کرزئی اپریل میں صدارتی انتخابات کے حق میں نہیں

Image caption صدر کرزئی اور امریکی حکومت میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے

افغان صدر حامد کرزئی نے شدید موسم اور برفباری کی وجہ سے ملک کے آئندہ صدارتی انتخابات اپریل میں نہ کرائے جانے کی تجویز دی ہے۔

افغان صدر کی طرف سے انتخابات کو موخر کرنے کی تجویز سے لازمی طور پر امریکی حکام تشویش میں مبتلا ہوں گے اور وہ ناقدین بھی جن کا کہنا ہے کہ حامد کرزئی اپنے اقتدار کو طول دینا چاہتے ہیں۔

افغان صدر ملک کے آئین کے تحت تیسری مدت کے لیے صدارتی انتخابات میں شرکت نہیں کر سکتے۔ آئندہ صدارتی انتخابات کے لیے حامد کرزئی نے کھل کر کسی امیدوار کی حمایت کرنے کا اعلان نہیں کیا ہے، لیکن قوی امکان یہی ہے کہ وہ اپنے بڑے بھائی قیوم کرزئی کی حمایت کریں گے جنھیں ان انتخابات میں مضبوط امیدوار تصور کیا جا رہا ہے۔

قبل ازیں صدر کرزئی نے صدارتی انتخابات سے پہلے امریکہ کے ساتھ افغانستان میں امریکی فوج کی موجودگی کے حوالے سے ایک طویل المدتی معاہدے کی توثیق کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ صدر کرزئی نے کہا تھا کہ اس معاہدے کی توثیق نئے صدر کو کرنی چاہیے جبکہ امریکہ اس معاہدے کو جلد از جلد کرنے کے حق میں ہے۔ افغانستان کے ڈھائی ہزار سے زیادہ عمائدین نے لویا جرگے میں اس معاہدے کی منظوری دے دی تھی۔

مبصرین کا خیال ہے کہ صدر کرزئی اس معاہدے پر دستخط کرنے سے اس لیے انکار کر رہے ہیں کہ وہ کسی نہ کسی طرح اپنی اہمیت برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

اپریل کے مہینے میں ملک میں شدید موسم کے ضمن میں افغانستان کے الیکشن کمیشن کے سربراہ یوسف نورستانی بھی ایوان بالا میں اپنی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔

صدر کرزئی نے کہا ہے کہ صدارتی انتخابات کی تاریخ میں رد و بدل کیا جا سکتا ہے کیونکہ انھیں عوام کی طرف سے بڑی تعداد میں اس بارے میں درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔

انتخابات کی تاریخوں میں تبدیلی کرنے کی تجویز افغان حکام کی طرف سے یہ بات سامنے آنے کے بعد پیش کی گئی ہے جس میں کہا گیا کہ اپریل کے دوران ملک کے کئی حصوں میں شدید موسم اور برفباری کی وجہ سے سڑکیں بھی مسدود ہو جاتی ہیں اور پولنگ سٹیشنوں تک پہنچنا ممکن نہیں رہتا ۔

گو کہ انتخابی قوانین میں الیکشن کی تاریخ میں رد و بدل کرنے کی گنجائش نہیں ہے لیکن حامد کرزئی کی طرف سے الیکشن کمیشن میں نامزد کردہ ایک رکن نے کہا ہے کہ اس خدشے کے پیش نظر کہ ملک کے کئی حصوں میں لوگ اپنا حق رائے دہی استعمال نہیں کر سکیں گے، انتخابات ملتوی کیے جا سکتے ہیں۔

Image caption لویا جرگہ امریکہ کے ساتھ معاہدے کی منظوری دے چکا ہے

برطانوی خبر رساں ادارے نے الیکشن کمیشن کے ایک اہلکار کے حوالے سے، جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، کہا ہے کہ ایسا ممکن ہے لیکن ایک بات واضح ہے کہ وہ ایسا کہہ نہیں رہے کیوں کہ یہ ابھی قبل از وقت ہے۔

ناقدین اور غیر ملکی سفارت کار ایک عرصے سے یہ خدشات ظاہر کر رہے ہیں کہ کرزئی خراب موسم اور سکیورٹی کی مخدوش صورت حال کا بہانہ بنا کر انتخابی تاریخوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں گے۔ ملک میں 2001 میں طالبان کی حکومت کے بعد سے یہ پہلا موقع ہو گا کہ ملک میں اقتدار جمہوری طریقے سے ایک منتخب صدر سے دوسرے منتخب صدر کو منتقل ہو۔

الیکشن کمیشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صدر سمیت کسی کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ انتخابی تاریخوں کو تبدیل کر سکے۔

الیکشن کمیشن کے ترجمان نور محمد نور نے کہا کہ کچھ منتخب ارکان نے الیکشن کمیشن کے سربراہ سے پوچھا ہے کہ موسم کی وجہ سے کیا انتخابی تاریخوں میں رد و بدل کی جا سکتی ہے۔

ترجمان نے کہا ہے کہ آئین اس بارے میں بالکل واضح ہے اور صدر سمیت کوئی بھی انتخاب کو ملتوی نہیں کر سکتا۔

الیکشن کے عملے کا کہنا ہے کہ ناقص سکیورٹی انتظامات، انتخابی مبصرین کی کمی اور ناکافی مالی وسائل کی وجہ سے وہ گذشتہ انتخابات کی طرح وسیع پیمانے پر شفاف انتخابات کرانے سے قاصر ہیں۔

مغربی ممالک جو افغانستان میں طالبان کی مزاحمت کو ختم کرنے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کر چکے ہیں افغانستان کے صدارتی انتخابات کے لیے اقوام متحدہ کے فنڈ میں کل انتخابی اخراجات کا تیسرا حصہ دینے کا وعدہ کر چکے ہیں۔

الیکشن کے عملے میں پائی جانے والی کرپشن کی وجہ سے اقوام متحدہ، افغان اور آزاد ذرائع بھی یہ خدشہ ظاہر کر چکے ہیں کہ جو لوگ الیکشن فراڈ کو روکنے کی کوشش کریں گے ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

خواتین ورکرز کی کمی کی وجہ سے بہت سی خواتین کے حق رائے دہی سے محروم رہ جانے کا خدشہ ہے اور بہت سے پولنگ اسٹیشنوں کی نگرانی بھی ممکن نہیں رہتی۔

امریکی اور افغان حکومت کے درمیان معاہدہ نہیں ہوتا تو اس صورت میں افغانستان کو ملنے والی مالی امداد بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے اور ملک کی معیشت بیٹھ سکتی ہے اور ملک دوبارہ لسانی اور علاقائی تنازعات میں الجھ سکتا ہے۔

اپریل میں انتخابات کرانے کے حق میں ایک دلیل یہ پیش کی جا رہی تھی کہ شدید موسمی حالات میں طالبان کے حملے کم ہو جاتے ہیں اور ملک میں قدرے امن ہوتا ہے۔

اسی بارے میں