’فون میرا ہی تھا، ٹویٹ نہیں!‘

Image caption ترون تیج پال پر ایک ساتھی صحافی خاتون پر جنسی حملہ کرنے کا الزام ہے۔

اگر آپ ٹوئٹر استعمال کرتے ہیں تو ترون تیج پال کا نام اب تک آپ سن ہی چکے ہوں گے: تہلکہ میگزین اور ویب سائٹ کے مالک جنھوں نے انڈین صحافت میں ’سٹنگ آپریشنز‘ کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ اس وقت نشانے پر بی جے پی کے لیڈر تھے لیکن اب ریپ کے الزام میں ترون خود جیل میں ہیں۔

سپریم کورٹ کی سینئر وکیل میناکشی لیکھی بی جے پی کی ترجمان ہیں۔

اخبارات کا کہنا ہے کہ انہوں نے ترون تیج پال پر ریپ کا الزام لگانے والی خاتون کا نام اپنی ایک ٹویٹ میں شامل کیا جو قانوناً جرم ہے۔ کچھ ہی دیر بعد یہ ٹویٹ ہٹا لی گئی اور بظاہر انھوں نے ایک صحافی سے کہا کہ جیسے ہی انھیں غلطی کا احساس ہوا، انہوں نے ٹوئٹر سے یہ پیغام ہٹا لیا۔

اس کے بعد شاید انہیں دوبارہ اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اب ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنا فون گاڑی میں بھول گئی تھیں۔ ٹوئٹر پر یہ پیغام انہوں نے پوسٹ کیا ہی نہیں تھا، ان کے فون کا غلط استعمال کیا گیا ہے۔ یعنی فون ان کا تھا، ٹویٹ نہیں، لہٰذا ذمہ داری بھی نہیں!

میناکشی لیکھی بڑی وکیل ہیں، انہیں قانون کا مشورہ تو نہیں دیا جاسکتا لیکن اتنا تو بتا ہی سکتے ہیں کہ اوّل تو فون گاڑی میں چھوڑنے سے بچیں، فون چھوڑیں تو گاڑی لاک ضرور کریں، یا اپنے ڈرائیور سے کہیں کہ گاڑی کے قریب ہی رہے کیونکہ سنا ہے کہ دلی میں بہت شاطر لوگ بس یہاں وہاں موقعے کی تلاش میں گھومتے رہتے ہیں، ادھر گاڑی میں کسی کا فون نظر آیا اور بس ٹویٹ کر دیا۔

ان لوگوں کو نہ قانون کی سمجھ ہے اور نہ پروا! لیکن یہ لوگ بنیادی طور پر برے نہیں ہیں، ٹوئٹر اکاؤنٹ استعمال کرنے کے بعد وہ قیمتی فون گاڑی میں ہی چھوڑ جاتے ہیں!

فساد نہیں ہوا یا یاد نہیں ہے؟

Image caption نریندر مودی کا دعوی ہے کہ گزشتہ دس برسوں میں ان کی نگرانی کے دوران گجرات میں کوئی مذہبی فساد نہیں ہوا ہے

سنہ 1984 میں جب اندرا گاندھی کو ان کے اپنے سکھ محافظوں نے قتل کر دیا اور پھر ملک بھر میں جہاں جس کا دل چاہا اس نے پوری سکھ قوم سے انتقام لیا۔ اس موقعے پر راجیو گاندھی نے کئی روز تک جاری رہنے والی اس خونریزی کے بارے میں کہا تھا کہ ’جب کوئی بڑا درخت گرتا ہے تو زمین ہلتی ہی ہے!‘

زمین ہلی پھر ہلنا بند ہوگئی لیکن کانگریس آج تک اپنے دامن سے یہ داغ پوری طرح صاف نہیں کر پائی ہے۔ جب بھی ٹی وی پر کوئی انتخابی بحث ہوتی ہے، اور نریندر مودی کے دور اقتدار کا ذکر آتا ہے تو بی جے پی سب سے پہلے سنہ 1984 کے فسادات کا ذکر کرتی ہے اور جواب میں کانگریس گجرات میں سنہ 2002 کے مسلم مخالف فسادات کا۔ (1992 میں بابری مسجد کی مسماری اور اس کے بعد ملک کے کئی حصوں میں رونما ہونے والے مسلم مخالف فسادات کا ذکر مشکل سے ہی ہوتا ہے کیونکہ مسجد منہدم کرنے میں تو قوم پرست جماعتیں پیش پیش تھیں لیکن کانگریس بھی دامن سے ذمہ داری نہیں جھاڑ سکتی کیونکہ اس وقت دلی اور مہاراشٹر دونوں جگہ کانگریس کی ہی حکومت تھی۔)

لیکن وزارت عظمٰی کے لیے بی جے پی کے امیدوار اور گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی نے اس پوری بحث میں ایک نیا پہلو جوڑ دیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ دس برسوں میں ان کی نگرانی کے دوران گجرات میں کوئی مذہبی فساد نہیں ہوا ہے۔

اور یہ بات ہے بھی سچ!

نریندر مودی صاحب، یہ واقعی بہت تعریف کی بات ہے، آپ کی حکمرانی کو سلام! لیکن افسوس کہ تاریخ وہاں سے شروع نہیں ہوا کرتی جہاں سے آپ کرنا چاہتے ہیں۔ اگر ہوسکتی تو پھر سب کے ہی دامن بے داغ ہوتے۔

امیر اور امیر ہو جائیں گے!

دلی کے تاریخی لودھی گارڈن میں اب صبح سیر و تفریح کے لیے آنے والے دولت مند لوگ بیت الخلا کا مفت استعمال کرسکیں گے۔ جو لوگ بیت الخلا کی حدود کی پروا نہیں کرتے ان کے لیے یہ سہولت پہلے سے ہی فری ہے۔

لودھی گارڈن میں تاریخ بکھری پڑی ہے، فن تعمیر کے کچھ بے مثال نمونے جو 15ویں صدی میں لودھی سلسلے کے طاقتور سلطانوں نے تعمیر کرائے تھے۔ اس علاقے میں انتہائی دولت مند اور با رسوخ لوگ رہتے ہیں۔ اب یہاں پیشاب کرنے کے لیے ان بے چاروں کو پانچ روپے نہیں دینے پڑیں گے، مندی کے اس دور میں جہاں بچت ہوجائے، کیا بری ہے۔

اسی بارے میں