دنیا نے ایک مدبر اور انڈیا نے ایک پرانا دوست کھو دیا ہے

Image caption نیلسن منڈیلا کے انتقال سے دنیا نے ایک مدبر اور انڈیا نے ایک پرانا دوست کھو دیا ہے

جنوبی افریقہ کے سابق صدر نیلسن منڈیلا انڈیا کے دوست تھے لیکن اس دوستی کی بنیاد 19ویں صدی کے اواخر میں اس وقت رکھ دی گئی تھی جب مہاتما گاندھی وکیل کی حیثیت سے جنوبی افریقہ گئے تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہاں انگریزوں کی جابرانہ حکومت کے خلاف تحریک کی علامت بن گئے۔

منڈیلا کا دور اس کے تقریباً نصف صدی بعد آیا۔ لیکن خود نیلسن منڈیلا نے نے بار بار اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس بات کا ذکر کیا کہ کس طرح گاندھی کے فلسفے نے انھیں متاثر کیا۔ لیکن پھر نسل پرستی کے خلاف ان کی تحریک میں ایک ایسا موڑ آیا جہاں انھوں نے گاندھی کے اہنسا یا عدم تشدد کے اصولوں سے کنارہ کرتے ہوئے نسل پرست حکومت کے خلاف مسلح تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔

بعد میں انھوں نے کہا تھا کہ ’اس وقت ہمیں یہ احساس ہوگیا تھا کہ ہتھیار اٹھائے بغیر ہم جابر حکومت کا سامنا نہیں کرسکتے۔‘

سینیئر صحافی آنند سوروپ ورما نے نیلسن منڈیلا کی زندگی کا گہرائی سے جائزہ لیا ہے۔ وہ کہتے ہیں ’منڈیلا گاندھی کے نظریات کی بہت قدر کرتے تھے لیکن ایک بنیادی فرق تھا، گاندھی نے کبھی عدم تشدد کا راستہ ترک نہیں کیا لیکن ضرورت پڑنے پر منڈیلا نے ہتھیار اٹھائے۔‘

لیکن منڈیلانے اپنی سوانح عمری میں لکھا: ’دل سے وہ اس کے حق میں نہیں تھے۔۔۔‘

انڈیا اور پاکستان کی آزادی سے صرف ایک سال بعد جنوبی افریقہ میں 1948 میں قوم پرستوں کی حکومت بنی تھی۔ منڈیلا کہتے تھے کہ ہندوستان کی آزادی کی لڑائی نے جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کے خلاف افریقن نیشنل کانگریس کی مزاحمتی تحریک کی سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

جنوبی افریقہ ہی گاندھی کی تربیت گاہ ثابت ہوا، اور وہیں ان کے سیاسی نظریات اور زندگی کے فلسفے نے ایک ٹھوس شکل اختیار کی۔ وہیں سے انگریزوں کے ساتھ ان کا ٹکراؤ بھی شروع ہوا۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ گاندھی پر جنوبی افریقہ کا بھی اتنا ہی حق تھا جتنا انڈیا کا۔

نسل پرستی کے خاتمے کے بعد جیل سے رہائی پر نیلسن منڈیلا نے کہا تھا کہ وہ سب سے پہلے انڈیا جانا چاہیں گے اور 1995 میں بحیثیت صدر وہ سب سے پہلے انڈیا ہی آئے۔

آنند سوروپ ورما کو منظر اب بھی یاد ہے: ’وہ منظر ایسا تھا جیسے کوئی بھگوان زمین پر اتر آیا ہو۔ ہر کوئی اسے دیکھنا چاہتا ہو، جو نزدیک تھا اسے چھونا چاہتا ہو ۔۔۔ جب وہ سٹیج پر آئے تو اتنی دیر تک تالیاں بجیں، اتنے دیر تک نعرے بلند ہوئے، وہ ایک ایسا منظر تھا کہ جسے بھلایا نہیں جاسکتا۔‘

جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم نے بھی پابندی کے بعد بین الاقوامی کرکٹ کا دوبارہ آغاز انڈیا کے خلاف ہی سیریز سے کیا تھا۔ اور انڈیا نے ہی سب سے پہلے اقوام متحدہ میں جنوبی افریقہ کے خلاف اقتصادی پابندیوں کا مطالبہ کیا تھا۔

نسل پرستی کے دور میں انڈین پاسپورٹ پر یہ مہر لگائی جاتی تھی کہ اس دستاویز کو جنوبی افریقہ کے علاوہ ہر ملک کے سفر کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

نیلسن منڈیلا کے انتقال سے دنیا نے ایک مدبر اور انڈیا نے ایک پرانا دوست کھو دیا ہے۔

اسی بارے میں