے دارالحکومت اسد آباد میں سرکاری وکیل نے عدلیہ میں بدعنوانی کے الزامات پر بات کرنے سے انکار کر دیا تاہم ان کا خیال ہے کہ کنڑ ضلعے کے کم از کم چار اضلاع میں نہ تو کوئی جج ہے اور نہ ہی سرکاری وکیل۔

افغانستان کے دیہی علاقوں میں بنیادی سرکاری سہولیات نہ ہونے کے سبب بحران کی کیفیت ہے اور ہزاروں لوگ طالبان کے نافذ کردہ عدالتی نظام کا رخ کر رہے ہیں۔ ان کے خیال میں طالبان کا نظام سخت ضرور ہے لیکن موثر بھی ہے۔

اسی بارے میں