بھارت: سپریم کورٹ کا سابق جج کے خلاف کارروائی سے انکار

Image caption یہ واقعہ دہلی کے ایک ہوٹل میں گذشتہ برس دسمبر میں پیش آیا تھا

بھارت کی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ وہ ایک سابق جج کے خلاف ایک خاتون وکیل کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات سامنے آنے کے بعد کارروائی نہیں کرے گی۔

عدالت کے مطابق بادی النظر میں شواہد موجود ہیں کہ اے کے گانگولی نے ناپسندیدہ طرِزعمل کا مظاہرہ کیا تاہم اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ ان کے خلاف اس لیے قانونی کارروائی نہیں کرے گی کیونکہ وہ ریٹائرڈ جج ہیں۔

سپریم کورٹ نے اس معاملے کی تفتیش کے لیے تین ججوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے جعمرات کو اپنے فیصلے میں کہا ’بادی النظر میں شواہد موجود ہیں کہ گانگولی نے ناپسندیدہ طرِزعمل کا مظاہرہ کیا۔‘

بھارت کے چیف جسٹس نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ تین ججوں پر مشتمل کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ اس معاملے میں مزید کسی کارروائی کی ضرورت نہیں ہے۔

عدالتی کمیٹی کے مطابق جب یہ واقعہ پیش آیا تو خاتون وکیل ’انٹرن‘ کی حیثیت سےجسٹس گانگولی کے ساتھ کام کر رہی تھیں تاہم یہ الزامات ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد سامنے آئے۔

خیال رہے کہ بھارت کے ریٹائرڈ جسٹس اے کے گانگولی پر ایک خاتون وکیل نے جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

ادھر اے کے گانگولی نے خاتون وکیل کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا: ’مجھے یہ سن کر بڑی حیرت ہوئی ہے اور میں ان الزامات کو یکسر مسترد کرتا ہوں۔ خاتون نے کبھی مجھ سے کوئی شکایت نہیں کی تھی۔‘

خاتون وکیل سٹیلا جیمز نے گذشتہ ماہ اپنے بلاگ میں لکھا تھا کہ کس طرح جج نے انھیں دہلی کے ایک ہوٹل جنسی طور پر ہراساں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ دہلی کے ایک ہوٹل میں گذشتہ برس دسمبر میں پیش آیا تھا۔

نامہ نگاروں کے مطابق ایک خاتون وکیل کی جانب سے کسی جج کے خلاف جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات سامنے آنے کے بعد بھارتی معاشرے کو صدمہ پہنچا تھا اور خاص طور پر اس وقت جب بس ریپ کیس کے خلاف دہلی کی سڑکوں پر بڑے مظاہرے کیے جا رہے تھے۔

بھارت میں گذشتہ کچھ عرصے سے جنسی زیادتیوں کے کیس سرخیوں میں رہے ہیں اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ زیادہ آگہی کی وجہ سے اب جنسی زیادتی کا شکار بننے والی لڑکیاں نسبتاً زیادہ بڑی تعداد سامنے آ رہی ہیں۔

اسی بارے میں