فوج تو بڑی لیکن جنرل غائب!

Image caption ان انتخابات میں وزارت عظمی کے دو امیدواروں راہل گاندھی اور نریندر مودی نے انتخابی مہم میں اپنی اپنی جماعتوں کی قیادت کی ہے

اتوار کی صبح سے بھارت کی پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے نتائج آنے شروع ہو جائیں گے۔

نتائج سے ایک روز قبل دارالحکومت دہلی کی فضا میں ایک عجیب سی بے چینی چھائی ہوئی ہے۔

پانچ ریاستوں میں چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش کی دو ریاستوں میں بی جے پی اقتدار میں ہے اور میزورم، راجستھان اور دہلی میں کانگریس کی حکومتیں ہیں۔ مختلف ایگزٹ پولز نے پانچ میں سے چار میں بی جے پی کی فتح کی پیشنگوئیاں کی ہیں۔ اگر نتائج انہیں خطوط پر آئے تو کانگریس کو اپنے اقتدار والی تین ریاستوں میں سے دو ریاستوں میں شکست ہو گی۔

بی جے پی جن دو ریاستوں میں اقتدار میں ہے وہاں اس کی جیت کے امکان تو ہیں لیکن جیت کا فرق پہلے کے مقابلے کم ہونے کا امکان ہے۔

بہت سے سوالات تو نتائج آنے کے بعد ہی حل ہو پائیں گے لیکن چونکہ وزارتٰ عظمیٰ کے دو امیدواروں راہل گاندھی اور نریندر مودی نے انتخابی مہم میں اپنی اپنی جماعتوں کی قیادت کی تھی اس لیے ان انتخابات کے نتائج کو ان دونوں رہنماؤں کی کارکردگی سے بھی منسوب کیا جائے گا۔

ابتدائی دنوں کی سرگرم انتخابی مہم کے بعد راہل گاندھی اچانک میدان سے ہٹ گئے اور کانگریس کی مہم کی ذمے داری مقامی رہنماؤں پر چھوڑ دی گئی۔ راہل گاندھی کافی دنوں سے عوامی طور پر کہیں نظر بھی نہیں آئے ہیں۔

دوسری جانب بی جے پی کی ممکنہ جیت سے پارٹی کے اندر خوشی تو ضرور ہے لیکن بے چینی بھی ہے کہ اگر یہ جیت واضح جیت نہ ہوئی تو یہ نریندر مودی کی امیدواری کے بارے بھی سوال پیدا کرے گی۔

دہلی کی سیاسی فضا اس وقت بہت بوجھل سی ہے۔ سیاسی جماعتوں سے لے کر تجزیہ نگار اور مبصرین سبھی ایک ابہام کی کیفیت میں ہیں۔

لیکن ان انتخابات سے ایک بات ضرور ابھر کر سامنے آئی ہے کہ راہل گاندھی ابھی تک کانگریس کے لیے وہ قیادت دینے کا مظاہرہ نہیں کر سکے ہیں جو پارٹی کو انتخاب جیتنے کے لیے چاہيے۔ وہ عوام کو بھی متاثر نہیں کر سکے ہیں۔

کانگریس کو اس وقت ایک پر اثر، فیصلہ کن اور پر جوش رہنما کی ضرورت ہے۔گاندھی فیملی پر اس کا پورا انحصار اس کے لیے سیاسی طورپر تباہ کن ثابت ہو رہا ہے۔ کانگریس ایک ایسی بڑی فوج کی طرح ہو چکی ہے جو محاذ پر کھڑی ہے لیکن جس کا کوئی جنرل نہیں ہے۔

پارلیمانی انتخابات میں اب پانچ مہینے سے بھی کم باقی بچے ہیں۔ کانگریس نے انتخابی حکمت عملی تیار کرنے کے لیے ایک ’وار روم‘' بنا رکھا ہے۔ اس میں ملک کے بہترین دماغ دن رات کام کر رہے ہیں۔ اس حکمت عملی کا محور راہل گاندھی ہی ہیں۔ پارٹی یہ امید کر رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ مزید موثر اور بدلے ہوئے روپ میں نظر آئیں گے۔

ادھر بی جے پی نے بھی اسی طرز کا ایک ’وار روم‘ بنا رکھا ہے۔

مودی نہ صرف ایک اچھے مقرر ہیں بلکہ وہ خود کو مشتہر کرنے اور میڈیا میں غالب رہنے میں بے مثال ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران ان کی بہت سی کمیاں بھی اجاگر ہوئی ہیں اور آنے والے دنوں میں انہیں ماضی کی اپنی کارکردگی کے بہت سے حساب بھی دینے ہیں۔ لیکن اس طویل انتخابی جنگ میں پہلا راؤنڈ انہیں کے نام ہے۔ بے چینیوں، ابہام اور کنفیوژن کے باوجود بی جے پی اور مودی کو فی الحال کانگریس پر سبقت حاصل ہے۔

اسی بارے میں